عام انتخابات کے نتائج اور دینی حلقوں کا مستقبل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۳ء

ملک میں ایک بار پھر عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے اور اس دفعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت کے ساتھ مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، پنجاب میں بھی نون لیگ کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مخلوط حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہیں، خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے حکومت سازی کے لیے معاہدہ کر لیا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں۔ ان سطور کی اشاعت تک یہ حکومتیں حلف اٹھا چکی ہوں گی اور اگلے پانچ سالہ دور کا آغاز ہو چکا ہو گا۔ ہم دعا گو ہیں کہ قومی سیاست کی یہ نئی صف بندی ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہو اور اس ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مسائل کے حل کی بھی کوئی صورت نکل آئے، آمین یا رب العالمین۔

دینی جماعتوں نے اس بار بھی باہمی خلفشار کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنے کی بجائے انہی تلخ اور ناکام تجربات کو دہرانے کا راستہ اختیار کیا جس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس کے سوا کہ وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کچھ بین الاقوامی مصلحتیں اسے جمعیۃ علماء اسلام کو ساتھ رکھنے پر آمادہ کر رہی ہیں اور خیبرپختون خواہ میں جماعت اسلامی حکومت سازی میں شریک ہے، باقی سیاسی منظر سے وہ تمام جماعتیں آؤٹ ہو چکی ہیں جو دین کے نام پر سیاست کرتی ہیں اور ملک میں نفاذِ اسلام کا دم بھرتی ہیں۔

جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی اسے اگر اپنی کامیابی سمجھتی ہیں تو ان کی مرضی ہے مگر ملک بھر کا عمومی دینی کارکن جو کسی بھی فورم سے ملک کے اسلامی تشخص کی بقا اور نفاذِ شریعت سے دلچسپی رکھتا ہے مایوسی کا شکار ہے اور بد دلی اس کے رگ و پے میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو ہی کامیابی قرار دے لیا ہے، باقی مذہبی گروہوں کو ایک طرف رکھیں تب بھی دیوبندی حلقوں کا انتشار اور خاص طور پر جمعیۃ علماء اسلام (ف)، جمعیۃ علماء اسلام (نظریاتی) اور متحدہ دینی محاذ نے جس بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ ملک کے سینکڑوں حلقوں میں ایک دوسرے کا انتخابی میدان میں سامنا کیا ہے اور اس کے جو نتائج دیکھ لیے ہیں، عبرت کے لیے وہی کافی ہیں۔

ملک کی ایک مقتدر ترین شخصیت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انتہا پسند حلقے (یعنی دینی جماعتیں) انتخابات میں پسپا ہو گئے ہیں، اس جملے کے مضمرات کو کوئی با شعور نظریاتی کارکن ہی سمجھ سکتا ہے اور ہمارے خیال میں عالمی حلقوں کو یہی تاثر دینے کے لیے عام انتخابات سے قبل اس کا منصوبہ بندی کے ساتھ اہتمام کیا گیا تھا کہ دینی جماعتیں کوئی مشترکہ فورم قائم نہ کر سکیں اور اپنے خلفشار سے نجات حاصل کر کے قومی سیاست میں کوئی متفقہ کردار ادا نہ کر سکیں۔ یہ منصوبہ بندی کامیاب ہو گئی ہے اور اس میں ہمیں منصوبہ بندی کرنے والوں سے کوئی گلہ نہیں کہ ان کا تو کام اور ایجنڈا ہی یہ ہے، سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی بصیرت و فراست بار بار اس دام ہمرنگ زمین کا کیوں شکار ہوتی ہے اور ہم سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اس چال کا حصہ کیوں بنتے ہیں؟

؂ مجھے رہزنوں سے غرض نہیں تری رہبری کا سوال ہے

بہرحال اب وقت گزر جانے کے بعد اپنی امیدوں کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے اور ہماری اس گزارش کا ایک پہلو شاید یہی ہو۔ لیکن آنے والے دور میں جن خطرات و خدشات کا سامنا ہے اور خاص طور پر ملک کے اسلامی تشخص، دینی تہذیب و ثقافت اور شریعت کے نفاذ کے معاملات کا جو منظر دکھائی دیتا ہے اس کے پیش نظر ہم ایک بار پھر اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کسی حد تک پہنچ جانے والے مذہبی عناصر ایسی کسی عملی صورت کا اہتمام ضرور کر لیں کہ وہ مشترکہ قومی اور دینی امور پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر کے دینی حلقوں کی مایوسی میں کچھ کمی کر سکیں۔