تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ مارچ ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
پنجاب اسمبلی کی مثبت قرارداد

پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:

  • سرکاری تعلیمی اداروں کے نصابِ تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طور پر شامل کیا جائے۔
  • مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔
  • اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔
  • قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

یہ اگرچہ ایک قرارداد ہے جس کی حیثیت صرف سفارش کی ہے، اس کے باوجود اس حوالہ سے یہ خوش آئند ہے اور اسے منظور کرنے پر تمام ارکان اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ یہ قرآن کریم کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی منتخب اسمبلی کی طرف سے تعلق کا اظہار ہے اور اس سے پاکستان کی نظریاتی شناخت ایک بار پھر جمہوری انداز میں سامنے آئی ہے۔

اس سلسلہ میں ۲۲ مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اور المشرق سائنس کالج گوجرانوالہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے کی۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر محمود احمد (سکول ٹیچر)، مولانا داؤد خان نوید (دینی مدرس)، خرم شہزاد (طالب علم رہنما)، پروفیسر ڈاکٹر انوار اعجاز (ایس ایس اکنامکس)، حافظ عبد الرشید (سکول ٹیچر)، صفدر محمود (سبجیکٹ اسپیشلسٹ)، مولانا محمد عبد اللہ راتھر (الشریعہ اکادمی)، مفتی محمد شفیق (دینی مدرس)، حافظ محمد شفیق (مدرس جامعہ)، ڈاکٹر خالد محمود، جناب عثمان عمر ہاشمی (سماجی راہنما) اور راقم الحروف ابوعمار زاہد الراشدی۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرارداد کی روشنی میں قرآن و حدیث کی تعلیم کے حوالہ سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پیش کرنے والی خاتون رکن اسمبلی محترم عاصمہ ممدوٹ اور منظور کرنے والے تمام ارکان اسمبلی کو مبارکباد دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ قرارداد کے بعد اس سلسلہ میں کوئی باقاعدہ بل بھی اسمبلی میں اس طرح پیش ہو کر متفقہ طور پر منظور ہونا چاہیے تاکہ محض سفارش کی بجائے باضابطہ قانون سازی کے ذریعے ارکان اسمبلی کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس امر کو لمحۂ فکریہ سے تعبیر کیا گیا کہ قیام پاکستان کو ۶۵ برس گزر جانے کے باوجود ابھی ہم اس مرحلہ میں ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی صرف یہ سوچ رہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہمارے تعلیمی اداروں میں کس حد تک ہونی چاہیے، ترجمہ کے ساتھ ہونی چاہیے اور کیا حکومت کو اس کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے چاہئیں؟

اجلاس میں بتایا گیا کہ سرکاری تعلیمی نظام میں اس وقت بھی ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم مڈل تک ضروری ہے اور اس کے لیے امتحان میں نمبر بھی مختص کیے گئے ہیں لیکن عملاً اس کا کوئی اہتمام موجود نہیں ہے۔ نہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت جاری ہونے والی ہدایات میں اس سلسلہ میں کوئی رہنمائی ہوتی ہے، نہ سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ اس کی طرف توجہ دیتے ہیں، اور نہ ہی قرآن کریم کی تعلیم اور امتحان کا کوئی اہتمام ہوتا ہے۔ بلکہ اکثر اداروں میں تعلیم اور امتحان کے بغیر ہی قرآن کریم کے نمبر امتحانی پرچوں پر لگا دیے جاتے ہیں اور اسے دوسرے مضامین کے امتحانات میں طلبہ کے نمبروں کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک سکول ٹیچر نے اجلاس کے دوران بتایا کہ انہوں نے ایک کلاس کے امتحان میں قرآن کریم کا باقاعدہ امتحان لے کر طلبہ کو ان کی حیثیت کے مطابق نمبر دیے تو سکول کے دوسرے اساتذہ نے ان سے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نے طلبہ پر ظلم کیا ہے، اس لیے کہ یہی نمبر تو طلبہ کے دوسرے مضامین میں نمبروں کی کمی کو پورا کرتے ہیں اور امتحان میں ان کے پاس ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اجلاس میں اس صورتحال کو محکمہ تعلیم، تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور ایسا کرنے والے اساتذہ کی غفلت اور لاپروائی قرار دے کر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس کی تلافی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا:

  • ایک تجویز میں کہا گیا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت دی جانے والی ہدایات میں یہ ہدایت شامل کی جائے کہ سرکاری نصاب کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور امتحان کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنایا جائے اور جس طرح ڈینگی کے بارے میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مہم چلائی جائے۔
  • ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ مڈل یا میٹرک کی سند کو قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ مشروط کیا جائے اور قرآن کریم ناظرہ کا باقاعدہ امتحان لینے کے بعد سند جاری کی جائے۔ البتہ اس سے غیر مسلم طلبہ کو مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔
  • ایک تجویز اس سلسلہ میں یہ سامنے آئی کہ اس حوالہ سے اساتذہ کے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے جن میں اساتذہ کو قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت و ضرورت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی رہنمائی اور ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔
  • ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ ہر سکول میں پہلا پیریڈ قرآن کریم کے لیے مخصوص کیا جائے جس میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ نماز اور ضروریات دین کی تعلیم کو ضروری قرار دیا جائے اور متعلقہ استاد کو ہدایت کی جائے کہ محض وقت گزاری کی بجائے سنجیدگی اور دلچسپی کے ساتھ یہ تعلیم دے۔

اجلاس میں اس صورتحال کا جائزہ لیا گیا کہ یہ تو قرآن کریم کی تعلیم کے اس حصہ کی بات ہے جو آج بھی تعلیمی نصاب و نظام کا حصہ ہے مگر محکمۂ تعلیم اور اساتذہ دونوں کی کوتاہی کی وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جبکہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد میں مکمل قرآن کریم یا ترجمہ کی بات کی گئی ہے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اجلاس میں ’’پنجاب قرآن بورڈ‘‘ کا کردار بھی زیربحث آیا جو حکومت پنجاب کی طرف سے باقاعدہ طور پر قائم ہے اور مختلف حوالوں سے متحرک ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ قرآن بورڈ سے رابطہ کر کے اسے اس کی اس طرف توجہ دلائی جائے کہ وہ:

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے جو مبینہ طور پر انتہائی افسوسناک ہے اور جس کی اصلاح کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اس سلسلہ میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کے لیے جامع رپورٹ مرتب کرے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کی باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کرے۔
  • پنجاب اسمبلی کی متذکرہ قرارداد پر عملدرآمد کو اپنے باقاعدہ پروگرام میں شامل کرے اور اسے قانونی بل کے طور پر اسمبلی میں پیش کرانے اور منظور کرانے کے لیے لابنگ اور بریفنگ کا کردار ادا کرے۔

اجلاس میں راقم الحروف نے عرض کیا کہ نئی نسل کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کرانا دستوری طور پر بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور شرعی حوالے سے بھی کسی مسلم حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ عام شہریوں کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں مسلم حکام کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں انہوں نے جن حکام کو مقرر کیا ہے ان کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ ’’لیعلمہم دینہم و سنت نبیہم‘‘ یعنی وہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم کا اہتمام کریں۔

ہمارے ہاں اس سلسلہ میں مسلسل کوتاہی سے کام لیا جا رہا ہے اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ بھی اس کوتاہی میں شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل میں اخلاقی بے راہ روی اور فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہے اور سیکولر لابیاں اور غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز ہماری نئی نسل کی قرآن و سنت کی تعلیمات سے اس بے خبری کی آڑ میں اپنے گمراہ کن ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس لیے حکومتی ادارو کو توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اپنی اپنی جگہ بھی یہ ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے کردار ادا کریں اور نورِ علم کے ذریعے جہالت اور جاہلیت دونوں کا مؤثر مقابلہ کریں۔

درجہ بندی: