ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن پر ایک نظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ نومبر ۲۰۰۸ء

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تین روزہ ’’سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس‘‘ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یہ کانفرنس ۳۱ اکتوبر تا ۲ نومبر منعقد ہوئی اور اس میں جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک سے شریک ہونے والے سینکڑوں علماء کرام اور دینی راہنماؤں نے براعظم افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت اور نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو نئے عزم کے ساتھ منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔

کانفرنس کا آغاز جمعۃ المبارک ۳۱ اکتوبر کو مغرب کی نماز کے بعد انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی کے خطاب سے ہوا جبکہ اتوار کو ظہر کے بعد آخری نشست سے مسلم جوڈیشیل کونسل جنوبی افریقہ کے سربراہ الشیخ احسان نے تفصیلی خطاب کیا۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت سے جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے ناظم اعلیٰ مولانا سید محمد شاہد سہارنپوری، پاکستان سے راقم الحروف، ملتِ اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، مولانا زاہد محمود قاسمی اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے علاوہ مولانا مفتی شاہد محمود اور مولانا راشد فاروقی تشریف لائے، جبکہ آسٹریلیا سے مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی، برطانیہ سے مولانا محمد لقمان میرپوری اور انجینئر طارق محمود اور سعودی عرب سے مولانا عبد الحفیظ مکی، الشیخ احمد عبد الوحید اور الشیخ احمد بخش نے شرکت کی۔ جنوبی افریقہ کے مختلف صوبوں سے کانفرنس میں شرکت کرنے والے علماء کرام اور دینی کارکنوں میں سعودی عرب کے سابق سفیر الشیخ عبد الحمید خبیر، جنوبی افریقہ کے علماء کرام کی مختلف تنظیموں کے متحدہ فورم ’’علماء اتحاد کونسل‘‘ کے سربراہ الشیخ ابراہیم جبریل، مسلم جوڈیشیل کونسل کے راہنما الشیخ احسان ہمدرکس، الشیخ احمد صدیق، الشیخ عبد الخالق، جمعیۃ علماء افریقہ کے راہنما مولانا محمد یونس پٹیل، مولانا احمد قطرزادہ، مولانا محمد یوسف کران، شیخ الحدیث مولانا محمد ہارون، الشیخ امین فقیر اور مولانا جنید ہاشم بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے بیرونی ممالک سے تشریف لانے والے مہمان علماء کرام نے کیپ ٹاؤن کی مختلف مساجد میں متعدد اجتماعات سے خطاب کیا اور مختلف دینی اداروں کا دورہ کیا۔

صدر جمہوریہ کے مشیر خاص اور کیپ ٹاؤن کے سابق گورنر جناب ابراہیم رسول نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عقیدہ و ایمان اور اسلام کی بنیادوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور قادیانی گروہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہے۔ لیکن علماء کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے آج کے عالمی ماحول اور بین الاقوامی تناظر کو ضرور سامنے رکھیں اور اب سے ایک صدی قبل کے ماحول میں بات کرنے کی بجائے آج کے ماحول میں بات کریں بلکہ اگلے سو سال میں رونما ہونے والی متوقع تبدیلیوں اور تغیرات کو بھی سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا عالمی ماحول گلوبلائزیشن، انسانی حقوق اور مذہب و فکر کی آزادی کے حوالہ سے بات کرنے کا ہے۔ ان حوالوں سے پیدا ہونے والے مسائل اور اٹھنے والے سوالات کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور ہمیں پورے حوصلہ اور تدبر کے ساتھ ان کا جواب دینا ہوگا۔

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبدا لحفیظ مکی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ دنیا کے ہر خطے میں منکرین ختم نبوت کی سرگرمیوں کا تعاقب کرے گی اور مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی استعمار نے برصغیر پاک و ہند پر تسلط جمانے کے بعد مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کرنے اور جہاد سمیت بہت سے اسلامی احکام کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے قادیانی گروہ کو پیدا کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کے نام پر مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے، برطانوی استعمار کا وفادار بنانے اور جہاد و ختم نبوت جیسے بنیادی عقائد کو مجروح کرنے کے لیے مسلسل کام کیا۔ جبکہ علماء کرام نے ابتداء سے ہی اس فتنہ کا تعاقب کر کے تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی تحریک منظم کی جو گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے اور کیپ ٹاؤن کی یہ سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس بھی اسی تحریک ختم نبوت کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مذہب کی بنیاد دجل و فریب پر رکھی گئی تھی اور عقیدۂ ختم نبوت کا یہ منکر اور باغی گروہ اب دلفریب ہتھکنڈوں سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع آسمانی اور قیامت سے پہلے دوبارہ آمد کے اجماعی عقیدہ سے بغاوت کے ساتھ ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے جناب نبی اکرمؐ، حضرت عیسٰیؑ اور دیگر انبیاء کرامؑ کی کھلم کھلا توہین کی۔ جس پر امت کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دیا لیکن قادیانی گروہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرمؐ کی صریح احادیث کی من مانی تاویلات اور گمراہ کن تشریحات کر کے اسلامی تعلیمات کو بگاڑنے میں مصروف ہے اور اس دجل و فریب کا پردہ چاک کرنا علماء اور دینی راہنماؤں کی ذمہ داری ہے۔

مسلم جوڈیشیل کونسل جنوبی افریقہ کے سربراہ الشیخ احسان ہمدرکس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کے کفر ہونے پر پوری دنیائے اسلام متفق ہے اور قادیانیوں کا کفر و ارتداد دنیائے اسلام پر پوری طرح واضح ہے لیکن وہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کا علماء کرام اور دینی راہنماؤں کو مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کیپ ٹاؤن میں بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کا شکریہ ادا کیا اور مولانا عبد الحفیظ مکی کو یقین دلایا کہ مسلم جوڈیشیل کونسل اس مقدس جدوجہد میں آئندہ بھی ان کے ساتھ شریک کار رہے گی اور بھرپور تعاون کرے گی۔

جنوبی افریقہ کی علماء اتحاد کونسل کے سربراہ الشیخ ابراہیم جبریل نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد ہے اور آپؐ کے ساتھ سب سے زیادہ محبت اور وفاداری کے بغیر ہم مسلمان ہی نہیں رہ سکتے۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور ناموس کے خلاف کسی بات کو ہم برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے علماء کرام قادیانیوں کی گستاخانہ سرگرمیوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔

سعودی عرب کے سابق سفیر الشیخ عبد الحمید خبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے دینی جذبات اور محبت رسولؐ کے عظیم جذبہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور مسلمانوں میں یہ جذبہ بیدار کرنا ضروری ہے کہ ہمارے لیے اسلام ہی سب کچھ ہے اور اسلام کی بنیادوں اور عقائد میں سے کسی بات سے بھی دست بردار ہونا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔

راقم الحروف نے کہا کہ قادیانی گروہ آج دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے کہ پاکستان میں ان کے شہری حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور انہیں انسانی معاشرتی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی ان کے دجل و فریب کی عکاسی کرتی ہے اس لیے کہ اصل مسئلہ قادیانیوں کے حقوق کی بحالی کا نہیں بلکہ ان کے حقوق کے ٹائٹل کا ہے۔ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کے طور پر وہ تمام حقوق دینے کا فیصلہ کر دیا تھا جو پاکستان کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ انہیں دیگر شہری اور معاشرتی حقوق کے ساتھ ساتھ ووٹ اور اسمبلیوں میں نمائندگی کا حق ان کی آبادی کے تناسب سے دیا گیا ہے لیکن قادیانی ملک کی منتخب پارلیمنٹ کے اس متفقہ دستوری فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ملک کی دوسری اقلیتوں کی طرح قادیانیوں کے حقوق بھی پاکستان میں تسلیم شدہ ہیں اور وہ اپنے حقوق کسی بھی وقت حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں دستور سے بغاوت اور عوام کی اکثریت کے فیصلے کو مسترد کرنے اور انتخابی عمل کے بائیکاٹ کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ عوام کی اکثریت کو چیلنج کر کے اور دستور سے بغاوت کر کے کوئی گروہ بھی اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتا۔

ملتِ اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے حضراتِ صحابہ کرامؓ اور خاص طور پر خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے روشن کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے جناب رسول اللہؐ کے وصال کے بعد خلافت کا منصب سنبھالتے ہی نبوت کے جھوٹے دعوے داروں سمیت ارتداد کے تمام فتنوں کا پوری قوت کے ساتھ سر کچل دیا تھا۔ اس لیے اس محاذ پر ہمارے لیے حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرات صحابہ کرامؓ نمونہ و اسوہ ہیں اور انہی کے نقش قدم پر چل کر ہم عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر اور پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و شریعت قیامت تک کے لیے ہے اور اس میں رد و بدل کی قیامت تک کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کانفرنس سے مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی، انجینئر طارق محمود، مولانا محمد لقمان میرپوری، مولانا عبد الخالق، مولانا مفتی محمد زبیر اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے مسلم جوڈیشیل کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کونسل کے سابق سربراہ الشیخ محمد نظیم کی جدوجہد اور خدمات پر بطور خاص خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی نے اپنے اختتامی خطاب میں کانفرنس کی کامیابی کے لیے جنوبی افریقہ کی دینی تنظیموں اور خصوصاً مسلم جوڈیشیل کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ اور یوں تین دن تک مسلسل جاری رہنے کے بعد بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ۲ نومبر اتوار کو پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔