جمعیۃ راولپنڈی کا اجلاس / اکابر کی عیادت / دینی مدارس کے منتظمین سے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ جولائی ۱۹۷۵ء

۸ جولائی کو دارالعلوم عثمانیہ ورکشاپی راولپنڈی میں راولپنڈی ڈویژن کے جماعتی امراء و نظماء اور کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوا، جمعیۃ کے صوبائی نائب امیر حضرت مولانا قاری عبد السمیع صاحب سرگودھوی نے اجلاس کی صدارت فرمائی اور اپنے زریں ارشادات سے شرکاء اجلاس کو محظوظ کیا۔ مولانا نے جماعتی احباب پر زور دیا کہ اپنی صفوں کو منظم کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کے حلقۂ اثر کو وسیع بنانے کے لیے پوری محنت اور تندہی کے ساتھ جدوجہد کریں۔ قاری صاحب کے خطابِ بلیغ کے بعد راقم الحروف نے شعبہ نشر و اشاعت کے پروگرام اور سرگرمیوں سے اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر راولپنڈی کے اخبارات سے رابطہ کے لیے (۱) مولانا عبد المعبود ناظم نشر و اشاعت ضلع راولپنڈی (۲) جناب محمد افضال زیدی (۳) جناب شیخ عبد الحکیم (۴) ایک اور دوست پر مشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جو مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کی نگرانی میں کام کرے گی۔

اجلاس سے مولانا قاری محمد امین صاحب مہتمم دارالعلوم عثمانیہ نے بھی خطاب فرمایا۔ شرکاء اجلاس کے جوش و خروش اور علماء و کارکنوں کی جوق درجوق شرکت کے لحاظ سے یہ اجلاس بھرپور اور راولپنڈی کی تاریخ میں ایک مثالی اجتماع تھا۔ اللہ تعالیٰ اسی جوش و خروش کے ساتھ ان بزرگوں اور احباب کو محنت کی بھی توفیق عطا فرمائیں۔

اکابر کی عیادت

اجلاس راولپنڈی کے بعد راقم الحروف برادرم مولانا سعید الرحمان علوی کے ہمراہ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ کی عیادت کے لیے ایبٹ آباد محترم جناب حاجی ناول خان صاحب کی قیام گاہ پر حاضر ہوا۔ الحمد للہ دونوں حضرات کی صحت کافی حد تک بحال ہو چکی ہے، عیادت کے ساتھ ساتھ متعدد جماعتی امور اور نظامِ شریعت کنونشن گوجرانوالہ کے پروگرام کے بارے میں بھی دونوں بزرگوں سے تبادلۂ خیالات کیا اور ہدایات لیں۔

ایبٹ آباد سے روانہ ہو کر ہم دونوں یعنی راقم الحروف اور علوی صاحب ظہر کے وقت ہری پور پہنچے، پرانے قومی کارکن اور تحریکِ آزادی کے نامور مجاہد اور پاکستان طبی بورڈ کے رکن حضرت مولانا حکیم عبد السلام صاحب مدظلہ سے ملاقات کی۔ حضرت حکیم صاحب نے تحریک آزادی میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں اور اکابر کے ساتھ ابتداء سے ہی وابستہ ہیں۔ گزشتہ دنوں بعض ’’بزرگوں‘‘ نے باہمی تعلقات کے حوالہ سے اکابر کے ساتھ حضرت حکیم صاحب کی والہانہ وابستگی کو سبوتاژ کرنے کی سعی کی تھی لیکن حکیم صاحب کے عزم و استقلال کے سامنے کوئی بات نہ چل سکی۔ حکیم صاحب موصوف کافی دنوں سے صاحب فراش ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں۔

ان کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام ہزارہ ضلع کے ناظم نشر و اشاعت جناب حکیم عبد الرشید انور صاحب سے (جو حکیم عبد السلام صاحب کے فرزند ہیں) بھی متعلقہ امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔

دینی مدارس کے منتظمین سے

ہری پور سے روانہ ہو کر راقم الحروف کو پشاور پہنچنا تھا، نوشہرہ سے ہماری بس پر ایک نوجوان سوار ہوا جو وضع قطع سے کسی دینی مدرسہ کا طالب علم معلوم ہوتا تھا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس نے پشتو میں بس کے مسافروں سے کچھ جملے کہے۔ پشتو سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے میں پوری بات نہ سمجھ سکا البتہ مفہوم کچھ اس طرح سمجھ میں آیا کہ وہ اپنے آپ کو دینی طالب علم ظاہر کر کے خرچہ اور کتابوں کے لیے پیسے مانگ رہا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے پیسے دیے بھی۔ یہ دیکھ کر مجھے دکھ ہوا اور شرمندگی بھی کہ کیا اس بات کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ دینی مدارس اور طلبہ کو سرحد میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر طلباء یا ان کے نام پر بسوں میں مانگنے کے اس رجحان کی سختی سے حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو احترام و اعتماد کی اس فضا کے مجروح ہونے کا خطرہ ہے۔ دینی مدارس کے منتظمین کو اس سلسلہ میں ضرور توجہ کرنی چاہیے۔

مغرب کی نماز کے وقت صوبائی دفتر پشاور پہنچا، متعدد جماعتی احباب سے خصوصاً جمعیۃ طلباء اسلام کے سرگرم اور مخلص نوجوانوں سے بہت مفید بات چیت ہوئی۔ ان نوجوانوں کا جوش و ولولہ دیکھ کر دلی مسرت ہوئی، اللہ تعالیٰ انہیں اور دین حق کی خدمت کرنے کی توفیق ارزانی فرمائیں۔