امریکہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ اگست ۲۰۱۱ء

گزشتہ تین ہفتوں سے امریکہ میں ہوں اور ہفتہ عشرہ تک مزید یہاں رہ کر رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سفر میں دو تین تبدیلیاں واضح طور پر محسوس ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایئرپورٹس پر تلاشی اور چیکنگ میں سختی والا ماحول اب رفتہ رفتہ نرم پڑتا جا رہا ہے۔ نیویارک ایئرپورٹ پر امیگریشن چیکنگ اور تلاشی وغیرہ کا دورانیہ جو اس سے قبل تین چار گھنٹوں تک پھیل جاتا تھا اس بار چار پانچ منٹوں میں نمٹ گیا جبکہ تلاشی کی سرے سے نوبت ہی نہیں آئی۔ اندرون ملک مختلف فلائیٹوں میں سفر کا موقع ملا، تفتیش اور چیکنگ کا پراسیس تو وہی ہے مگر لہجے، طرز عمل اور غیر ضروری جزئیات کے حوالے سے خاصی بہتری محسوس ہو رہی ہے۔

مجھے امریکہ آتے ہوئے ربع صدی کا عرصہ گزر گیا ہے۔ پہلی بار ۱۹۸۷ء میں آیا تھا، اس زمانے میں ’’سی امریکہ‘‘ کے نام سے سیاحوں کو ہوائی سفر کے کوپن مختلف کمپنیوں کی طرف سے ملتے تھے۔ میں نے ایک موقع پر لندن سے ایک امریکی فضائی کمپنی کے یہ کوپن غالباً ساڑھے تین سو پاؤنڈ میں خریدے تھے جو ساٹھ کی تعداد میں تھے، یہ اسٹینڈ بائی کوپن کہلاتے تھے، کسی بھی ایئرپورٹ سے کسی دوسرے ایئرپورٹ پر جانے والی اس کمپنی کی فلائٹ پر آپ جانا چاہیں تو کاؤنٹر پر اپنی شناخت کے ساتھ یہ کوپن دکھائیں، اگر اس فلائٹ پر خالی سیٹ موجود ہے تو آپ کو بورڈنگ پاس مل جائے گا اور اگر سیٹ نہیں ہے تو اس سے اگلی فلائٹ پر آپ کی سیٹ کنفرم ہو جاتی تھی۔ اس میں دقت صرف یہ تھی کہ اگر سیٹ نہیں ہے تو اس سے اگلی فلائٹ کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر گزارنا پڑتے تھے۔ لیکن یہ اس قدر سستا سفر تھا کہ کم و بیش مفت ہی محسوس ہوتا تھا۔ میں نے اس سال ان کوپنوں پر نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، سان فرانسسکو، اٹلانٹا، ڈیٹرائٹ، سکرامنٹو اور دوسرے شہروں کے بار بار کئی سفر کیے اور دو ماہ کے لگ بھگ امریکہ میں گھومنے کے بعد جب وطن واپس جا رہا تھا تو چار کوپن میرے پاس پھر بھی موجود تھے، لیکن وہ میرے نام کے ساتھ میرے پاسپورٹ پر ہی استعمال ہو سکتے تھے اس لیے ردی کی ٹوکری کے سپرد کرنا پڑے۔

یہ اس سال کی بات ہے جس سال سان فرانسسکو کا تاریخی زلزلہ آیا تھا اور اس کا بہت بڑا پل ٹیڑھا میڑھا ہوگیا تھا۔ میں نے اس روز صبح چھ بجے کے لگ بھگ نیویارک کے لیے پرواز کی تھی جو کم و بیش چھ گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ میں جب نیویارک پہنچا تو ایئرپورٹ پر مجھے وصول کرنے والے احباب سخت پریشان تھے، میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ سان فرانسسکو میں خوفناک زلزلہ آیا ہے اور ہم آپ کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے میں تو چھ بجے وہاں سے نکل آیا تھا۔

سفر کے معاملے میں بحمد اللہ تعالیٰ خوش قسمت واقع ہوا ہوں۔ نوجوانی کے دور میں ایک دست شناس نے اتفاقاً میرا ہاتھ دیکھ لیا تھا اور کہا تھا کہ دنیا بہت گھومو گے مگر دولت کی لکیر تمہارے ہاتھ میں نظر نہیں آتی۔ مجھے اس وقت تعجب ہوا کہ دولت کے بغیر دنیا کیسے گھوم لوں گا؟ لیکن ایسا ہی ہو رہا ہے اور ایسے ایسے سفر بھی کر گزرتا ہوں جن کے بارے میں عام حالات میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اپنے سفروں کی داستان لکھوں تو ایک چھوٹی سی ’’الف لیلہ و لیلہ‘‘ وجود میں آجائے لیکن اس کا ابھی موقع نہیں مل رہا۔ امریکہ میں رہنے والے پرانے دوست کہتے ہیں کہ ہم تیس تیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں مگر امریکہ کی اتنی سیر نہیں کر سکے جتنی آپ نے باہر سے آکر کر لی ہے۔

اس بار میں ایک اور ’’رسک‘‘ لے لیا۔ مجھے ہیوسٹن سے اٹلانٹا آنا تھا جو کم و بیش کراچی سے لاہور (ساڑھے بارہ سو کلو میٹر) جتنا سفر بتایا جاتا ہے، سڑکیں اچھی اور گاڑیاں عمدہ ہیں پھر بھی بائی روڈ سفر بارہ گھنٹے سے زیادہ کا بنتا ہے۔ لاہور کے مولانا قاری امتیاز الرحمان تھانوی اور فیصل آباد کے قاری احمد صدیق ہیوسٹن کے مدرسہ اسلامیہ میں استاذ ہیں۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست فیصل آباد کے قاری خالد رشید اٹلانٹا میں اسلامک کمیونٹی سنٹر کے امام و خطیب ہیں۔ ان لوگوں نے اٹلانٹا جانا تھا اور ان کا بائی روڈ جانے کا پروگرام تھا۔ میں یہاں عام طور پر لمبا سفر ہوائی جہاز سے ہی کرتا ہوں مگر میں بھی ان کے ساتھ بائی روڈ سفر میں شریک ہوگیا اور اچھا کیا کہ اس طرح مجھے امریکہ کی ریاست لوزیانا دیکھنے کا موقع مل گیا جو دوسری ریاستوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ جگہ جگہ پانی، لمبے پلوں اور دلدلوں کی وہاں بہتات ہے۔ اس پانی اور دلدل کی وجہ سے ہی روڈ پر جگہ جگہ پل ہیں، ایک پل تو اتنا طویل ہے کہ چلتے چلتے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید پوری ریاست میں سڑک اسی پل پر گزرتی ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے بنگلہ دیش یاد آگیا جہاں لمبے سفر میں جگہ جگہ پانی اور کشتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وطن عزیز بھی یاد آیا کہ ہمارے ہاں سڑک کے اوپر سے پانی گزر جائے تو وہ کئی ماہ تک واویلا مچائے رکھتی ہے مگر یہاں پانی اور دلدل کے اوپر سے میلوں تک سڑک گزرتی ہے اور ٹھیک ٹھاک رہتی ہے۔ خدا جانے یہاں کی سڑکیں بہت ڈھیٹ ہیں یا پانی اتنا شریف ہے کہ مستقل طور پر سڑک کے نیچے رہتے ہوئے بھی اسے کچھ نہیں کہتا۔ بہرحال میں نے لوزیانا کی سڑکوں کو بہت انجوائے کیا اور میرا یہ طویل بائی روڈ سفر بے فائدہ نہ رہا۔

راستے میں گپ شپ چلتی رہی، قاری امتیاز الرحمان تھانوی اور قاری احمد صدیق باری باری ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے خوبصورت لہجوں میں قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتے رہے۔ نصف شب کے ستاروں بھرے ماحول میں امریکہ کے ایک مین روڈ پر تلاوت قرآن کریم سنتے ہوئے یہ سفر اتنا خوشگوار لگا کہ ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔ گاڑی میں جی پی ایس کی سہولت موجود تھی جس میں منزل مقصود کا ایڈریس ڈال دو تو وہ سیٹلائٹ کی مدد سے خودبخود راستہ بتاتا چلا جاتا ہے، اگر کہیں غلط رخ پر مڑ جائیں تو خبردار کرتا ہے اور پھر سے سیدھے راستے پر آنے کے لیے رہنمائی بھی کرتا ہے۔ ایک دو بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور نے گاڑی متعینہ رخ سے دوسری طرف موڑی تو جی پی ایس نے شور مچا دیا کہ غلط جا رہے ہو دوسری طرف رخ موڑو۔

میں نے یہ دیکھ کر ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو دوستو! اس جی پی ایس کا کنٹرولنگ سسٹم اس زمین کے مدار میں نہیں ہے بلکہ خلا میں ہے او رخلا سے ہماری رہنمائی کی جا رہی ہے۔ یہ گاڑی آسمانی ہدایات کے تحت چل رہی ہے اسی وجہ سے صحیح راستے پر جا رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس کا کنٹرولنگ سسٹم خلا میں ہے تو ہمارا کنٹرولنگ سسٹم بھی ادھر خلا میں ہی کہیں ہے اگر ہم بھی آسمانی ہدایات کے مطابق ہی چلیں گے تو اپنا سفر صحیح رخ پر جاری رکھ سکیں گے ورنہ قدم قدم پر بھٹک جانے کا امکان موجود ہے۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ قاری صاحب نے گاڑی کو کسی دوسرے روٹ پر چلانے کا ارادہ کیا تو میں نے روک دیا اور کہا کہ قاری صاحب! گاڑی کو آسمانی ہدایات کے مطابق چلائیں ورنہ بھٹک جائیں گے اور صحیح راستہ تلاش کرتے کرتے بہت وقت ضائع ہوگا۔

ہیوسٹن سے اٹلانٹا جاتے ہوئے راستے میں الاباما کی ریاست بھی آتی ہے جس کے شہر برمنگھم میں میرے گکھڑ کے پرانے دوست افتخار رانا رہتے ہیں اور کم و بیش ہر دفعہ ان کے پاس ایک دو روز کے لیے آتا ہوں۔ اس بار ہم نے اس سفر کے دوران ان کے ہاں ایک رات رہنے کا پروگرام بنا لیا۔ ہیوسٹن سے ظہر کے بعد روانہ ہو کر رات ایک بجے کے لگ بھگ ان کے گھر پہنچے تو وہ انتظار میں تھے۔ باقی رات افتخار رانا کے ہاں گزاری اور صبح ناشتے کے بعد رانا صاحب کے ہمراہ اٹلانٹا روانہ ہوئے۔ یہ سفر بھی دو تین گھنٹے کا تھا اس لیے بمشکل جمعہ تک اسلامک کمیونٹی سنٹر تک پہنچ پائے۔ مولانا قاری امتیاز الرحمان تھانوی (سابق پروفیسر ایچی سن کالج لاہور) نے انگلش میں جمعہ کا بیان کیا۔ مغرب کے بعد راقم الحروف نے استقبال رمضان کے حوالے سے قرآن کریم کے فضائل، روزے کی اہمیت اور رمضان المبارک کی برکات و ثمرات کے حوالے سے اردو میں تفصیلی خطاب کیا۔ سامعین میں عرب اور دوسرے علاقوں کے حضرات بھی تھے جن کے لیے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔

اس سنٹر میں ہم دو دن رہے اور وہاں یہ دیکھ کر مجھے حیرت انگیز خوشی ہوئی کہ اتوار کے روز فجر کی نماز میں نمازیوں کا اچھا خاصا اجتماع تھا جو میرے مغربی ملکوں کے ربع صدی کو محیط اسفار میں پہلا خوشگوار تجربہ تھا۔ ورنہ اتوار کو فجر کی نماز میں تو یہاں اکا دکا نمازی ہی ملتے ہیں۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے اور تھانوی صاحب نے تفصیلی بیانات کیے۔ اس کے بعد سب نمازیوں نے اجتماعی ناشتہ کیا اور میں ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوگیا جہاں سے مجھے ڈیٹرائٹ جانا تھا۔ مسلمانوں کی دینی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ، مساجد میں نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دینی تعلیم کے مدارس میں طلبہ اور طالبات کی روز افزوں رونق ان تبدیلیوں میں سے ہیں جو اب امریکی معاشرے میں نمایاں طور پر محسوس کی جا رہی ہیں۔

اٹلانٹا میں بنوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حافظ عبد الغفار کا قائم کردہ ’’جارجیا اسلامک انسٹیٹیوٹ‘‘ کئی ایکڑوں میں پھیلا ہوا ہے۔ مسجد اور اس کے اردگرد خوبصورت بلڈنگوں کا ایک پورا نظام ہے۔ دعوت و عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا مستقل سسٹم ہے۔ میں وہاں گیا تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق رکن قاضی فضل اللہ صاحب بھی آئے ہوئے تھے جو گزشتہ دو عشروں سے کیلیفورنیا میں مقیم ہیں اور دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے وسیع دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ مغرب کے بعد انسٹیٹیوٹ کی مسجد میں ہم دونوں کے بیانات ہوئے۔ میں نے اردو میں گفتگو کی جبکہ قاضی صاحب نے پشتون لہجے میں ترنم کے ساتھ انگلش میں تفصیلی خطاب کیا۔ پشتون لہجے میں انگریزی زبان کے ترنم نے عجیب سماں باندھ دیا۔

ڈیٹرائٹ میں فیصل آباد کے مولانا قاری محمد الیاس کم و بیش دو عشروں سے مقیم ہیں اور مسجد بلال میں درس نظامی کا مدرسہ قائم کر رکھا ہے۔ اس سال انہوں نے بخاری شریف اور حدیث کی دیگر کتابوں کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا تھا۔ میں نے درس نظامی کے مختلف درجات کے طلبہ کا متعدد کتابوں سے امتحان لیا اور طلبہ کی استعداد اور ذوق و شوق دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان کے پاس ہر دفعہ آتا ہوں اور ایک دو روز قیام رہتا ہے۔ مسجد بلال کی انتظامیہ نے اب کنگسٹن کے علاقے میں ایک بڑا چرچ خرید لیا ہے جس کے ساتھ چھ ایکڑ زمین بھی ہے۔ چرچ پرانا نہیں ہے بلکہ ۲۰۰۲ء میں تعمیر ہوا ہے۔ میں مسجد بلال کی انتظامیہ کے ذمہ دار قاری محمد شاہد صاحب کے ساتھ وہ چرچ دیکھنے گیا تو وہاں اس کے بڑے ہال کو مسجد کے ہال میں تبدیل کرنے کے لیے کام ہو رہا تھا۔ باقاعدہ نماز شروع ہو چکی ہے اور رمضان المبارک میں تراویح کی جوش و خروش کے ساتھ تیاری جاری ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے قریب بالٹی مور میں حیدر آباد انڈیا سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمد حامد نے مکان کرایہ پر لے کر اس کے بیسمنٹ میں مصلیٰ قائم کر رکھا تھا۔ میں نے کئی دفعہ وہاں حاضری دی مگر اب وہاں گئے تو وہ مصلیٰ ایک وسیع بلڈنگ کے کھلے ہال میں منتقل ہو چکا ہے۔ یہ بلڈنگ کرائے کی ہے جسے باقاعدہ خریدنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔ میں نے ایک جمعہ وہاں پڑھایا، ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا اور ابھی سے منتظمین کو یہ فکر لاحق تھی کہ رمضان المبارک میں جمعۃ المبارک اور تراویح کے اجتماعات کو کیسے سنبھالیں گے؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دو گے