ویلفیئر اسٹیٹ، اسوۂ نبویؐ کی روشنی میں

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۲۰ جنوری ۲۰۱۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر بات کی جا سکتی ہے، مگر میں آج ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک ریاست کو اپنی آبادی کے نادار، بے سہارا، ضرورت مند اور بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، اور بہت سی حکومتوں نے اسے اپنی ذمہ داری میں شامل کر رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں میری گزارش یہ ہے کہ ریاست کو شہریوں کی ضروریات کی کفالت کا ذمہ دار قرار دینے کا اعلان سب سے پہلے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور ایک ذمہ دار رفاہی ریاست کا تصور بلکہ عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس حوالہ سے جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ سے چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کا کچھ عرصہ تک یہ معمول رہا کہ کوئی مسلمان فوت ہو جاتا تو اس کا جنازہ پڑھانے سے پہلے یہ پوچھتے تھے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض تو نہیں ہے؟ جواب ملتا کہ نہیں ہے تو جنازہ پڑھا دیتے، اور اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ مقروض فوت ہوا ہے تو سوال کرتے کہ اس کے ترکہ میں قرضہ ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے؟ جواب ملتا کہ موجود ہے تو بھی جنازہ پڑھا دیتے، لیکن اگر یہ پتہ چلتا کہ مرنے والا مقروض فوت ہوا ہے اور اتنا ترکہ نہیں چھوڑا کہ اس کا قرض ادا کیا جا سکے تو آپؐ فرماتے ’’صلوا علی صاحبکم‘‘ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو اور خود نبی اکرمؐ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔ ایک موقع پر ایک جنازے کے لیے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مقروض ہے اور اس کے ترکہ میں ادائیگی کا بندوبست موجود نہیں ہے تو حضورؐ پیچھے ہٹ گئے اور ساتھیوں سے کہا کہ اس کا جنازہ تم لوگ پڑھ لو۔ ایک صحابی رسول حضرت ابو قتادہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے بھائی کو اس سعادت سے محروم نہ کریں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے میں ادا کر دوں گا۔ اس پر نبی کریمؐ نے جنازہ پڑھا دیا اور اس کے بعد اعلان فرمایا کہ ’’من ترک مالا فلورثتہ ومن ترک کلّا او ضیاعا فالیّ وعلیّ‘‘ جو شخص مال و دولت چھوڑ کر فوت ہوا اس کا مال اس کے وارثوں کو ملے گا اور جو شخص قرض کا بوجھ یا بے سہارا افراد چھوڑ کر مرا وہ میرے پاس آئیں گے اور ان کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔

بے سہارا، معذور، ضرورت مند اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی امداد اور کفالت اس سے قبل بھی لوگ کرتے آرہے تھے، اور بہت سے بادشاہ اور سردار لوگ اپنی رعیت کے ایسے افراد سے فراخدلانہ تعاون کرتے تھے۔ لیکن میری طالب علمانہ رائے میں اسے اپنی ذمہ داری قرار دینے کا اعلان سب سے پہلے جناب رسول اکرمؐ نے فرمایا اور پھر اسے نباہ کر بھی دکھا دیا۔ اس لیے اگر رفاہی ریاست کا تصور یہ ہے کہ ریاست و حکومت کو رعیت کے نادار بے سہارا اور معذور لوگوں کی کفالت کا ذمہ دار اور مسئول قرار دیا جائے تو اس کا آغاز نبی کریمؐ کے اس اعلان سے ہوا ہے اور ویلفیئر اسٹیٹ کا نقطۂ آغاز رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ’’فالیّ وعلیّ‘‘ قرار پاتا ہے۔

جناب نبی اکرمؐ نے اس مقصد کے لیے ’’بیت المال‘‘ کا نظام قائم کیا جسے حضرات خلفاء راشدینؓ خصوصاً حضرت عمرؓ نے ایک مربوط نظام کی شکل دی اور آج بھی پوری دنیا میں کسی رفاہی ریاست کے لیے اسے آئیڈیل سسٹم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں، جو اس رفاہی نظام کا ابتدائی اور اساسی دور تھا، اس کی بیسیوں جھلکیاں احادیث مبارکہ میں ملتی ہیں جن میں دو تین کا ذکر کروں گا۔

عام طور پر ضرورت مند پر لوگ حضورؐ کے پاس آتے تھے اور اپنی ضروریات کا اظہار کرتے تھے جنہیں آپؐ بیت المال سے پورا کر دیتے تھے۔ کسی کے ہاں کھانے کو نہیں ہے تو اسے غلہ یا کھجوریں مل جاتی تھیں، کسی کو سواری کی ضرورت ہے تو اسے سواری کا جانور دے دیا جاتا تھا، بلکہ اس سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی ہے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دوران سفر میرا اونٹ مر گیا ہے مجھے سفر کرنا ہے اس لیے سواری کا جانور دے دیں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ٹھہرو میں تجھے اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔ وہ پریشان ہو گیا کہ مجھے تو سفر کے لیے جانور چاہیے، میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ مگر آپؐ نے یہ بات دل لگی کے طور پر فرمائی تھی اور اس قسم کی ہلکی پھلکی دل لگی اپنے ساتھیوں کے ساتھ کبھی کبھی کر لیا کرتے تھے۔ اسے جب زیادہ پریشان دیکھا تو فرمایا، خدا کے بندے میں تجھے اونٹ ہی دوں گا مگر وہ بھی تو کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہو گا۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اپنا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگوں کو سفر پر جانا تھا اور ہمارے پاس سواریاں نہیں تھیں، خاندان والوں نے مجھے نبی اکرمؐ کے پاس بھیجا تاکہ دوچار اونٹ آپؐ سے حاصل کر لوں۔ میں جب مسجد نبوی میں آیا تو حضورؐ کسی وجہ سے ناراض بیٹھے تھے جس کا اندازہ مجھے نہ ہوا اور میں نے آتے ہی سوال کر دیا۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے، میں نے دوبارہ سوال کیا تو آپؐ نے قسم اٹھائی ’’واللّٰہ ما احملکم‘‘ خدا کی قسم میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا۔ ابو موسٰی اشعریؓ کہتے ہیں میں مایوس ہو کر گھر آگیا اور ابھی میں ساتھیوں کو بتا ہی رہا تھا کہ کسی نے مجھے آواز دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو نبی اکرمؐ کے پاس اونٹوں کی دو جوڑیاں کھڑی تھیں، مجھے فرمایا کہ یہ اونٹ تم لے جاؤ، میں نے ان کی رسیاں تھا میں اور گھر کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں مجھے خیال آیا کہ آپؐ نے ہمیں کوئی سواری نہ دینے کی قسم اٹھائی تھی اور اب یہ سواریاں دے دی ہیں جبکہ میں نے قسم کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا، یہ بات مناسب نہیں ہے، واپس جا کر نبی اکرمؐ سے اس قسم کے بارے میں معلوم کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی اکرمؐ کو اپنی قسم یاد نہ رہی ہو۔ چنانچہ میں پھر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا تو جناب رسالتمآبؐ نے فرمایا کہ جس وقت تم نے مجھ سے سواریاں مانگی تھیں اس وقت میرے پاس موجود نہیں تھیں، یہ بعد میں کہیں سے منگوائی ہیں۔ اور میں نے جو قسم اٹھائی تھی وہ مجھے یاد ہے لیکن میرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی بات پر قسم اٹھا لوں اور دیکھوں کہ یہ قسم خیر کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہے تو میں قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور قسم کو خیر کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ اس وضاحت کے بعد میں وہ اونٹ اطمینان کے ساتھ گھر لے آیا۔

بخاری شریف میں روایت ہے کہ ایک شخص جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رمضان المبارک میں روزے کے دوران غلطی ہوئی ہے کہ بیوی کے پاس چلا گیا ہوں اور روزہ توڑ بیٹھا ہوں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا اس کے کفارے میں دو ماہ کے مسلسل بلاناغہ روزے رکھنا ہوں گے۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلا دو۔ اس نے کہا کہ اس کی طاقت بھی میں نہیں رکھتا۔ تھوڑی دیر میں کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا کہیں سے بیت المال میں آیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر وہ ٹوکرا دے دیا اور فرمایا کہ اپنے کفارے میں یہ خرچ کر لو۔ یہاں اس پہلو کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ غلطی اس شخص کی ہے کہ اور وہ اپنے گناہ کی وجہ سے اپنے اوپر کفارہ واجب کر بیٹھا ہے لیکن ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اس کا کفارہ بیت المال سے ادا کیا جا رہا ہے۔

اور یہ واقعہ بھی بخاری شریف میں مذکور ہے کہ یہودیوں کے علاقے میں ایک انصاری صحابیؓ کی لاش ملی جسے شہید کر دیا گیا تھا لیکن قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ نبی اکرمؐ نے مقتول کے وارثوں سے پوچھا کہ تم کسے ملزم ٹھہراتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو کچھ معلوم نہیں ہے البتہ چونکہ یہودیوں کے علاقہ میں واقعہ ہوا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ انہوں نے ہی کیا ہو گا۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ان سے قسامہ (پچاس افراد کا حلف) لیا جائے گا، یعنی علاقہ کے پچاس منتخب افراد قسم اٹھائیں گے کہ نہ انہوں نے قتل کیا ہے اور نہ ہی انہیں اس کے بارے میں کچھ علم ہے اور اس حلف کے بعد وہ اس کیس سے بری ہو جائیں گے۔ مقتول کے وارثوں نے کہا کہ وہ تو یہودی ہیں آسانی سے قسم اٹھا لیں گے، آپؐ نے فرمایا کہ اس کے سوا تو اور کچھ نہیں ہو سکتا، البتہ نبی اکرمؐ نے اس قتل کو رائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کر دی۔

یہاں ضمناً ایک اور بات بھی کہنا چاہوں گا کہ ہمارے ہاں عام طور پر قتل کے کسی کیس میں نامزد ملزم بری ہو جائیں تو کیس داخل دفتر ہو جاتا ہے اور دوبارہ قاتلوں کی تلاش نہیں کی جاتی۔ میں نے ہائیکورٹ کے ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس سے پوچھا کہ قتل کے کسی کیس میں نامزد ملزموں کو بری کرنے کے ساتھ عدالت کو چاہیے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ یہ قاتل نہیں ہیں اس لیے پولیس ازسرنو اس کیس کی تفتیش کرے اور اصل قاتلوں کو تلاش کرے، کیونکہ اس طرح کیس کو داخل دفتر کر دینے سے تو قتل ہونے والے کا خون رائیگاں چلا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا تو نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے قانون میں یہ خلا موجود ہے، آپ کے خیال میں اس کا حل کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کا حل جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ میں موجود ہے کہ اگر قاتلوں کا سراغ نہ مل رہا ہو تو مقتول کے خون کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے۔

یہ بھی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عقبہؓ کو جناب نبی اکرمؐ نے بیت المال سے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور فرمایا کہ یہ بکریاں صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دو تاکہ وہ قربانی کر سکیں۔ انہوں نے وہ بکریاں لوگوں میں تقسیم کر دیں، ایک بکری بچ گئی جو قربانی کی عمر سے کم تھی۔ نبی اکرمؐ نے انہیں اجازت دی کہ وہ اپنی طرف سے بکری کے اس بچے کی قربانی دے دیں مگر ان کے بعد کسی اور کو اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ غور فرمائیں کہ قربانی تو ان لوگوں پر واجب ہے مگر انہیں بکریاں بیت المال کی طرف سے دی جا رہی ہیں۔

حضرات محترم! میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اس پہلو پر کچھ عرض کیا ہے کہ آنحضرتؐ نے رفاہی ریاست کا تصور پیش کیا اور ریاست کو رعایا کے نادار، معذور، بے سہارا اور بوجھ تلے افراد کی کفالت کا ذمہ دار قرار دے کر ویلفیئر اسٹیٹ کا آغاز کیا، جسے حضرات خلفاء راشدینؓ خاص طور پر حضرت عمرؓ نے ایک منظم ادارے اور مستقل حکومتی شعبے کی شکل دی۔ آج افسوس کی بات ہے کہ عالمِ کفر کی حکومتوں نے تو اس نظام کو جزوی طور پر اختیار کیا ہوا ہے جیسا کہ برطانیہ اور ناروے وغیرہ میں اس طرز کا سوشل ویلفیئر کا نظام رائج ہے مگر ہمارے مسلم ممالک میں یہ نظام موجود نہیں ہے، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دیں اور وہ جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے طرز حکومت کی پیروی کرتے ہوئے امت مسلمہ کی صحیح راہنمائی کریں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک صحیح رفاہی ریاست بنانے کی کوشش کریں، آمین یا رب العالمین۔