امریکہ میں دعوت اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۷ء

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے ۲۰ تا ۲۶ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ نیویارک اسٹیٹ پولیس کے دو نوجوان افسروں نے اسلام کی سادگی اور تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ مین ہیٹن نارتھ زون کے ڈیٹیکٹو جیف فالکنر اور کمیونٹی آفیئرز کے لفٹیننٹ لمیونٹی جیسپرز نے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (اکنا) کے مرکزی ہیڈ کوارٹر جمیکا کوئنز میں ایک افطار پارٹی کے موقع پر اسلام قبول کر لیا۔ پولیس افسران کے قبول اسلام کے وقت کافی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، وہاں موجود بڑی تعداد میں لوگوں نے اس موقع پر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ ان نومسلم امریکی افسروں نے ’’پاکستان پوسٹ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام ایک سادہ اور قابل قبول مذہب لگا، قرآن مجید میں زندگی کے معاملات کی بہت اچھے انداز میں تشریح کی گئی ہے جو بائبل میں کہیں نہیں ہے۔ انہوں نے معروف نومسلم امریکی راہنما امام عبدالباقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ محمد علی کلے اور مالکم ایکس شہیدؒ سے متاثر تھے اور پھر قرآن کریم کے مطالعہ نے انہیں اسلام کی طرف متوجہ کیا۔

یہ دونوں پولیس افسر سیاہ فام امریکی ہیں اور امریکہ کی سیاہ فام آبادی میں قبول اسلام کے اس قسم کے واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا بات ہے۔ محمد علی کلے اور مالکم ایکس بھی، جن کا ان دونوں نو مسلموں نے حوالہ دیا ہے، نو مسلم ہیں۔ محمد علی کلے مکہ بازی کے عالمی چیمپیئن رہ چکے ہیں، انہوں نے امریکہ کے ایک سیاہ فام مدعی نبوت ایلیجا محمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا مگر بعد میں اس کے دجل سے آگاہی حاصل ہونے پر اصل اسلام کی طرف آگئے اور اب ایک صحیح العقیدہ مسلمان کے طور پر امریکہ میں اسلام کی دعوت میں مصروف ہیں۔ مالکم ایکس بھی ایلیجا محمد کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور کافی عرصہ اس کے ساتھ بلکہ اس کے دست راست رہے، بعد میں اسے چھوڑ دیا اور اس کے خلاف بغاوت کا اعلان کرکے صحیح العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا، جس پر انہیں ۱۹۶۵ء کے دوران ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ امریکہ کے سیاہ فام مسلمانوں میں انہیں بہت مقبولیت حاصل ہے اور انہیں مالکم شہباز شہید ؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ان کی یاد میں نیویارک کے مین ہیٹن کے علاقہ میں ’’مالکم شہباز شہید اسلام سنٹر‘‘ کام کر رہا ہے، مجھے کچھ عرصہ قبل اس مرکز میں جانے کا موقع ملا تھا اور امریکہ کے حالیہ سفر کے دوران میں نے یونیورسٹیوں کے شہر باسٹن میں ایک بڑے روڈ کو مالکم شہباز شہیدؒ کے نام سے موسوم دیکھا ہے جس کے ایک چوک میں بہت بڑی مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔

امریکہ کی سیاہ فام آبادی میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ دراصل مسلمان تھے جنہیں امریکی تاجر افریقہ سے غلاموں کے طور پر جہازوں میں بھر کر امریکہ لاتے تھے اور یہاں کی منڈیوں میں انہیں بیچ دیا تھا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ وہ شہباز قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی نسبت سے انہوں نے مالکم ایکس شہیدؒ کو مالکم شہباز شہیدؒ کا نام دے رکھا ہے۔ امریکہ میں گزشتہ صدی کے وسط تک سیاہ فاموں کے ساتھ جو نفرت انگیز سلوک کیا جاتا رہا ہے اور ان پر مسلسل کئی صدیوں تک جو مظالم روا رکھے گئے ہیں، اس کے اثرات اور تلخی اب تک باقی ہے اور سیاہ فاموں کو سفید فاموں کے برابر قانونی اور معاشرتی حقوق حاصل ہونے کے باوجود تفریق کے نشانات بدستور موجود ہیں۔ دو سال قبل امریکہ کے ایک شہر برمنگھم (الاباما) میں، جو موجودہ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کا آبائی شہر ہے، میں نے سفید فام اور سیاہ فام آبادیوں کے الگ الگ گرجے دیکھے ہیں اور ان میں اتوار کے روز عبادت کا منظر بھی دیکھا ہے، وہاں آج بھی یہ کیفیت ہے کہ گوروں کے چرچ میں کوئی کالا داخل نہیں ہوتا اور کالوں کے چرچ میں کوئی گورا نہیں جاتا۔

اس پس منظر میں امریکہ کی سیاہ فام آبادی اسلام کی دعوت و تبلیغ کا ایک وسیع اور ہموار میدان ہے مگر ایک جھوٹے مدعی نبوت ایلیجاہ محمد کے گروہ نے اسے اپنی سرگرمیوں کی جولانگاہ بنا رکھا ہے۔ ایلیجاہ محمد نے ۱۹۳۴ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور نئی نبوت کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا شروع کی، سیاہ فام امریکیوں کا ایک وسیع حلقہ اس کے معتقدین میں شامل ہے اور ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے اس گروہ کی قیادت اب لوئیس فرخان کے ہاتھ میں ہے جو مختلف مسلم ممالک سے امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کے نام پر بھاری امداد حاصل کرکے جھوٹی نبوت کے اس کاروبار کو چلا رہا ہے۔

ہمارے خیال میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کرنے والے اداروں کو اس طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر وہ جماعتیں اور حلقے جو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں، ان کا متوجہ ہونا بہت زیادہ ضروری ہے۔ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے پھیلائے ہوئے دجل سے مسلمانوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور سیاہ فام آبادی میں قبول اسلام کے رجحان کو صحیح رخ پر آگے بڑھانے کی شدید ضرورت ہے اور یہ کام تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے کام کرنے والی جماعتیں اپنے تجربہ اور تربیت و مشق کے حوالہ سے زیادہ بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہیں۔

درجہ بندی: