سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ ،جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے امکانات پر گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس کی ۹۵ فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور سود سے پاک معاشی نظام کو یقینی بنانا اس کی آئینی ذمہ داری ہے، اسلامی مالیات کے حوالہ سے اچھا رد عمل سامنے آیا ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ اسلامی معاشی نظام کی اہمیت و ضرورت کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اب کھلے دل سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے یہ ارشادات اس رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔ لیکن ہم جناب یاسین انور اور پاکستانی معیشت کے ارباب حل و عقد سے گزارش کریں گے کہ یہ کام خالی تقریروں اور کانفرنسوں سے نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے جن میں ہمارے نزدیک اولین ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے دائر کی جانے والی رٹ واپس لے کر ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کی راہ ہموار کی جائے۔