حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء

حرمین شریفین کے امام محترم معالی الدکتور الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بہت سے دیگر پروگراموں میں شریک ہونے کے علاوہ جمعۃ المبارک کا خطبہ دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد الرشید میں دیا اور دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ شیخ السدیس کو حرمین شریفین کا امام محترم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی پرسوز تلاوت کے حوالے سے بھی پورے عالم اسلام میں محبوبیت کا مقام حاصل ہے۔ مسلمان جہاں بھی بستے ہیں حرمین شریفین کے ائمہ کرام کے ساتھ گہری عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور ان سے قرآن کریم کی تلاوت سننے کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے نماز کی ادائیگی کو باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ چند سال قبل وہ پاکستان تشریف لائے تو چند محافل میں ان کے ساتھ شرکت اور ان کی پرمغز گفتگو سننے کا مجھے بھی شرف حاصل ہوا۔ شیخ السدیس ایک بیدار مغز دانشور اور آج کے عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے فکری راہنما ہیں، حرمین شریفین میں ان کے خطبات جمعہ بہت فکر انگیز ہوتے ہیں اور امت مسلمہ کی راہنمائی کا باعث بنتے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند میں شیخ محترم کی تشریف آوری ہمارے لیے اس حوالے سے بھی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے کہ دارالعلوم دیوبند ہمارا علمی، فکری اور تہذیبی مرکز ہے اور بہت سے حوالوں سے ہمارے لیے راہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ جبکہ حرمین شریفین کے ساتھ ایمان و عقیدت کے تعلق کے ساتھ ساتھ ہمارے بہت سے تاریخی رشتے بھی ہیں۔ دیوبند کی تاریخ کا نقطۂ آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہے جو برطانوی استعمار سے آزادی کے لیے آخری ملک گیر مسلح تحریک تھی۔ اس جنگ میں ہمارے بزرگوں نے مختلف محاذوں میں شمولیت کے علاوہ شاملی کے محاذ کو سنبھالا تھا جہاں شیخ الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی امارت میں سرکردہ علماء کرام کے اس گروہ نے جہاد میں عملی حصہ لیا تھا جن میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور حافظ ضامن شہیدؒ شامل تھے۔ اس جہادِ آزادی میں باشندگان وطن کی ناکامی کے بعد بظاہر ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا تھا اور قومی زندگی کے تمام ادارے ٹوٹ پھوٹ کی نذر ہوگئے تھے۔ جہادِ شاملی کا محاذ گرم کرنے والے بزرگوں میں سے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ مکہ مکرمہ سدھار گئے تھے جبکہ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دیوبند کے قصبہ میں ایک نئے تعلیمی نظام کے آغاز کے لیے نئے عزم کے ساتھ متحرک ہوگئے تھے۔

ایک روایت ہے کہ دیوبند میں مدرسہ قائم ہونے کے کچھ عرصہ بعد ایک بزرگ حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ گئے اور حضرت حاجی صاحبؒ سے ملاقات ہوئی تو انہیں بتایا کہ ہم نے دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’ہماری پیشانیاں یہاں اس مقصد کے لیے سجدوں میں دعائیں کرتے کرتے گھس گئی ہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے۔‘‘ بہرحال یہ روایت جس درجہ کی بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں رہ کر کام کا ازسرنو آغاز کرنے والوں کی پشت پر حرمین شریفین سدھار جانے والے ان بزرگوں کی مخلصانہ دعائیں ہی کام کر رہی تھیں۔

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے مکہ مکرمہ میں مدرسہ صولتیہ قائم کیا جو آج بھی تعلیمی خدمات میں مصروف ہے اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے پڑپوتے مولانا حشیم صاحب اس کے مہتمم ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق مکہ مکرمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے دو تین کارنامے بہت اہم شمار کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے قبل مکہ مکرمہ میں ڈاک کی تقسیم کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا، لوگ حرم پاک کے دروازوں پر خط رکھ جاتے تھے جہاں سے تلاش کے بعد متعلقہ لوگ خود ہی اپنی ڈاک اٹھا لیا کرتے تھے۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے ڈاک کے نظام کو مربوط بنایا اور خطوط باقاعدہ طور پر متعلقہ لوگوں تک پہنچانے کی ترتیب قائم کی۔ دوسرا کارنامہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ’’نہر زبیدہ‘‘ جو امیر المومنین ہارون الرشید کے زمانے میں ان کی زوجہ محترمہ زبیدہ خاتون نے مکہ مکرمہ تک پانی پہنچانے کے لیے تعمیر کرائی تھی وہ بند پڑی تھی جسے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے لوگوں کو ساتھ ملا کر دوبارہ کھدوایا اور مکہ مکرمہ کے لوگوں تک پانی کی فراہمی اس نہر کے ذریعے پھر سے شروع ہوگئی۔ تیسرا کارنامہ ان کا تاریخ میں یہ مذکور ہے کہ صنعت و حرفت کی تعلیم کا مکہ مکرمہ میں کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں تھا، مولانا کیرانویؒ نے صنعت و حرفت سکھانے کا مرکز قائم کیا جبکہ مدرسہ صولتیہ کا قیام تو ان کی خدمات میں شمار ہوتا ہی ہے۔

ہمارے ایک اور بزرگ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے کم و بیش سترہ برس تک مسجد نبوی میں حدیث نبوی کی تعلیم و تدریس کی خدمات سرانجام دیں اور وہاں بیٹھ کر بھی انہیں عالم اسلام کی آزادی کی فکر رہتی تھی۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان دنوں الجزائر فرانسیسی استعمار کا غلام تھا، وہاں کے ایک عالم دین نے جو بعد میں الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ کے نام سے متعارف ہوئے، مدینہ منورہ میں شیخ مدنی سے حدیث پاک کی تعلیم حاصل کی اور پھر اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ منورہ ہی میں تدریس کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے ان سے کہا کہ وہ اپنے وطن واپس جائیں اور علماء کرام کو ساتھ ملا کر آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔ شیخ بن بادیسؒ اس مشورہ پر الجزائر واپس گئے اور ’’جمعیۃ علماء الجزائر‘‘ بنا کر تحریک آزادی میں حصہ لیا، وہ الجزائر کی تحریک آزادی کے اہم راہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

حرمین شریفین کے ساتھ ہماری تحریک آزادی کے ایک اور باب کی تاریخ بھی وابستہ ہے کہ جب وہاں خلافتِ عثمانیہ کی حکمرانی تھی اور ہماری تحریکِ آزادی کے سرخیل شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ خلافتِ عثمانیہ کے حکمرانوں سے متحدہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے لیے مدد حاصل کرنے کی بات چیت کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے او ربعض ترک حکمرانوں سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ اس دوران مکہ مکرمہ میں خلافت عثمانیہ کے گورنر شریف حسین نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی، اس بغاوت کی حمایت نہ کرنے پر حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر برطانوی حکومت نے انہیں دیگر رفقاء سمیت مالٹا کے جزیرہ میں قید کر دیا جہاں سے ساڑھے تین سال کے بعد انہیں رہائی حاصل ہوئی۔ حسین شریف مکہ سے انگریزوں نے یہ کہہ کر خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کروائی تھی کہ اسے پورے عرب کا بادشاہ بنا دیا جائے گا مگر شریف مکہ کی دال نہ گلی اور اس کی بغاوت کی کامیابی کے بعد آل سعود نے حرمین شریفین کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں سعودی حکومت قائم کر لی۔

حرمین شریفین کے ساتھ ہمارے تاریخی تعلقات کا ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ اس مقدس سرزمین میں قرآن کریم کے حفظ و تجوید کا پہلا باقاعدہ مدرسہ ہمارے ایک بزرگ حاجی سیٹھی محمد یوسف مرحوم نے قائم کیا جن کا تعلق ایک نومسلم خاندان سے تھا۔ ان کے والد محترم نے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ سیٹھی محمد یوسف مرحوم ضلع گوجرانوالہ کے قصبہ راہوالی کی گتہ مل کے مالک تھے اور ان کا خاص ذوق تھا کہ مختلف علاقوں میں حفظ قرآن کریم کے مدارس قائم کرواتے تھے اور ان کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔ مکہ مکرمہ میں انہوں نے پہلا مدرسہ قائم کیا اور پاکستان سے قاری خلیل احمد صاحب کو لے کر وہاں گئے جنہوں نے مسجد حرام میں حفظ قرآن کریم کی کلاس شروع کی۔ بتایا جاتا ہے کہ حرمین شریفین کے امام محترم الشیخ عبد اللہ بن السبیل حفظہ اللہ تعالیٰ انہی کے شاگرد ہیں۔

حرمین شریفین کے ساتھ ہمارے تاریخی روابط کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے بہت سے اکابر اور بطور خاص شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا عاشق الٰہیؒ، حضرت مولانا سعید احمد خانؒ اور حضرت مولانا خیر محمدؒ (آف ٹھل حمزہ) نے برس ہا برس تک حرمین شریفین میں تعلیمی و تدریسی اور اصلاحی خدمات سرانجام دی ہیں۔ جبکہ اس سے قبل دہلی کی ولی اللہی درسگاہ کے مسند نشین حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ، حضرت شاہ عبد الغنی دہلویؒ اور ان کی عظیم محدثہ بیٹی الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہؒ کو حدیث نبوی کی تعلیم و سند میں مراجع کی حیثیت حاصل رہی ہے اور یہ سب کے سب بزرگ حرمین شریفین کی مقدس خاک میں آسودہ ہیں۔

شیخ محترم عبد الرحمان السدیس ایک مستقل علمی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس کی اپنی تاریخ ہے اور حرمین شریفین میں کم و بیش ایک صدی سے اس علمی مکتب فکر کی حکمرانی ہے۔ سعودی عرب میں دینی اقدار و روایات کے تحفظ، دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد و راہنمائی، حرمین شریفین کی قابل رشک اور مسلسل خدمت، اور عالم اسلام میں قرآن کریم کی تلاوت کے عمدہ اسلوب کا تعارف و فروغ اس تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔ اور اس کا تازہ ترین پہلو یہ ہے کہ امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق آج کے عالمی استعمار کو سب سے زیادہ شکایت دیوبندی اور سلفی مکاتب فکر ہی سے ہے۔ اس پس منظر میں دارالعلوم دیوبند میں معالی الدکتور الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کی قدم رنجہ فرمائی پر ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے اور ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان باہمی رابطوں، قربتوں اور محبتوں میں مزید اضافے کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: