گوجرانوالہ: تعمیراتی کام اور لوگوں کے تحفظات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ ستمبر ۲۰۱۲ء

گوجرانوالہ شہر میں مین روڈ پر اقبال ہائی اسکول سے شیرانوالہ باغ تک اوورہیڈ برج کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے پر کام کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوامی حلقوں میں اس منصوبے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آج کے اخبارات میں منصوبے کے بارے میں ڈی سی او جناب محمد امین چودھری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی کچھ تفصیلات شائع ہوئی ہیں اور اس پر بعض تاجر رہنماؤں کی طرف سے ہنگامی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے ردعمل کا تذکرہ بھی خبروں میں موجود ہے۔

شہر کی صورتحال یہ ہے کہ مین جی ٹی روڈ پر شیخوپورہ موڑ سے جنرل بس اسٹینڈ (لاری اڈہ) تک ٹریفک کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے اور رش زیادہ ہو جائے تو ٹریفک بری طرح پھنس کر رہ جاتی ہے جس سے شہریوں کو سخت مشکلات پیش آتی ہیں۔ خاص طور پر ریلوے اسٹیشن سے گوندلانوالہ چوک تک سڑک بہت تنگ ہو جانے کے باعث یہ رش اور ہجوم انتہائی تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ اس کا آسان سا حال یہ بتایا جاتا ہے کہ اس مقام پر سڑک کو تنگ کر دینے والی تین عمارتیں، جن میں دو سرکاری ہیں، اگر یہاں سے ہٹا کر دوسری مناسب جگہ منتقل کر دی جائیں تو یہاں دو رویہ کھلی سڑک تعمیر کی جا سکتی ہے جس سے ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور زیادہ رش میں ٹریفک کے پھنس جانے کے امکانات میں کمی آئے گی۔ عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ٹریفک کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عوام دوست حکومتیں اس قسم کے اقدامات کھلے دل اور حوصلے کے ساتھ کر لیا کرتی ہیں اور رکاوٹ بننے والی عمارتوں کے مالکان کو معقول معاوضہ دے کروہ عمارتیں خالی کرا لی جاتی ہیں۔ لیکن گوجرانوالہ شہر کی یہ تین عمارتیں عوام کے لیے سنگین مسئلہ بن کر رہ گئی ہیں کہ انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا انتظامیہ کو حوصلہ نہیں ہو رہا اور اس جگہ کو اسی طرح ’’تنگ درے‘‘ کی صورت میں برقرار رکھتے ہوئے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس پر بعض حلقوں کی طرف سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ جبکہ پرانے اوورہیڈ برج کے نیچے دکانوں کے مالکان کی ایسوسی ایشن کے رہنماؤں جمشید پال، ڈاکٹر دانش، ثناء اللہ میر اور طاہر منیر نے ہنگامی پریس کانفرنس کر کے اس میں پہل کر دی ہے اور اس کے ساتھ ہی احتجاجی مظاہرے میں ٹریفک کچھ دیر کےلیے بلاک کر کے عملی احتجاج کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

ان تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے اوورہیڈ برج کی تعمیر کے لیے پرانے اوورہیڈ برج کو، جو ریلوے لائن کے دونوں طرف کے علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے، گرایا جا رہا ہے اور اس کے نیچے کاروبار کرنے والے دکانداروں کو کوئی متبادل جگہ دیے بغیر دکانیں خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں گرایا جا سکے۔ پریس کانفرنس میں ان تاجروں نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ان تین بڑی بلڈنگوں کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے جو ٹریفک میں اصل رکاوٹ ہیں جبکہ نئے اوورہیڈ برج کا سائز بھی ایک پٹرول پمپ کو بچانے کے لیے کم کر دیا گیا ہے جس سے برج کی افادیت مشکوک ہوگئی ہے۔گوندلانوالہ چوک میں حال ہی میں پیڈسٹل فلائی اوور جبکہ سیالکوٹی دروازے کے پاس انڈرپاس تعمیر کیا گیا ہے جن کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ان کا افتتاح بھی نہیں ہوا کہ نئے پل کی تعمیر کے لیے ان تاجروں کے بقول ان دونوں منصوبوں کو مکمل ہونے کے بعد ختم کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں منصوبے کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل ہوئے ہیں۔ تاجر رہنماؤں نے اس موقع پر بتایا کہ پرانے اوورہیڈ برج کے نیچے دکانوں کے مالکان کو دکانیں خالی کرنے کے اچانک نوٹس کی وجہ سے دو دکاندار فالج کے حملے کا شکار ہوگئے ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن کے نام شفیق اور شہریار بتائے گئے ہیں۔

تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی یا ٹھیکیداروں کی باہمی ملی بھگت کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں تعمیر ہونے والے گھوڑ دوڑ روڈ پر پائپ ڈالنے کے لیے پھر سے اس کی توڑ پھوڑ شروع کر دی گئی ہے۔ اس پر مجھے خود اپنا واقعہ یاد آگیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جب بلدیاتی نظام ابھی میئر سسٹم کے تحت چل رہا تھا میں نے شہر کے میئر سے درخواست کی کہ شیرانوالہ باغ کی گلی، جو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مین گیٹ والی گلی ہے اور میری رہائش بھی وہیں ہے، اسے پختہ تعمیر کرا دیا جائے۔ اس پر گلی کو پختہ طور پر تعمیر کر دیا گیا لیکن گلی کو بنے ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ پائپ تبدیل کرنے کے بہانے گلی توڑ پھوڑ دی گئی اور سالہا سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس کی تعمیرِ نو نہیں ہوئی۔

اوورہیڈ برج کی تعمیر کے سلسلہ میں یہ تو تاجروں کے تحفظات ہیں جبکہ دینی حلقوں کے تحفظات یہ ہیں کہ پل کی زد میں آنے والی دو قدیمی مساجد (۱) القائی نوری مسجد اور (۲) اکبری مسجد بھی گرائی جانے والی عمارتوں میں شامل ہیں اور ان کے منتظمین کو مسجدیں خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز القائی نوری مسجد کے خطیب اور انتظامیہ کے ذمہ دار حضرات میرے پاس آئے اور بتایا کہ انہیں نوٹس دے دیا گیا ہے کہ تین دن کے اندر مسجد خالی کر دیں تاکہ اسے گرایا جا سکے۔ مجھے سخت تعجب اور افسوس ہوا کہ ضلعی انتظامیہ نے جو اپنی ہر ضرورت کے وقت شہر کے علماء کو یاد کرتی ہے اور علماء بھی اس سے ہر ممکن تعاون کرتے ہیں مگر جی ٹی روڈ پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے موجود اور آباد مسجد کو گرانے کے لیے اسے علماء کو اعتماد میں لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوئی اور مساجد کو براہ راست گرانے کے اس طرح اچانک نوٹس کیوں دیے گئے ہیں؟ شام کو شادی کی ایک تقریب میں اس سلسلہ میں مرکزی انجمن تاجران کے حاجی نذیر احمد اور گوجرانوالہ چیمبر کے میان فضل الرحمان چغتائی کو میں نے اس سے آگاہ کیا تو انہوں نے بھی تعجب کا اظہار کیا کہ اس طرح اچانک یہ کاروائی کیوں کی جا رہی ہے؟

میں اس سلسلہ میں آنے والے بدھ کو شہر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر رہنماؤں کے ساتھ ایک اجتماعی مشاورت کا اہتمام کر رہا ہوں تاکہ باہمی مشاورت کے ساتھ کوئی راہ عمل اختیار کی جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ البتہ اس حوالے سے اپنا ذاتی موقف سردست عرض کر رہا ہوں کہ

  • ٹریفک کے مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ مین روڈ کے وسط میں سڑک کو کھلا اور دو رویہ کرنے میں رکاوٹ بننے والی بلڈنگوں کو وہاں سے ہٹایا جائے اور شیخوپورہ موڑ سے جنرل بس اسٹینڈ تک دو رویہ سڑک اور سائیڈ میں سروس روڈ تعمیر کی جائے۔
  • اوورہیڈ برج کی تعمیر بھی بہت مفید ہے بشرطیکہ ’’لولا لنگڑا برج‘‘ بنانے کی بجائے اسے شیخوپورہ موڑ سے جنرل بس اسٹینڈ تک بنایا جائے۔
  • پرانے اوورہیڈ برج کو گرانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور جو فیصلہ بھی کیا جائے وہاں کے تاجروں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔
  • نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے آباد دو مسجدوں کو گرانے کی بجائے پل کے نقشے میں ردوبدل کر کے اسے ان مساجد کے اوپر سے گزار دیا جائے۔ اگر پلازے اور پٹرول پمپ بچانے کے لیے پل کا سائز تبدیل کیا جا سکتا ہے تو مسجدوں کو بچانے کے لیے پل کے نقشے میں ردوبدل کیوں نہیں کیا جا سکتا؟