بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۳ء

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:

  • عید سے پہلے تقریر کے بارے میں ایک مختصر سا مکالمہ درج کر دیتا ہوں جو حضرت والد محترمؒ کی وفات سے چند ماہ پہلے کا ہے اور برادرم مولانا قاری حماد الزھراوی سلّمہ کی موجودگی میں ہوا تھا۔ عید سے دو تین روز بعد میں حضرت والد محترمؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ قاری حماد صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ نے عید کی نماز کس وقت پڑھی ہے؟ وہ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی جگہ ان کی حیات میں ہی ان کی مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی یہ فریضہ انہی کے ذمہ ہے۔ انہوں نے وقت بتایا اور مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس وقت نماز پڑھی ہے؟ میں نے وقت بتایا جو ان کے وقت سے ایک گھنٹہ بعد کا تھا۔ حضرت والد محترمؒ یہ گفتگو سن رہے تھے۔ انہوں نے متوجہ ہو کر فرمایا کہ بہت دیر سے پڑھائی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہم نے پہلے تقریر بھی کرنی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ بعد میں لوگ سنتے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مروان بن الحکمؒ بھی یہی کہتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ عربی خطبہ کے بارے میں کہتے تھے، جبکہ ہم عربی خطبہ نماز کے بعد ہی پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ لوگ تقریر کو بھی خطبہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کا رُخ کسی اور طرف مڑ گیا اور اس کے بعد نہ انہوں نے کچھ فرمایا نہ میں نے کچھ عرض کیا۔
  • ہوائی جہاز میں نماز کا مسئلہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے کچھ مختلف سا ہے جو میں دورۂ حدیث کے طلبہ کے سامنے کئی بار بیان کر چکا ہوں اور شاید کہیں لکھا بھی ہے کہ میری بیرونی اسفار میں بسا اوقات حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے ساتھ رفاقت رہتی تھی۔ ان کا ذوق یہ تھا کہ وہ جہاز میں نماز کا وقت ہونے پر جس کیفیت میں ہوتے تھے، نماز پڑھ لیتے تھے اور پوری طرح اطمینان نہ ہونے کی صورت میں بعد میں نماز کا اعادہ کر لیتے تھے۔ ایک دو دفعہ مجھے بھی انہوں نے فرمایا، مگر مجھے اس پر اطمینان نہیں تھا۔ انہوں نے کسی بڑے بزرگ کے فتوے کا حوالہ بھی دیا۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت والد محترمؒ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایسی صورت میں نماز نہیں پڑھو گے، اس لیے کہ تم مولوی صاحب نظر آتے ہو۔ تم تو نماز کا بعد میں اعادہ کر لو گے، لیکن تمہیں دیکھ کر دوسرا کوئی شخص نماز پڑھے گا تو وہ اعادہ نہیں کرے گا۔ میں اس واقعہ کو حضرت والد محترمؒ کے ’’تفقہ‘‘ کی مثال کی صورت میں بیان کیا کرتا ہوں۔
  • جہاں تک نماز تراویح کے بعد اجتماعی دعا کا تعلق ہے، وہ دُعا یا اس کے التزام جس کو بھی بدعت کہتے تھے، اس سے منع بھی فرمایا کرتے تھے۔ مجھے اس کی تفصیل سے غرض نہیں، میں نے صرف اتنی بات عرض کی ہے کہ وہ جس بات کو غلط سمجھتے تھے، اس کا اظہار بھی کرتے تھے اور اس سے منع بھی کرتے تھے، لیکن اسے مسئلہ نہیں بناتے تھے بلکہ دلیل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، اختلاف کو سنتے تھے اور اسے اختلاف کے دائرے میں رکھتے تھے۔ میری شکایت ان حضرات سے ہے جو اپنے ذہن میں موجود موقف یا اپنے اردگرد محدود ماحول میں پائے جانے والے کسی موقف کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے کسی نے سیون اپ کی بوتل کھولتے ہی اس میں نمک کی چٹکی ڈال دی ہو۔ میں اس رویے کو شرعی، علمی اور اخلاقی تینوں حوالوں سے درست نہیں سمجھتا، اس کے خلاف مسلسل لکھتا رہتا ہوں اور آئندہ بھی یہ فریضہ سر انجام دیتا رہوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔