بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔

۱۹۱۹ء میں گوجرانوالہ کے عوام نے تحریک آزادی میں برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا تو اس کا مرکز شہر کی مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ بنی، برطانوی حکمرانوں کو یہاں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا اور شاہی فضائیہ حرکت میں آئی جس نے کئی روز بمباری کر کے بغاوت کو ناکام بنایا۔ تب سے یہ مسجد تحریکات کا مرکز چلی آرہی ہے۔ تحریک آزادی کے دوران تحریک ترک موالات، تحریک کشمیر اور برطانوی حکمرانوں سے ہندوستان چھوڑ دو کے مطالبہ کی تحریک، جبکہ قیام پاکستان کے بعد تحریک ختم نبوت، تحریک بحالیٔ جمہوریت، تحریک نظام مصطفٰیؐ، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ، تحریک مسجد نور اور دیگر بہت سی تحریکات کا مرکز یہی مسجد تھی۔ اور اب بھی قومی، دینی یا شہری سطح پر کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے تو جامع مسجد شیرانوالہ باغ مرکز کا کردار ادا کرتی ہے جبکہ ایک صدی کے اس دورانیہ میں نصف صدی سے بحمد اللہ تعالٰی جامع مسجد کے اس تحریکی کردار کی خدمت کا مجھے اعزاز حاصل ہے۔ چنانچہ دوستوں کے ساتھ اس بات پر مشاورت چل رہی ہے کہ ایک صدی مکمل ہونے پر سالِ رواں کے دوران اکتوبر کے مہینے میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے صد سالہ تحریکی کردار کے حوالہ سے ایک بڑے سیمینار کا اہتمام کیا جائے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس پس منظر میں حالیہ بجٹ کے بارے میں تاجروں کے ملک گیر ردعمل اور عوامی طبقات کی مشکلات و مسائل میں اضافہ کے حوالہ سے گزشتہ ہفتہ کے دوران دو مشترکہ اجلاسوں کا اہتمام کیا گیا۔ ایک اجلاس ۶ جولائی کو جامع مسجد میں اور دوسرا ۹ جولائی کو چیمبر آف کامرس کے ’’اقبالؒ ہال‘‘ میں ہوا۔ دونوں کی صدارت مولانا خالد حسن مجددی نے کی اور کلاتھ مارکیٹ بورڈ، چیمبر آف کامرس اور مختلف تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ مولانا حافظ محمد امین محمدی، مولانا داؤد احمد میواتی، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر، حکیم محمد افضل جمال، مولانا شبیر احمد صدیقی، مولانا جواد قاسمی، چودھری بابر رضوان باجوہ، جناب ظہیر حسین نقوی، مولانا احسان اللہ قاسمی اور دیگر راہنماؤں نے شرکت کی اور بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ۱۳ جولائی کو تاجر برادری کی طرف سے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

ان مشترکہ اجلاسوں میں جن امور پر کم و بیش سبھی شرکاء میں اتفاق پایا گیا ان میں ایک یہ ہے کہ یہ بجٹ ہم پر آئی ایم ایف کی طرف سے مسلط کیا گیا ہے جس سے ملک کو بیرونی ایجنڈے کا تابع بنا دیا گیا ہے اور قومی خود مختاری سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔

دوسری بات یہ کہی گئی کہ اسلامی نظام کے نفاذ سے مسلسل گریز اور سودی نظام کی نحوست سے نجات میں ٹال مٹول ہماری تمام مشکلات کی جڑ ہے۔ ملک کے حکمران طبقات نہ اسلامی قوانین کے عملی نفاذ میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کسی عملی اقدام کے لیے تیار ہیں، حالانکہ ان دونوں باتوں کی دستور پاکستان نے گارنٹی دے رکھی ہے اور پاکستان کے قیام کا مقصد ہی یہی تھا۔

تیسری بات جو کم و بیش سب کی طرف سے سامنے آئی یہ ہے کہ ٹیکس کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے، لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور دینے کے لیے تیار ہیں مگر ٹیکسوں کے تعین اور وصولی کے نظام کو منصفانہ، آسان اور یکساں بنانے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی تو ایک ماچس کی خریداری میں بھی ٹیکس دیتا ہے مگر بد دیانت کاروباری لوگ اپنے اثر و رسوخ اور اپروچ کی بدولت ہر قسم کے ٹیکس سے بچ جاتے ہیں، اور یہ بددیانتی یکطرفہ نہیں ہے بلکہ ٹیکس چوری کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ وصول کرنے والے محکموں کے افسران اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد اس میں برابر کی شریک ہے، جبکہ ’’ٹیکس چور‘‘ صرف تاجروں کو کہا جا رہا ہے اور سرکاری محکموں میں گھسے ہوئے بد دیانت افسران اور ملازمین اس الزام کا عام طور پر ہدف نہیں بنتے۔

چیمبر آف کامرس کے اجتماع میں ایک راہنما نے کہا کہ بہت سے تاجر ٹیکس چوری کرتے ہیں اس سے انکار نہیں ہے مگر ان کی وجہ سے پورے تاجر طبقہ کو ’’ٹیکس چور‘‘ کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ چنانچہ اجلاس میں تاجروں کو مجموعی طور پر ’’ٹیکس چور‘‘ کہنے کے رویہ کی ایک قرارداد کی صورت میں مذمت کی گئی۔

البتہ راقم الحروف نے بعض دوستوں سے کہا کہ اب تو یہ روایت ہی بن گئی ہے کہ کچھ لوگوں کے غلط اعمال کو بنیاد بنا کر پورے طبقہ کو بدنام کیا جائے اور ہم اس صورتحال سے پہلے بھی دوچار ہو چکے ہیں۔ یہ بات سرکاری دستاویزات اور قومی پریس کے ریکارڈ میں ہے کہ جس کو ’’دہشت گردی‘‘ کہا جاتا ہے اس میں مبینہ طور پر براہ راست یا بالواسطہ ملوث دینی مدارس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے مگر جب بھی کوئی کوئی اس قسم کا واقعہ ہوتا ہے تو عالمی لابیاں، بین الاقوامی اور قومی میڈیا کے ساتھ ساتھ بہت سے سیکولر دانشور حتٰی کے وزراء بھی دینی مدارس کے پورے نظام کے خلاف راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سیاستدانوں میں بھی بد دیانت افراد ہر دور میں موجود رہے ہیں مگر مجموعی طور پر سب کے بارے میں ’’چور چور‘‘ کا شور مچانے کی روایت جڑ پکڑتی جا رہی ہے اور اب تاجر طبقہ اسی طرز عمل کی زد میں ہے۔ اس حوالہ سے تمام قومی طبقات کو سنجیدہ محنت کرنا ہوگی ورنہ ادارے اور طبقات اس طرح کی غیر سنجیدگی اور نفرت کا نشانہ بنتے رہیں گے۔