اسلام اور مغرب کی تہذیبی و ثقافتی کشمکش ۔ نیوٹ گنگرچ کے خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ اگست ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
اسلام اور مغرب کی تہذیبی و ثقافتی کشمکش

گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:

’’امریکی ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی، ایسے روشن خیال مسلمان جو شریعت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتے ان کو ہم بخوشی قبول کریں گے، نیوٹ گنگرچ نے امریکہ میں مسجدوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ شدت پسند تنظیموں کی ویب سائٹس پر جانے والے افراد کو جیل بھیجنے کی تجویز بھی دی ہے۔‘‘

امریکی کانگریس کے سابق سپیکر کا بیان اس حوالہ سے کسی مغربی لیڈر کا پہلا بیان نہیں ہے بلکہ اس سے قبل اس نوعیت کے بیانات متعدد امریکی اور یورپی راہ نماؤں کی طرف سے سامنے آچکے ہیں۔ البتہ نیوٹ گنگرچ کے اس بیان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ڈپلومیسی کا لحاظ کیے بغیر اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو تین چار باتیں واضح طور پر کہہ دی گئی ہیں:

  • ایک یہ کہ مغربی تہذیب کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے،
  • دوسری یہ کہ اسلامی شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی،
  • تیسری یہ کہ شریعت کے قوانین پر یقین رکھنے والے مسلمان مغرب کیلئے قابل قبول نہیں ہیں اور
  • چوتھی بات یہ کہ مغرب جس روشن خیالی کی بات کرتا ہے اس کا مطلب شریعت کے احکام و قوانین سے دستبرداری ہے اور جس سے کم پر مغرب راضی نہیں ہے۔

ہمارے بعض دانش ور ابھی تک مغرب اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی موجودہ کشمکش کو تہذیبی اور ثقافتی جنگ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تہذیبی کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ مفادات کی جنگ ہے اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان کشمکش ہے جس میں مسلم ممالک و اقوام ترقی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مغلوب ہیں اور تہذیبی ارتقاء میں مغربی سوسائٹی کا ساتھ نہ دینے کے باعث پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن نیوٹ گنگرچ نے یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کر دی ہے کہ یہ تہذیبی جنگ اور سولائزیشن وار ہے جس میں ایک طرف مغربی تہذیب و ثقافت ہے جو سائنسی ترقی، عسکری بالادستی، معاشی تسلط اور میڈیا پر اجارہ داری کی وجہ سے دنیا کے بیشتر علاقوں اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے جبکہ دوسری طرف اسلامی تہذیب ہے جو پوری قوت کے ساتھ اپنی بقا بلکہ فروغ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جنگ اب دو ٹوک انداز میں واضح ہوتی جا رہی ہے اور یہ بات نوشتۂ دیوار بن چکی ہے کہ مستقبل میں ان میں سے وہی تہذیب انسانی سوسائٹی کی قیادت کرے گی جو زیادہ سخت جان ہو گی اور جو انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہو گی۔ یہ صرف ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ فطرت کا اصول اور تاریخی عمل کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

امریکی کانگریس کے سابق سپیکر کی یہ بات بھی بطور خاص قابل توجہ ہے کہ شریعت اور مغربی تہذیب میں مطابقت موجود نہیں ہے جو ہمارے ان دانش وروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو گزشتہ دو صدیوں سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسلام کو مغربی تہذیب کے مطابق ڈھالا جائے اور اسلامی احکام و قوانین کی ایسی تعبیرات تلاش کی جائیں جو انہیں مغربی تہذیب کے احکام و قوانین کے ساتھ ہم آہنگ دکھا سکیں۔ ہمارے ان دانش وروں کو یہ سادہ سی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرت کی بنیاد وحی آسمانی اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر ہے جبکہ مغربی تہذیب کی بنیاد آسمانی تعلیمات کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور کہ یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنی اور نو رکی طرف لے آئیں۔ گویا اسلام کے نزدیک آسمانی تعلیمات کی طرف رجوع روشنی اور روشن خیالی کہلاتا ہے جبکہ مغرب کے نزدیک احکام شریعت سے انحراف اور دستبرداری کا نام روشن خیالی ہے۔ یعنی جو چیز اسلام کے نزدیک نور ہے وہ مغرب کے ہاں ظلمت کہلاتی ہے اور جس چیز کو مغرب روشنی کہتا ہے وہ اسلام کے نزدیک جہالت اور تاریکی سے عبارت ہے۔ اس لیے ان دونوں کے درمیان مفاہمت و مطابقت کی کوئی راہ تلاش کرنا خام خیالی اور کارِ لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مغرب اسلامی شریعت کو کسی بھی درجہ میں برداشت کرنے اور شرعی احکام و قوانین کو خود مسلم ممالک کے ماحول میں عملداری کا موقع دینے کے لیے کسی صورت میں تیار نہیں ہے اور اس کا طرز عمل اس حوالہ سے ہٹ دھرمی کی حد تک بے لچک ہے جس کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ اور نیوٹ گنگرچ جیسے لیڈروں کی زبانوں سے وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔

اس صورت حال کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیوٹ گنگرچ جیسے مغربی لیڈروں کے بیانات کی بے جا توجیہات کرنے یا ان کی مذمت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے انہیں ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کر کے مسلمانوں کیلئے صحیح سمت راہنمائی کا راستہ تلاش کیا جائے۔ ہم ایک عرصہ سے مسلمانوں کے فکری حلقوں اور علمی مراکز سے یہ گزارش کر رہے ہیں کہ مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان موجود عالمی کشمکش کو علمی و فکری طور پر واضح کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور خاص طور پر مغربی تہذیب کی بنیاد پر تشکیل پانے والے مروجہ عالمی نظام اور اس کے احکام وقوانین کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے دائرے میں کون سی بات قابل قبول ہے اور کس بات کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مغرب کا موقف تو بالکل واضح ہے کہ وہ شریعت کی عملداری کو کسی درجہ میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، اس کے جواب میں ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ آسمانی تعلیمات اور انسانی سوسائٹی کے اجتماعی مفاد کی بنیاد پر ہم مغربی تہذیب کی غلطیوں کی نشاندہی کریں، اس سے انسانی سوسائٹی کو پہنچنے والے نقصانات کو واضح کریں، اور اس کے مقابلہ میں اسلامی شریعت کی ضرورت و افادیت کو دلیل اور منطق کے ساتھ سامنے لائیں ۔ خدا کرے کہ ہمارے فکری حلقے، دینی مراکز اور علمی مراجع اس ضرورت کا ادارک کرتے ہوئے کسی عملی پیش رفت کا اہتمام کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: