حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا فقہی و سیاسی ذوق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
نامعلوم

(امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہم عالم اِسلام کی ایک عظیم شخصیت حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی نسبت سے جمع ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ نسبت ہمارے لیے اصل سرمایہ ہے۔ اپنے بڑوں ، بزرگوں اور اکابر کے ساتھ درجہ بہ درجہ ہماری نسبتیں ہی ہمارا اَثاثہ ہیں۔ میں اس بات کو بجلی کے کنکشن سے تعبیر کیا کرتا ہوں کہ کنکشن قائم ہو تو کچھ نہ کچھ ملتا ہی رہتا ہے، لوڈشیڈنگ ہو تب بھی کام چلتا رہتا ہے، لیکن اگر کنکشن کٹ جائے تو کچھ بھی ملنے کی امید نہیں رہتی۔ یہ در اَصل دین کے مراکز کے ساتھ اور دین کی بڑی شخصیات کے ساتھ ہمارے کنکشنز ہیں جو ہمیں اپنے نظریہ و مقصد سے جوڑے ہوئے ہیں۔ پھر حضرت امام ابو حنیفہؒ کی نسبت تو اتنی بڑی نسبت ہے کہ اِس پر جس قدر فخر کیا جائے کم ہے۔

حضرت امام صاحبؒ کی حیات پر، آپؒ کی جدوجہد پر اور آپؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر آپ حضرات نے اِس نشست میں متعدد علمائے کرام کے ارشادات سنے ہیں اور میری گفتگو کے بعد مزید علماء کے ارشادات سنیں گے۔ مجھ سے یہ کہا گیا ہے کہ اِمام صاحبؒ کی زندگی کے سیاسی پہلوؤں پر بات کروں۔ یہ ایک مستقل اور لمبی گفتگو کا موضوع ہے لیکن میں اِس وقت صرف دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے خیال میں حضرت امام ابو حنیفہؓ کی جدوجہد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے علمی دنیا کو، افتاء کی دنیا کو، استنباط کی دنیا کو اور فتویٰ و رائے کی دنیا کو مشاورت اور اجتماعیت کا رنگ دیا۔ استنباط اور اجتہاد امام صاحبؒ سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور بعد میں بھی یہ اپنے دائرے میں قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ لیکن جس شخصیت نے اجتہاد و استنباط کو اجتماعیت کی شکل دی، باہمی مشاورت کا باضابطہ نظم قائم کیا دی اور امت مسلمہ کی اجتماعی رہنمائی کا راستہ دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ حضرت امام ابو حنیفہؒ ہیں۔

اجتماعی و شورائی فقہ

میں حضرت امام ابو حنیفہؓ کی فقہ کو شخصی فقہ نہیں سمجھتا۔ آپ حضرات میری اس بات سے اتفاق یا اختلاف کا حق رکھتے ہیں اس لیے کہ جب میں خود اختلاف کا حق رکھتا ہوں تو اختلاف کا حق دیتا بھی ہوں۔ باقی مذاہب کی فقہیں شخصی ہیں اور اُن کے شخصی فقہ ہونے پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہؒ کی فقہ اجتماعی اور شورائی فقہ ہے اس لیے کہ امام صاحبؒ نے اپنے ساتھیوں اور تلامذہ کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مباحثہ کیا اور استنباط، اختلاف، استدلال اور اجتماعی مشاورت کا طریقہ اختیار کیا۔ فقہ حنفی و غیر حنفی کی جو روایات ہمارے سامنے ہیں، جن کی بنیاد پر ہم فتویٰ دیتے ہیں، وہ ایک اجتماعی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ یہ فقہ حنفی کا سب سے بڑا اِمتیاز ہے۔ قانون سازی، استنباط، احکام کی تعبیر و تشریح اور احکام کا أخذ، امام صاحبؒ نے اس میں اجتماعیت کی بنیاد ڈالی۔ فقہ اور اجتہاد میں حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اجتماعیت اور شورائیت کو فروغ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ امام صاحبؒ کے اس ذوق کی پیروی ہی آج کی ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ہمارے علمی فیصلوں میں مشاورت، اجتماعیت، استدلال اور مباحثے کا پہلو اجاگر ہو۔ امام صاحبؒ نے اُس وقت کے مسائل سامنے رکھ کر جس طرح استنباط و استدلال کیا اور امت کے سامنے ایک اجتماعی فقہ پیش کی، آج بھی ضرورت ہے کہ ہم اُن اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے باہمی مشاورت کا اہتمام کریں اور علمی دنیا میں اجتماعیت کا ذوق بیدار کریں۔

امام صاحبؒ کا سیاسی ذوق

امام صاحبؒ کے بارے میں سیاست کے حوالے سے بہت سی باتیں عام طور پر کی جاتی ہیں، اِس وقت لمبی گفتگو کا موقع نہیں ہے، میں آپ حضرات کو امام صاحبؒ کے سیاسی ذوق سے متعارف کرانے کے لیے اُن کی تین گرفتاریوں کا ذکر کرنا چاہوں گا، اِس سے زیادہ کا وقت شاید اِس نشست میں ہمارے پاس نہیں ہے۔ امام صاحبؒ کی زندگی میں تین گرفتاریوں کے مراحل پیش آئے ہیں۔ میں اِس وقت پس منظر اور تفصیلات میں جائے بغیر امام صاحبؒ کے ذوق کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ یہ واقعہ کوفہ کے گورنر خالد کے بارے میں ہے جو بنو اُمیہ کے دور کا ایک گورنر تھا۔ مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ نے اسے نقل کیا ہے۔

حکمرانوں کے خلافِ شرع کاموں کی نشاندہی

ایک دفعہ اِمام صاحبؒ جمعہ کے لیے تشریف لائے تو خالد صاحب نے جمعہ کا خطبہ شروع کرنے کے بجائے ممبر پر بیٹھ کر سرکاری دستاویزات کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اتنی دیر تک پڑھتے رہے کہ عصر کا وقت داخل ہونے لگا اور وہ بھی اِمام صاحبؒ والا مثل ثانی عصر کا وقت ۔ راوی کہتا ہے کہ ایک صاحب کنکریاں ہاتھ میں لیے بڑی تیزی سے آگے بڑھے اور گورنر صاحب کی طرف رخ کر کے پھینکتے جا رہے ہیں اور کہتے جا رہے ہیں کہ خدا کے بندے ایک نماز کا وقت نکل رہا ہے اور دوسری نماز کا وقت داخل ہو رہا ہے یہ تم کیا کر رہے ہو۔ یہ شور سن کر خالد صاحب نے نماز تو پڑھا دی لیکن ساتھ ہی پولیس کو اشارہ کیا کہ اس آدمی کو پکڑ لو۔ یہ آدمی امام صاحبؒ تھے اور یہ ان کی پہلی گرفتاری تھی۔ انہیں گورنر کے سامنے پیش کیا گیا، گورنر نے پوچھا کہ بھئی میرے خطبے میں یہ سرِعام حرکت تم نے کیوں کی۔ اِمام صاحب نے اس پر قرآن مجید کی آیت پڑھی فَخَلَفَ مِن بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیٍّا (سورۃ مریم ۵۹) پھر ان کی جگہ ایسے نا خلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پھر عن قریب گمراہی کی سزا پائیں گے۔ امام صاحبؒ نے گورنر سے فرمایا کہ نماز کا وقت پر پڑھنا تمہاری سرکاری کاروائی سے مقدم ہے اور تم اِس اضاعوا الصلوۃ کے زمرے میں جا رہے تھے جبکہ میں نے تمہیں اس زمرے میں جانے سے روکا ہے اور تمہیں توجہ دلائی ہے کہ وقت پر نماز پڑھ لو۔ گورنر نے پوچھا کیا اس کے سوا تمہارا اور کوئی مقصد نہیں تھا؟ امام صاحبؒ نے جواب دیا خدا کی قسم میرا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ گورنر نے کہا ٹھیک ہے جاؤ۔

چنانچہ امام صاحبؒ کا ذوق یہ تھا کہ حکمران یا بڑے لوگ اگر دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ان کے اس کام کی نشاندہی کرنا، ان پر صدائے احتجاج بلند کرنا، انہیں آگے بڑھنے سے روکنا اور صحیح راستے کی طرف ان کی توجہ دلانا۔ یہ بھی حنفیت کا ایک پہلو ہے۔

امت کو مشکل مراحل سے نکالنا

ایک اور واقعہ ذکر کرتا ہوں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خارجیوں نے مختلف شہروں پر قبضے شروع کر رکھے تھے۔ خارجیوں کا اس زمانے میں جو تعارف تھا وہ قراء کا تھا اور وہ قاری کہلاتے تھے۔ اس لیے بصرے پر خارجیوں کے قبضے کو قاریوں کا قبضہ کہا جاتا تھا کہ بصرہ پر قاریوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ یہ لوگ بہت زیادہ قرآن کریم پڑھتے تھے اور نفل بھی بہت پڑھتے تھے۔ انہوں نے جب بصرہ پر قبضہ کیا اور حکومت چھینی تو روایات میں آتا ہے کہ چھ ہزار کے قریب افراد کو انہوں نے شہید کیا۔ بعض روایات کے مطابق ان میں صحابہ بھی شامل تھے، تابعین تو بہرحال تھے ہی۔ بصرہ کے بعد کوفہ پر قبضہ ہوا۔ ضحاک ایک بڑا خارجی کمانڈر تھا۔ اس زمانے میں کوفے کے گورنر تھے عبد اللہ بن عمر بن عبد العزیزؒ ۔ اُن سے ضحاک کی کمان میں خارجیوں نے جنگ لڑی اور شکست دے کر کوفہ پر قبضہ کر لیا۔ قبضہ کرنے کے بعد ضحاک کوفہ کی جامع مسجد میں آکر بیٹھ گیا اور ہزاروں خارجی اس کے اردگرد تلواریں لے کر کھڑے ہوگئے۔ خارجیوں کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہوتا تھا۔ ضحاک نے اعلان کروایا کہ کوفہ کی ساری آبادی مرتد ہوگئی ہے اس لیے سب باری باری میرے سامنے آکر توبہ کریں، جو توبہ کرے گا اسے معافی مل جائے گی اور جو نہیں کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ضحاک کے کارندوں نے اسے امام ابو حنیفہؒ کے متعلق بتایا کہ یہ یہاں کا بڑا شیخ ہے یہ اگر مان گیا تو کوفہ کے باقی لوگ بھی مان جائیں گے لیکن اگر یہ اڑ گیا تو باقیوں کے ماننے کی توقع بہت کم ہے۔

امام صاحبؒ کو گرفتار کر کے کوفہ کی جامع مسجد میں ضحاک کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ ضحاک نے امام صاحبؒ سے کہا تب من الکفر یا شیخ کفر سے توبہ کرو۔ امام صاحبؒ نے جواب دیا انا تائب عن کل کفر میری ہر کفر سے توبہ۔ ضحاک اس معاملے میں موٹے دماغ کا آدمی تھا اس نے کہا ٹھیک ہے جاؤ۔ امام صاحبؒ دروازے تک پہنچے تو کسی نے ضحاک کو بتایا کہ امام صاحبؒ تو در اصل تمہارے کفر سے توبہ کر کے گئے ہیں۔ ضحاک نے امام صاحب کو بلا کر پھر سامنے کھڑا کر دیا اور وضاحت طلب کی کہ شیخ تم نے کس کفر سے توبہ کی ہے؟ ہمارے خیال میں تم نے ہمیں کافر کہہ کر ہمارے کفر سے توبہ کی ہے۔ امام صاحبؒ نے پوچھا یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں نے تمہارے کفر سے توبہ کی ہے، ایسا سمجھنا تمہارا گمان ہے یا یقین؟ ضحاک نے کہا کہ یہ میرا گمان ہے کہ تم نے ہمارے کفر سے توبہ کی ہے۔ امام صاحبؒ نے قرآن مجید کی آیت کا ایک جملہ پڑھا ان بعض الظن اثم، اور پھر ضحاک سے کہا کہ قرآن مجید کے مطابق اپنے عقیدہ کی رُو سے تم خود کافر ہوگئے ہو اس لیے پہلے تم توبہ کرو۔ ضحاک نے بوکھلا کر کہا اوہو غلطی ہوگئی ٹھیک ہے میں توبہ کرتا ہوں۔ پھر کہا میں نے توبہ کر لی اب تم بھی توبہ کرو۔ امام صاحب نے پھر کہا انا تائب عن کل کفر میری ہر کفر سے توبہ۔ ضحاک نے کہا جاؤ بابا جاؤ۔ امام صاحب گھر آگئے۔

مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے بڑے مزے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ امام صاحب گھر پہنچے تو علماء کا ایک وفد پیچھے پیچھے پہنچا کہ بابا جی آپ تو ذہانت اور حوصلے سے اپنی جان چھڑوا آئے ہو لیکن ہمارا کیا بنے گا اور پھر کوفہ کی آبادی کیا کرے گی۔ چنانچہ امام صاحبؒ اِس دفعہ خود ضحاک کے پاس گئے اور وہاں جا کر کھڑے ہوگئے۔ ضحاک نے پوچھا بابا اب کس لیے آئے ہو؟ امام صاحب نے کہا ایک بات سمجھنے کے لیے آیا ہوں۔ اس نے پوچھا کیا؟ فرمایا، آپ نے کہا ہے کہ کوفہ کی آبادی ایک ایک کر کے میرے سامنے آکر توبہ کرے اور جو توبہ نہیں کرے گا وہ قتل کر دیا جائے گا۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ وہ توبہ کس چیز سے کریں۔ ضحاک نے کہا کہ وہ ارتداد سے توبہ کریں کیونکہ وہ مرتد ہوگئے ہیں۔ امام صاحب نے کہا، اچھا مرتد تو اسے کہتے ہیں جو اپنا دین تبدیل کر لے۔ کوفہ کے لوگ اپنے باپ دادا کے دین پر ہیں یا انہوں نے کوئی دوسرا دین اختیار کر لیا ہے? یہ لوگ تو اسی دین پر ہیں جس پر پیدا ہوئے تھے انہوں نے تو اپنا دین تبدیل نہیں کیا تو پھر وہ مرتد کیسے ہوگئے? ضحاک چونک پڑا اور کہا کہ أعد اپنی بات دہراؤ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اس پر امام صاحب نے اپنی بات دہرائی اور ضحاک سے کہا کہ تم کوفہ کی آبادی کو مرتد قرار دے کر ان سے توبہ کا مطالبہ کر رہے ہو۔ مرتد تو اسے کہتے ہیں جو اپنا دین تبدیل کر کے کوئی دوسرا دین اختیار کرے جبکہ یہ کوفہ کے لوگ تو جس دین پر پیدا ہوئے تھے اسی دین پر چلے آرہے ہیں، انہوں نے تو اپنا دین تبدیل نہیں کیا تو پھر یہ لوگ کیسے مرتد ہوگئے۔ اس پر ضحاک نے کہا ، ہاں یہ تو ہم سے غلطی ہوگئی۔ اس نے اپنے لشکر سے کہا کہ اپنی تلواریں نیچی کر لو۔ چنانچہ امام صاحبؒ ضحاک سے اس کی غلطی کا اعتراف کروا کر گھر واپس آئے اور بغیر کسی جنگ و جدل کے، اپنے علم، حوصلہ و ذہانت سے معاملہ حل کیا۔ جسے محاورے کی زبان میں کہتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

اس وقت کے ایک بزرگ ابو معاد بلخیؒ کا قول ہے اھل الکوفة کلھم موالی ابی حنیفة لانە کان سبب عتقھم کوفہ کی ساری آبادی ابو حنیفہ کی موالی (آزاد کردہ غلام) ہے کہ وہ ان کی آزادی کا سبب بنے ہیں۔ امام صاحبؒ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا معیار بھی ہمیں دکھایا اور یہ بھی بتایا کہ امت مشکل میں پھنس جائے تو دانشوروں کا کیا کام ہوتا ہے۔ یعنی امام صاحب نے ہمیں یہ سبق دیا کہ قوم مشکل میں پھنس جائے اور کسی آزمائش میں مبتلا ہو جائے تو دانشوروں کا کام یہ ہوتا ہے کہ حکمت عملی اور تدبر سے قوم کو اس مصیبت سے نکالیں۔ ورنہ بصرہ کا منظر کوفہ والوں کے سامنے تھا۔ لیکن کوفہ والے امام صاحبؒ کے حوصلے، تدبر اور حکمت عملی کی وجہ سے اِس صورت حال سے نکلے۔

امام صاحبؒ کا سیاسی کردار

امام صاحب کو بنو امیہ ، بنو عباس، خوارج اور معتزلہ، ان سب ادوار کا سامنا کرنا پڑا۔ امام صاحبؒ کسی تحریک میں براہ راست شریک نہیں ہوئے لیکن انہوں نے اصلاح کی ہر تحریک کو سپورٹ کیا۔ نفس زکیہ کو بھی سپورٹ کیا اور ابراہیم کو بھی لیکن خود شریک نہیں ہوئے جس کی اپنی مصلحتیں تھیں۔ امام صاحبؒ کی زندگی میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ بنوعباس کے ایک بڑے کمانڈر کو نفس زکیہ کے بھائی ابراہیم کے خلاف فوج کشی کا حکم ہوا۔ امام صاحبؒ نے اسے بلا کر کہا کہ نہیں بھئی ایسا نہ کرنا جس پر اس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا لیکن ابراہیم کے خلاف فوج کشی نہیں کی۔ یہ میں امام صاحب کا سیاسی رول بتا رہا ہوں کہ امام صاحبؒ نے پس پشت اصلاح کی ہر تحریک کی مالی، سیاسی و اخلاقی سپورٹ کی۔

یہ بات آپ کے علم میں ہوگی کہ امام صاحبؒ کی آخری عمر کہاں گزری۔ بنو عباس کا دور آگیا تھا۔ امام صاحبؒ کو قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کر کے اپنے سسٹم کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اصل بات یہ نہیں تھی کہ قضاء کے عہدے پر ایک عادل آدمی بیٹھے، بلکہ حاکم کا اصل منشاء یہ تھا کہ ایک صاحب علم آدمی جس کی بات دنیا مانتی ہے وہ ہمارے سسٹم کا حصہ بن جائے اور ہماری قوت میں اضافہ کرے۔ چنانچہ امام صاحبؒ نے انکار کر دیا تھا۔ اس پر مکالمہ بھی ہوا اور دونوں طرف سے قسمیں بھی اٹھائی گئیں۔ پھر امام صاحبؒ کے انکار پر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ بعض روایا ت ہیں کہ امام صاحبؒ کو کوڑے بھی مارے گئے۔ امام صاحبؒ نے جیل قبول کر لی لیکن ظلم کے نظام کا حصہ نہیں بنے۔

یہ میں نے آپ حضرات کے سامنے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کی دو تین جھلکیاں پیش کی ہیں۔ اس لیے امام صاحبؒ ہمارے لیے سیاسی دنیا میں ایک اسوہ ہیں۔ اللہ کرے کہ ہم بھی ان میں سے کسی بات کی پیروی کر سکیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔