جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ اتوار کو گوجرانوالہ کینٹ میں اپنے آبائی شہر گکھڑ کے چند سرکردہ شہریوں کے ساتھ محفل جمائی۔ گکھڑ سے تعلق اور اس سے بڑھ کر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا فرزند ہونے کے حوالہ سے مجھے بھی شریک محفل کیا گیا اور جنرل صاحب محترم نے عزت افزائی سے نوازا ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ جنرل صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور ان کے بے ساختہ پن اور بے تکلفانہ انداز نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے بچپن کی بہت سی یادیں تازہ کیں اور گکھڑ کے پرانے بزرگوں کا محبت و احترام کے ساتھ ذکر کیا جس میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا عقیدت سے بھرپور تذکرہ بھی شامل ہے۔

محفل میں شریک کم و بیش سبھی احباب نے جنرل صاحب کی شخصیت و مقام کو اپنے شہر اور علاقہ کے لیے باعث افتخار قرار دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنے آبائی شہر کے حضرات سے ملاقات اور علاقہ کے مسائل معلوم کرنے کے لیے اس نشست کا اہتمام کیا ہے۔ اس محفل کے توسط سے مجھے بھی بعض پرانے دوستوں اور بزرگوں سے ملاقات کا موقع مل گیا، مثلاً گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ ریٹائرڈ کرنل نسیم صاحب بڑے تپاک سے ملے اور بتایا کہ انہوں نے میری والدہ مرحومہ و مغفورہ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ایک دوست حارث منظور بٹ گرمجوشی سے ملے اور کہا کہ آپ سے تئیس سال بعد ملاقات ہو رہی ہے، اس سے قبل امریکہ کے شہر اٹلانٹک سٹی میں ملاقات ہوئی تھی وغیر ذلک۔ غرضیکہ یہ محفل جنرل باجوہ صاحب محترم سے ملاقات کے ساتھ ساتھ بعض پرانے دوستوں کی باہمی ملاقات کا ذریعہ بھی بن گئی۔

گکھڑ میں اسٹیڈیم کے قیام کی بات ہوئی تو جنرل صاحب نے بتایا کہ ایک بڑے اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بن چکا ہے جس کا بہت جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔ ٹریفک کے رش اور ہسپتال کی توسیع کے ساتھ ساتھ وزیرآباد کی کٹلری کی صنعت اور کار ڈیلر حضرات کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی اور جنرل صاحب نے مسائل کے حل کے لیے پوری توجہ کا وعدہ کیا۔ مجھے یہ انداز اچھا لگا کہ با اثر لوگ اگر اپنے اپنے علاقہ کے مسائل کے حل میں ترجیحات طے کرتے وقت عوام کی رائے بھی سن لیا کریں تو اس سے کام کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ بعض قومی مسائل بھی زیربحث آئے۔ ایک دوست نے کرپشن کی طرف توجہ دلائی تو جنرل صاحب موصوف نے خوبصورت بات کہی کہ اس کا حل تو آپ لوگوں کے پاس ہے کہ آپ الیکشن میں کرپٹ لوگوں کو منتخب نہ کریں۔ ملک کی سیاسی صورتحال پر ایک دوست نے گفتگو کرنا چاہی تو جنرل صاحب نے کہا کہ وہ اس حوالہ سے صرف ایک ہی بات کریں گے کہ آپ حضرات اپنے نمائندوں کا صحیح انتخاب کریں کیونکہ نظام تو منتخب لوگوں نے ہی چلانا ہے، آپ جس طرح کے لوگ منتخب کر کے بھیجیں گے ملکی نظام انہی کے مطابق چلے گا۔ جنرل صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات کے موقع پر عوام کی ترجیحات میں برادری ازم، تھانہ کچہری اور گلی محلہ کے مسائل کی بجائے اہلیت و دیانت اور قومی سوچ و جذبہ کو اولیت حاصل ہو جائے تو صورتحال بدل سکتی ہے لیکن اس کے لیے مسلسل انتخابات کا منعقد ہوتے رہنا ضروری ہے۔

جنرل باجوہ نے دہشت گردی کے خاتمہ اور مذہبی فرقہ واریت پر کنٹرول کی بات تفصیل کے ساتھ کی، انہوں نے کہا کہ تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھانا ہوگا کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کی وجہ تعلیم کی کمی اور تعلیمی نصاب کی یک رخی ہے۔ جن حضرات کے پاس دینی تعلیم ہے وہ عصری تعلیم سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی نظام میں آگے نہیں بڑھ سکتے اور جو لوگ عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں وہ دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت میں کمزور ہیں۔ ان دونوں کو اکٹھا کرنا ہوگا، دینی تعلیم کے ساتھ ضروری عصری تعلیم کو شامل کرنا ہوگا اور عصری تعلیم کے ساتھ ضروری دینی تعلیم کا اہتمام کرنا پڑے گا، اس کے بغیر ہم اپنے نظام کو صحیح نہیں کر سکیں گے، ہمیں دین کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے اور جب ہم قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے ’’ذلک الکتاب لا ریب فیہ‘‘ پڑھتے ہیں تو ہمیں اس کا ترجمہ و مفہوم بھی معلوم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سازش کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا بھر میں مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جا رہا ہے جس سے فائدہ صرف دشمن کو ہوتا ہے، اس سازش کو سمجھ کر اسے ناکام بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔

اس موقع پر متعدد حضرات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرگرمیوں اور رجحانات کو میں بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہوں اور مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی ہے کہ وہ ملکی اور قومی معاملات میں توازن اور اعتدال کے رخ کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بیلنس کی بات کرتے ہیں جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مذہبی فرقہ واریت کے بارے میں جنرل صاحب کی تشویش اور بے چینی کو درست قرار دیتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرقہ کے اعتدال پسند راہ نماؤں کی بات توجہ سے سنی جائے۔ ایسے لوگ ہر فرقہ میں موجود ہیں، کسی بھی فرقہ کے سب لوگ انتہا پسند اور شدت پسند نہیں ہوتے بلکہ اس قسم کے لوگ ہر مکتب فکر میں بہت کم ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اعتدال و توازن کی بات کرنے والوں کو توجہ کے ساتھ سنا جائے اور انہیں فرقہ وارانہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

گکھڑ کی باجوہ فیملی سے میں ایک عرصہ سے متعارف ہوں بلکہ میرا بچپن اور نوجوانی انہی کے ماحول میں گزرے ہیں مگر جنرل صاحب کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی جو خوشگوار ماحول میں ہوئی، دعا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے لیے جن اچھے خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مطابق تادیر ملک و قوم کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔