بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

۱۶ و ۱۷ جنوری ۲۰۱۲ء کو پی سی لاہور میں حلال فوڈ کے مسئلہ پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام ’’حلال ریسرچ کونسل‘‘ نے حکومت پنجاب کے محکمہ لائیو اسٹاک کے اشتراک و تعاون سے کیا تھا۔ حلال ریسرچ کونسل ہمارے محترم اور بزرگ دوست جسٹس (ر) خلیل الرحمان خان کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور جناب زبیر مغل اس کونسل کی انتظامی ذمہ داریوں کے مسئول ہیں جبکہ نوجوان عالم دین مفتی رئیس احمد کونسل کے شرعی معاملات کے مشیر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

مختلف ممالک میں حلال فوڈ پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور غیر مسلم ممالک میں بلکہ غیر مسلم سوسائٹیوں میں بھی حلال فوڈ کی طرف لوگوں کی توجہ اس حوالہ سے مبذول ہو رہی ہے کہ انسانی صحت کے لیے حلال فوڈ زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، اس لیے غیر مسلموں کا ایک حلقہ حلال فوڈ میں دلچسپی لینے لگا ہے جس سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی نسبت سے اس پر ریسرچ کی ضرورت ہر سطح پر بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سیمینار پاکستانی فوڈ کے صنعتکاروں کو اس سلسلہ میں بریف کرنے کے لیے اور اس نئے رجحان سے استفادہ کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے انعقاد پذیر ہوا۔

سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو شریک ہونا تھا لیکن اچانک مصروفیات کے باعث وہ نہ آسکے اور ان کی نمائندگی محکمہ لائیو اسٹاک کے صوبائی وزیر ملک احمد علی اولکھ نے کی جبکہ پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر محترم جناب اسحاق لانو کونسا نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ ان کے علاوہ پاکستان کے ممتاز افسران اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ، برطانیہ، ملائیشیا، فلپائن اور ماریشیس سمیت ۱۴ ممالک کے مندوبین شریک ہوئے۔ ’’بین الاقوامی حلال کانفرنس‘‘ کے عنوان سے یہ سیمینار دو روز جاری رہا اور مجھے جناب زبیر مغل کی دعوت پر ۱۶ جنوری کو ظہر کے بعد کی نشست میں مولانا جمیل الرحمان اختر کے ہمراہ حاضری کا موقع ملا۔ کانفرنس کی اس نشست کی ساری کاروائی انگریزی میں تھی اور ترجمہ یا خلاصہ کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لیے کم و بیش دو گھنٹے تک مندوبین کی صف اول میں ’’غیر محرم سامع‘‘ کے طور پر بیٹھنا پڑا۔ البتہ جسٹس (ر) خلیل الرحمان خان اور ملک احمد علی اولکھ صاحب نے کچھ باتیں اردو میں کیں تو کچھ کچھ بات سمجھ میں آئی اور کانفرنس کے مقاصد کا تھوڑا بہت اندازہ ہوا۔

بین الاقوامی مارکیٹ بالخصوص مغربی ملکوں میں یہودیوں نے حلال و حرام کے اپنے دائرے میں بہت کام کیا ہے اس لیے یہودی اداروں سے تصدیق شدہ حلال اشیاء کم و بیش ہر مارکیٹ میں ان کے مخصوص نشان کے ساتھ مل جاتی ہیں۔ اور یہودی ادارے اس کی باقاعدہ نگرانی کرتے ہیں کہ ان کے نشان کے ساتھ مارکیٹ میں آنے والی اشیاء دھوکے اور کھوٹ سے پاک ہوں اور ان کے نشان اور اشیاء کا اعتماد قائم رہے۔ مغربی ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنا شروع ہوئی تو انہیں مارکیٹ میں حلال اشیاء کی دستیابی اور ان کے اعتماد کے سلسلہ میں ابتداء میں بہت مشکلات پیش آئیں لیکن رفتہ رفتہ بعض اداروں نے اس کے لیے محنت شروع کی اور حلال فوڈ کی بہت سی پروڈکٹس مارکیٹ میں آنے لگیں۔ چنانچہ نہ صرف مغربی ممالک میں بلکہ بہت سے دیگر ممالک میں بھی حلال فوڈ کی ریسرچ اور مارکیٹ میں حلال کے عنوان سے آنے والی اشیاء کے اعتماد کے حوالے سے کام کرنے والے متعدد ادارے وجود میں آچکے ہیں اور ان میں شرعی راہنمائی کے لیے علماء کرام اور مفتیان کرام بھی شریک ہو رہے ہیں جو ایک خوش آئند امر ہے۔ بعض ممالک میں اس کے بارے میں حکومتی سطح پر قانون سازی ہوئی ہے اور حکومتیں بھی حلال اشیاء کے فی الواقع حلال ہونے کی ضمانت میں شریک ہوگئی ہیں جس سے اس سلسلہ میں جہاں اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں حلال فوڈ کے حلال ہونے کی گارنٹی کے سلسلہ میں سرکاری تصدیق کی طلب کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں اس سلسلہ میں ابھی تک قانون سازی نہیں ہوئی اس لیے حلال فوڈ کی پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں جگہ بنانے میں دشواری پیش آرہی ہے اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ حکومت پاکستان قانون سازی کر کے اس قسم کا کوئی سرکاری ادارہ قائم کرے جس کی تصدیق کے ساتھ فوڈ کی پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں جگہ بنا سکیں۔ چنانچہ بین الاقوامی حلال کانفرنس کے آرگنائزر جناب زبیر مغل کے مطابق دنیا بھر کی نظریں حلال فوڈ کی فراہمی کے لیے پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں اور پاکستان حلال فوڈ کا عالمی مرکز بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے جس سے پاکستانی صنعتکار بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ہمارا خیال بھی یہ ہے کہ پاکستان اپنے مذہبی اعتماد اور فوڈ کے وسائل کی فراوانی کے باعث دنیا بھر کو حلال فوڈ فراہم کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے تین باتیں بنیادی شرط کے طور پر ضروری ہیں:

  1. ایک یہ کہ حکومت قانون سازی کے اس خلا کو جلد از جلد پر کرے جو اس سلسلہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
  2. دوسری یہ کہ حلال فوڈ تیار کرنے والے ادارے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے اور اپنا اعتماد قائم کرنے کے لیے پورے خلوص اور دیانت داری کے ساتھ کام کریں۔ یہ بات اس تناظر میں اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے کہ بدقسمتی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی صنعت و تجارت کی ساکھ اور اعتماد کو بہتر بنانے کی ہر کوشش کرپشن کی دھند میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔
  3. تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے علمی و دینی ادارے و مراکز اس طرف متوجہ ہوں اور حلال فوڈ کی پاکستانی مصنوعات کا اعتماد قائم کرنے اور پھر اس کو بحال رکھنے کے لیے پاکستان کی فوڈ صنعت کی راہنمائی اور نگرانی کا فریضہ سرانجام دیں۔

دو روزہ سیمینار کی اس نشست میں مجھے بھی کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا اور میں نے سیمینار کی ’’غیر محرم زبان‘‘ اردو میں دو گزارشات پیش کیں:

  1. ایک یہ کہ حلال ریسرچ کونسل چونکہ عالمی سطح پر کام کر رہی ہے اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حلال و حرام اشیاء کی نشاندہی اور اس کی فہرستیں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے اسلامی فلسفہ اور آج کے عالمی فلسفہ کے درمیان فرق کو اجاگر کیا جائے۔ اور اس پر آج کی زبان اور نفسیات و ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے ریسرچ کی جائے تاکہ ہم اس فرق کو دنیا کے سامنے واضح کر سکیں۔ مثلاً آج کی دنیا میں حلال و حرام او رجائز و ناجائز کے تعین کی بنیاد سوسائٹی اور مارکیٹ ہے۔ سوسائٹی جس چیز کو عملاً قبول کر لے اور مارکیٹ جس چیز کو راستہ دے دے وہ جائز اور حلال تصور ہونے لگتی ہے۔ جیسا کہ امریکی کانگریس نے اب سے صرف پون صدی قبل شراب نوشی کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے لیے باقاعدہ سزا مقرر کی تھی۔ لیکن جب یہ قانون سوسائٹی میں شراب نوشی کو روکنے میں ناکام ہوگیا تو قانون کو واپس لے کر شراب کو مباحات کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ جبکہ اسلام میں حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اس کی طرف سے قرار دیے گئے حلال اور حرام میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ حلال و حرام کی یہ بات پورے عالم اسلام کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے تو اس کے لیے ہمیں حلال و حرام کے اپنے داخلی دائروں کو بھی واضح کرنا ہوگا۔ مثلاً پاکستان میں احناف (امام ابوحنیفہؒ کے ماننے والوں) کی اکثریت ہے جبکہ انڈونیشیا میں شوافع (امام شافعیؒ کے ماننے والوں) کی اکثریت ہے۔ احناف اور شوافع کے درمیان حلال و حرام کے بعض دائرے مختلف ہیں۔ اس لیے جوں جوں بات آگے بڑھے گی ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرے نزدیک اس کا حل بات کو چھپانا یا تاویلات کرنا نہیں ہے کیونکہ اس سے کنفیوژن پیدا ہوگا، بلکہ کھلے دل کے ساتھ اختلافات کے ان دائروں کو تسلیم کرنا، دلائل کے ساتھ نئی تعلیم یافتہ نسل کو اعتماد میں لینا اور مسلمہ فقہی حدود کے اندر قابل عمل درمیانی راستے تلاش کرنا ضروری ہے۔ جس کے لیے حلال ریسرچ کونسل بہت مناسب فورم ہے جو مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ اور مستند علماء کرام کو مشاورت میں شریک کر کے یہ کام بہتر طور پر کر سکتا ہے۔

بہرحال مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ نہ صرف عالم اسلام بلکہ دنیا بھر میں حلال و حرام پر گفتگو کا رجحان بڑھ رہا ہے اور مسلمان صنعت کار حلال فوڈ کی فراہمی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: