برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اگست ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
’’گر یہ نہیں ہے بابا پھر سب کہانیاں ہیں‘‘

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں آباد یہودی قبائل دس محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے بحیرۂ قلزم پار کیا تھا اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اس میں غرق ہوا تھا جس سے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے امیر المومنین حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ کے قرآن کریم میں ایک آیت ایسی ہے کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اسے عید کا دن بنا لیتے۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے تو اس نے کہا الیوم اکملت لکم دینکم والی آیت جس میں دین کو مکمل کر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کریمہ یوم العرفہ یعنی حج والے دن نازل ہوئی تھی اور وہ دن جمعہ کا دن تھا۔ گویا ہمارا تو وہ پہلے سے ہی عید کا دن ہے۔

۱۴ اگست کا یوم آزادی ہمارے لیے اپنے اندر یہ دونوں نسبتیں رکھتا ہے۔ اس دن ہم نے برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور اس کے ساتھ دین کامل کے ساتھ اپنے قومی رشتے کی تجدید کا عملی اظہار بھی کیا تھا۔ چنانچہ یہ ایک خوشگوار تاریخی حقیقت ہے کہ ۱۹۲۴ء میں اسلام کے نام پر چار صدیوں سے قائم عالمی ریاست ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کے خاتمہ کا اعلان کر کے ریاست اور مذہب کا جو رشتہ بظاہر توڑ دیا گیا تھا اس کے بعد ربع صدی سے بھی کم وقت میں یہ رشتہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے عالمی منظر پر دوبارہ پوری دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوگیا تھا۔ اس لیے ۱۴ اگست کا دن ہمارے لیے یوم آزادی بھی ہے اور اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کی تجدید کا دن بھی ہے۔ اور ان دونوں حوالوں سے ہمیں اس سال چودہ اگست کے تاریخی موقع پر اپنے عزم و ارادہ اور عمل و کردار کا جائزہ لیتے ہوئے تجدید عہد کے مرحلہ سے گزرنا ہے۔

آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ جس آزادی کا اعلان ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو کیا گیا تھا وہ آج کے دور میں کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اس لیے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں، اور ہم قومی خواہش اور مسلسل اجتماعی کوشش کے باوجود اسے اپنی گردن سے اتارنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو کام اور فیصلے پہلے وائسرائے اور وزارت امور ہند کے ٹائٹل کے ساتھ ہمارے کھاتے میں ڈالے جاتے تھے وہ اب عالمی کنونشنز اور بین الاقوامی قوانین کے عنوان سے ہمارے گرد اپنا حصار تنگ کرتے جا رہے ہیں۔ اور ہماری پاس بے بسی کے ساتھ ان کے پیچھے گھسٹتے چلے جانے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔ نہ صرف بین الاقوامی معاملات بلکہ قومی اور داخلی امور میں بھی ہماری قومی خودمختاری سوالیہ نشان کی زد میں ہے اور اب تو یہ معاملات ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے بڑھ کر ’’روبوٹ کنٹرول‘‘ کے دائرہ میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اسی قسم کی صورتحال ریاست، سوسائٹی اور عقیدہ و تہذیب کے باہمی تعلق کی بھی ہے۔ اب سے پون صدی قبل ہماری زبانوں پر عام طور پر یہ باتیں ہوتی تھیں کہ ہم ایک الگ عقیدہ رکھتے ہیں، ہماری تہذیب دیگر ہم وطنوں سے مختلف ہے اور ہم اپنی قومی و معاشرتی زندگی کو اپنے عقیدہ، دین اور تہذیب و ثقافت کے دائرے میں از سر نو تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کے لیے الگ وطن ہماری قومی ضرورت ہے، اور ہم ایک الگ اور آزاد ریاست کے بغیر اپنے ملی و قومی مقاصد کی طرف پیش رفت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب اس بنیاد پر ایک الگ ریاست قائم ہوگئی اور متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرا لینے کے بعد ہم نے اپنے نئے آزاد ملک کے دستور کی بنیاد بھی انہی مذکورہ مقاصد و عزائم کے حوالہ سے طے کر دی تو اب ہمارے دماغوں میں یہ سوال گھسیڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا اسلامی تہذیب کا کوئی الگ وجود بھی ہے؟ اور کیا مذہب و عقیدہ کا سوسائٹی اور ریاست کے ساتھ کوئی تعلق بھی ہوتا ہے؟ حتیٰ کہ اس قسم کے بے ہودہ سوالات کے لیے ذہنوں میں جگہ بنانے کی خاطر ہم نے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے مخلص قائدین پر یہ الزام لگانا بھی ضروری سمجھ لیا ہے کہ وہ اگر اسلام کا نام لیتے تھے اور تحریک پاکستان میں اسلامی تہذیب و تمدن اور عقیدہ و ثقافت کا اکثر ذکر کرتے تھے تو ریاست اور سوسائٹی ان کے پیش نظر نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ صرف مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ باتیں کہہ دیا کرتے تھے، اور وہ اسلام کے نام پر اسی قسم کی نئی لامذہب ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھے جو نوآبادیاتی تسلط کے نتیجے میں ہمارے اردگرد دنیا میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔

۱۴ اگست اگر ہمارا قومی ’’یوم آزادی‘‘ ہے تو اس دن کی روایتی تقریبات کے ساتھ ساتھ ہمیں حقیقی قومی آزادی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے لیے ’’تجدید عہد‘‘ کا فریضہ بھی سر انجام دینا ہوگا، کیونکہ

گر یہ نہیں ہے بابا پھر سب کہانیاں ہیں