جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

ماہِ رواں کی چار تاریخ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ جمعیۃ میں تفریق ایم آر ڈی میں شرکت کے سوال پر ہوئی ہے کیونکہ اسلامی نظام اور دینی مقاصد کی بالادستی کی شرط کے بغیر کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت ہماری روایات، دینی تشخص اور ولی اللہی مشن کے منافی ہے اس لیے اگر متوازی گروپ ایم آر ڈی سے الگ ہو جائے تو جمعیۃ علماء اسلام دوبارہ متحد ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں متوازی گروپ کے ایک ذمہ دار راہنما مولانا سید امیر حسین گیلانی کا ایک بیان روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۰ جنوری ۱۹۸۴ء کی اشاعت میں چھپا ہے کہ جمعیۃ کے اتحاد میں رکاوٹ صرف زاہد الراشدی ہے۔

اگرچہ یہ بات اس گروپ کی مخصوص حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ پالیسی اور اصولوں کو زیربحث لانے کی بجائے افراد و اشخاص کو طعن و اعتراض کا مورد بنا کر عوام اور جماعتی کارکنوں کی توجہ اصل سببِ اختلاف سے ہٹائی جائے۔ تاہم چونکہ اس سلسلہ میں مجھے ذاتی طور پر بطور خاص ہدف بنایا گیا ہے اس لیے میں اتمامِ حجت کے لیے اعلان کرتا ہوں کہ اگر متوازی گروپ کے نزدیک ایم آر ڈی میں شرکت اصل سببِ اختلاف نہیں ہے تو وہ اپنے گروپ کی طرف سے ایم آر ڈی سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر دیں۔ جس روز اس گروپ کے سربراہ کی طرف یہ سے اعلان اخبارات میں آئے گا میں جمعیۃ علماء اسلام کے تمام عہدوں سے دستبردار ہو جاؤں گا اور ان کے لیے اس بات کے لیے راستہ صاف کردوں گا کہ وہ تنظیمی معاملات کو اپنی مرضی یا بزعم خود دستوری تقاضوں کے مطابق طے کر سکیں۔ اور اس کے بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم، حضرت مولانا میاں سراج احمد دین پوری دامت برکاتہم اور برادرم مولانا فضل الرحمان صاحب زیدت معالیہم کی مشترکہ قیادت میں ایک عام کارکن کی حیثیت سے دینی و جماعتی خدمات سرانجام دینے کو اپنے لیے سعادت و نجات کا باعث اور قابلِ فخر سمجھوں گا۔

مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں طرف کے کارکنوں کے دل باہمی اتحاد کے لیے تڑپ رہے ہیں اور وہ اپنی قوت کو متحد کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ اور یہ بات بھی امرِ واقعہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ علماء اور کارکنوں کی غالب اکثریت نے ایم آر ڈی کی رفاقت کو ذہنی اور عملی طور پر قبول نہیں کیا جیسا کہ ایم آر دی کی حالیہ تحریک کے دوران واضح ہوگیا ہے۔ اس لیے میں یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہوں کہ متوازی گروپ کی قیادت اس مسئلہ کو وقار اور انا کا مسئلہ نہیں بنائے گی اور جمعیۃ علماء اسلام کے باہمی اتحاد کو ایم آر ڈی کی رفاقت پر ترجیح دیتے ہوئے ایم آر ڈی سے علیحدگی کا جلد از جلد اعلان کر دے گی۔