اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ مارچ ۱۹۷۹ء

جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی ناظم برائے تنظیمی امور و نشر و اشاعت مولانا زاہد الراشدی نے ۲۲ فروری کو جناب حافظ محمد یوسف ایڈووکیٹ انچارج رکن سازی مہم جمعیۃ علماء اسلام لاہور ڈویژن کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مندرجہ ذیل بیان پڑھ کر سنایا۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے جس سے متاثر ہو کر وکلاء، علماء، طلبہ، تاجروں، صنعتکاروں اور محنت کشوں کی بڑی تعداد جمعیۃ علماء اسلام میں شامل ہو رہی ہے۔

رکن سازی کی مہم کو مزید جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ۱۱ مارچ سے پورے ملک میں ’’عشرہ رکن سازی‘‘ منایا جا رہا ہے جس کے دوران جمعیۃ کے راہنماؤں اور کارکنوں کے گروپ ملک بھر میں مختلف حلقوں بالخصوص دیہاتوں اور محلوں کا دورہ کر کے ہم خیال افراد کو جمعیۃ میں شمولیت کی دعوت دیں گے اور اس کے علاوہ مختلف سطحوں پر جماعتی کارکنوں کے اجتماعات ہوں گے۔

پاکستان اور آزاد کشمیر میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ بلاشبہ ایک تاریخی اور دور رس نتائج کا حامل فیصلہ ہے اور اس کا جس قدر خیرمقدم کیا جائے کم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ان ذمہ داریوں پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے جو اس فیصلہ کے ساتھ ہی ہم پر عائد ہوگئی ہیں۔ مثلاً:

  1. علماء کرام کے تمام مکاتب فکر کو فرقہ وارانہ کشمکش سے گریز کرتے ہوئے پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ قوم کی راہنمائی کرنی چاہیے۔
  2. انتظامیہ بالخصوص اعلیٰ افسران کو اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کر کے مشنری جذبہ کے ساتھ اسلامی نظام کی کامیابی کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں منفی طرزِ عمل اختیار کر کے معاشرہ میں موجود اس سوچ کو تقویت نہیں دینی چاہیے کہ پر امن اور جمہوری ذرائع سے اسلامی نظام کا مؤثر اور نتیجہ خیز نفاذ نہیں ہو سکتا۔
  3. اعلیٰ افسران اور اول کلاس کے افراد کو خود بخود نمود و نمائش اور تعیش و سہل پسندی پر مشتمل معیارِ زندگی سے دستبردار ہوجانا چاہیے کیونکہ معاشرہ کے مختلف طبقوں کے معیارِ زندگی کے درمیان تفاوت کو کم سے کم کیے بغیر اسلامی معاشرہ کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
  4. مروجہ قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر علماء اور وکلاء کی ہے اس لیے ان دونوں طبقوں کو باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر سطح پر مشترکہ مطالعاتی سوسائٹیاں قائم کرنی چاہئیں۔
  5. ملک کے انتخابی نظام میں بھی ایسی تبدیلی ضروری ہے کہ برادری، دولت اور اثر و رسوخ کے ذریعے قوم کی نمائندگی کا استحصال کرنے والے طبقہ کی بجائے دیانت، اہلیت اور حب وطنی سے سرشار سیاسی کارکنوں کو آگے آنے کا موقع ملے۔ اور اس کا موجودہ حالات میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کا نظام رائج کیا جائے۔

گزشتہ روز لاہور میں جو المناک حادثہ ہوا اس کے نتیجہ میں ہونے والا بے پناہ جانی و مالی نقصان یقیناً ایک قومی المیہ ہے اور اس پر جس قدر رنج و غم کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ حکومت کو متاثرین کی امداد میں فراخدلی سے کام لینا چاہیے۔ نیز آتش گیر سامان کی اندرون شہر تیاری پر پابندی کا حکم انتہائی ناکافی اور غیر تسلی بخش ہے، اس کے بجائے حکومت کو آتش بازی کے سامان کی تیاری پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ یہ بھی ان فضول اور بے مقصد کاموں میں سے ہے جن کی اسلام نے ممانعت کی ہے۔