یومِ یکجہتیٔ کشمیر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ فروری ۲۰۱۶ء

ہم ۵ فروری کو ایک بار پھر قومی سطح پر ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منا رہے ہیں۔ یہ دن کشمیری بھائیوں کی حمایت اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ایک عرصہ سے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل ہوگی، جلسے جلوس ہوں گے، اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ جبکہ اس دن حسن اتفاق سے جمعۃ المبارک ہے، علماء کرام خطبات جمعہ میں کشمیری بھائیوں کی حمایت اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے اور اجتماعات میں آزادیٔ کشمیر کے لیے دعائیں کی جائیں گی۔

کشمیر کو اپنے حسن، آب و ہوا اور سبزہ زاری کی وجہ سے جنت نظیر کہا جاتا ہے اور ایشیا کے سویٹزرلینڈ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے، دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے، جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے۔

یہ تینوں حصے بین الاقوامی دستاویزات و معاہدات کی رو سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بارہا اس خطہ کے عوام کا یہ حق تسلیم کر چکی ہے کہ انہیں استصواب رائے کے ذریعہ اپنے مستقبل کا اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ بلکہ اقوام متحدہ نے یہ استصواب رائے اپنی نگرانی میں کرانے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے مگر اس بین الاقوامی معاہدہ اور عالمی وعدہ کو ساتواں عشرہ مکمل ہونے کے قریب ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔

کشمیری عوام اس وعدہ کی تکمیل اور اپنا یہ مسلمہ جائز حق حاصل کرنے کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر مسلسل مصروف پیکار ہیں۔ ہزاروں نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور اس جدوجہد میں اب چوتھی نسل آگے بڑھتی نظر آرہی ہے، لیکن اقوام متحدہ اور عالمی رائے عامہ کے وعدے سلامتی کونسل کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں اور اقوام متحدہ کی جس سلامتی کونسل نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عوامی ریفرنڈم کرا کے انہیں الگ ریاستیں بنوانے میں عملی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے، کشمیری عوام کو آزادانہ ریفرنڈم کا حق دلوانے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عالمی راہ نماؤں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ کشمیری عوام کو یہ حق دینے میں سوسائٹی کی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کا رجحان بڑھے گا، جبکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی تقسیم انہی عالمی راہ نماؤں کی نگرانی میں مذہبی بنیادوں پر ہوئی ہے، اور یہ دونوں ریاستیں مسیحی اکثریت کی بنیاد پر دنیا کے نقشے کا حصہ بنی ہیں۔

کشمیری عوام کی بد نصیبی کا آغاز اس دن ہوگیا تھا جب برطانوی استعمار نے اس خطہ کو چند ٹکوں کی خاطر ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔ اور دنیا کی آئیڈیل جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے برطانیہ نے نہ صرف اس خطہ کے لاکھوں عوام کو خطہ سمیت ایک راجہ کے ہاتھ فروخت کیا تھا بلکہ جنوبی ایشیا سے رخصت ہوتے وقت بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کشمیری عوام کو حق دینے کی بجائے راجہ کے شخصی فیصلہ کو سپورٹ کر کے کشمیری عوام کے مستقبل کو اس کے حوالہ کر دیا تھا۔ آج بعض برطانوی دانش ور کہتے ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ مگر تاریخ کے صفحات سے ان حقائق کو کیسے کھرچا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط میں برطانیہ نے یہ خطہ پچھتر لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ کو فروخت کیا تھا اور اس کے ایک سو سال بعد اسی برطانیہ نے رخصت ہوتے وقت کشمیر کے بارے میں راجہ کے شخصی فیصلے پر آنکھیں بند کر کے اسے ریاست کے عوام کی غالب اکثریت کے علی الرغم اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں مدد دی تھی۔ بہرحال تب سے جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارت کے جارحانہ قبضہ میں ہے اور وہ کشمیری عوام کو اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا مسلمہ حق دینے کی بجائے فوجی طاقت کے زور پر وہاں اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام نے جن میں مقبوضہ کشمیر، آزاد ریاست جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کے علاقوں کے عوام شامل ہیں، آزادانہ رائے کے ذریعہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام اور بھارت کی تقسیم کے موقع پر جن ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا حق دیا گیا تھا، ان میں جموں و کشمیر کی ریاست بھی شامل ہے اور اس کے راجہ نے اپنی ریاست کے عوام سے رائے لیے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا کشمیری عوام کا کام ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کون سے ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ چنانچہ بھارت ڈوگرہ راجہ کے جس فیصلہ کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی بنیاد قرار دیتا ہے اسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسترد کر چکی ہے۔ اور اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کے بعد بھارت کے پاس بھی راجہ کے فیصلے کو الحاق کا جواز قرار دینے کا کوئی حق باقی نہیں ہے۔

کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ اقوام متحدہ اپنے فیصلے کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب رائے کا آزادانہ حق دے اور خود اپنی نگرانی میں ریفرنڈم کرا کے جنرل اسمبلی کے فیصلے پر عملدرآمد کا اہتمام کرے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی اور دنیا کے ہر منصف مزاج شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حمایت کرتا رہے۔