چند دینی تقریبات میں شرکت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ اپریل ۲۰۱۹ء

۱۴ اپریل اتوار کا دن خاصا مصروف گزرا، حسب معمول فجر کی نماز الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھا کر مختصر درس دیا اور حافظ شاہد میر کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگیا جہاں ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو میں مولانا جہانگیر محمود کے ادارہ ’’ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام‘‘ کے تحت علماء کرام کے لیے تربیتی ورکشاپ ہو رہی ہے۔ میں نے دس سے بارہ بجے تک کی نشست میں شرکت کی اور علماء کرام سے معاشرتی قیادت کے حوالہ سے کچھ گزارشات کیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

  • قرآن کریم نے ’’تفقہ فی الدین‘‘ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس سعادت سے بہرہ ور ہونے والے حضرات کی ذمہ داری ’’ولینذروا قومہم‘‘ کی صورت میں بیان فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سوسائٹی کی راہنمائی اور اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرانا دین کا علم رکھنے والوں کی سب سے بڑی ڈیوٹی ہے۔ یہ ذمہ داری وہی ہے جو حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کو ’’بشیر و نذیر‘‘ کے طور پر دی گئی تھی اور یہ اب امت کے علماء کرام کو منتقل ہوگئی ہے۔
  • اس سلسلہ میں ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ جو پیغام اور تعلیمات سوسائٹی تک پہنچانا چاہتے ہیں ان کا ادراک اور فہم ہمیں پوری طرح حاصل ہو، کیونکہ ادھورا علم اور ناقص معلومات راہنمائی کی بجائے اکثر گمراہی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی علمی استعداد، مطالعہ اور معلومات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی طرف توجہ دینا ہوگی، جبکہ یہ رجحان اور معیار دن بدن اب کم ہوتا جا رہا ہے۔
  • جن لوگوں سے ہم نے بات کرنی ہے اور جنہیں دین کے امور سمجھانے ہیں ان کی زبان و نفسیات اور مشکلات و مسائل سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ ہم اپنا پیغام ان لوگوں تک صحیح طور پر نہیں پہنچا سکیں گے، اسے فریکوئنسی سیٹ کرنا کہتے ہیں اور آج کے دور میں ہم اہل دین کی فریکوئنسی عصری ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ وغیر ذٰلک۔

اسلام آباد سے واپسی پر ہم نے ظہر کی نماز جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں ادا کی جہاں حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے پوتے حافظ عمیر عثمان کا ولیمہ تھا جو مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ کے فرزند اور میرے بھانجے ہیں اور جامعہ حنفیہ سے فراغت کے بعد وہاں تدریس کے ساتھ ساتھ گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں کسی فقہی موضوع پر ایم فل کر رہے ہیں۔ دعوت ولیمہ ایک دینی اجتماع کی صورت اختیار کر گئی تھی جس میں سرکردہ علماء کرام، علاقہ کی معروف سماجی و سیاسی شخصیات اور خاندان کے بزرگوں کے ساتھ جامعہ کے اساتذہ و طلبہ بھی رونق محفل تھے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف مہمان خصوصی تھے جو چکوال کے علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما ہیں اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے چھوٹے بھائی مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں اور اسی نسبت سے وہ دعوت ولیمہ میں تشریف لائے۔ ملک کے معروف قاری جناب قاری انوار الحسن شاہ بخاری کی تلاوت کلام پاک اور مداح رسول جناب سید عزیز الرحمان شاہ کے نعتیہ کلام نے اجتماع میں جو ایمان افروز ماحول پیدا کیا اس پر راجہ صاحب نے بھی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ شادی کی کسی دعوت میں انہوں نے پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا ہے جس سے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے اور یہ بات انہیں اچھی لگی ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رحمت و برکت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔

جہلم سے فارغ ہو کر مغرب کی نماز ہم نے الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں ادا کرنا تھی جہاں نماز کے بعد سالانہ دورۂ تفسیر کی افتتاحی تقریب تھی اس لیے میں اور عزیزم ڈاکٹر عمار خان ناصر جلد واپس آگئے۔ الشریعہ اکادمی میں بحمد اللہ تعالیٰ دورۂ تفسیر کی کلاس کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے علماء کرام، فضلاء اور طلبہ شریک ہیں۔ یہ کلاس ۳ مئی تک جاری رہے گی جس میں میرے ذمہ پانچ پاروں کے ترجمہ و تفسیر کے علاوہ عصری قوانین کے ساتھ احکام القرآن کا تقابلی مطالعہ کا اہم موضوع بھی شامل ہے اور میری کلاس کی ترتیب صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک طے پائی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔