نئے وزیراعظم کو درپیش چیلنجز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مارچ ۲۰۰۸ء

جناب یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے ساتھ ہی ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تبدیلیوں کا عملی آغاز ہوگیا ہے اور عدلیہ کے قابل صد احترام جج صاحبان کی رہائی کے حکم کے ساتھ یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومتی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس سے عام شہریوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے کہ ملک کے عوام نے ۱۸ فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے رائے عامہ کے اجتماعی رجحانات کی جو جھلک دنیا کے سامنے پیش کی ہے اسے احترام کا عملی درجہ حاصل ہونے والا ہے۔

یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں میں سے ہیں۔ انہوں نے کئی برس جیل میں گزار کر پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور پارٹی کی قیادت اور پالیسیوں کے ساتھ ان کی وفاداری کا تسلسل انہیں اس مقام تک لے آیا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے ہیں بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ ساتھ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی انہیں اپنے اعتماد سے نوازا ہے۔ اس طرح وہ ملک کی بہت سی سیاسی پارٹیوں کے مشترکہ نمائندہ کے طور پر اپنے اقتدار کا دور شروع کر رہے ہیں۔ یہ ان پر قوم کی غالب اکثریت کے اعتماد کا مظہر ہے اور ایک عظیم چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے کہ وہ متنوع مزاجوں اور مختلف خیالات کی حامل جماعتوں اور طبقات کو کس طرح ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کے انتخاب میں تنوع کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق ملتان سے ہے اور گزشتہ ۸ برس کے دوران یہ اعزاز ملتان کے حصے میں آیا ہے کہ اس کے دو سپوتوں مخدوم جاوید ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی نے آمریت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے عزیمت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا اور ڈکٹیٹرشپ کو پورے حوصلہ کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ آج کی سیاست میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مفادات اور اقتدار کی سیاست کرنے کی بجائے اصولوں اور اقدار کے ساتھ وابستہ رہنے اور ان کے لیے قربانیاں دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اس لیے گزشتہ ۸ سالہ سیاسی دور کی تاریخ میں جب ایثار اور قربانی کے باب میں آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ، میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے دیگر رفقاء کے نام نمایاں ہوں گے تو جاوید ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی کے نام بھی مستقل عنوانات کے ساتھ تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

ملک کے نئے وزیراعظم کا ملتان کے ساتھ تعلق قومی سیاست میں اس نئی سیاسی کروٹ کا بھی عنوان ہے کہ پنجاب کی سرائیکی پٹی میں ایک عرصہ سے جس محرومی کا سیاسی حلقوں میں تذکرہ چل رہا ہے اور اس محرومی کے احساس کو کیش کرانے کی مختلف اطراف سے مسلسل کوششیں بھی ہو رہی ہیں، اس کے مداوے کی صورت سامنے آئی ہے۔ اور یوسف رضا گیلانی کا ایک امتحان یہ بھی ہے کہ وہ سرائیکی پٹی کے اس مبینہ احساس محرومی کی تلافی کے لیے اپنے دورِ اقتدار میں کیا کچھ کر پاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر وہ اپنی پالیسیوں اور طرزعمل سے اس احساس کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی یہ کامیابی سیاسی اور نظریاتی دونوں حوالوں سے قومی وحدت کے استحکام کا باعث بنے گی اور انہیں بے شمار اصحابِ دل کی دعائیں ملیں گی۔

قومی سیاست میں اس پیش رفت پر جناب یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ساتھ انہیں آگے لانے والی سیاسی پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، نیشنل عوامی پارٹی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور ایم کیو ایم کے قائدین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہم اس اجتماعی سیاسی قیادت بالخصوص جناب یوسف رضا گیلانی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور اس مرحلہ میں ملک کے ایک عام شہری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بلاشبہ ان کے سامنے مسائل کا انبار ہے اور مشکلات کا اس قدر ہجوم ہے کہ:

تن ہمہ داغ داغ شد
پنبہ کجا کجا نہم

کا منظر دکھائی دے رہا ہے، اس لیے انہیں ان مسائل و مشکلات کے حل کی ترجیحات طے کرنے میں یقیناً وقت لگے گا اور ان ترجیحات کے مطابق عملی پیش رفت میں بھی دیدہ اور نادیدہ رکاوٹوں سے قدم قدم پر سابقہ پیش آئے گا۔ مگر ملک کا ایک عام شہری اس فضا میں ان سے کیا توقعات رکھتا ہے اس کا ایک ہلکا سا نقشہ ہمارے خیال میں اس طرح سامنے آتا ہے کہ:

  • اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہمارے خیال میں یہ ہے کہ ہم قومی سطح پر اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار بحال کریں۔ بدقسمتی سے اس وقت عام تاثر یہی ہے اور یہ خلاف واقعہ نہیں ہے کہ ہم اپنے فیصلے اور پالیسیاں طے کرنے میں خودمختار نہیں ہیں۔ اس لیے جب تک ہم اپنا یہ اختیار اور اس پر عوام کا اعتماد بحال نہیں کر لیتے قومی سطح پر جتنی اچھی پالیسیاں بھی بنا لی جائیں اور جتنے عمدہ فیصلے بھی کر لیے جائیں ان کے گرد شکوک و شبہات کی دھند ڈیرہ ڈالے رہے گی۔ اور شکوک و شبہات کی فضا میں اچھے سے اچھا فیصلہ بھی مطلوبہ نتائج اور مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
  • دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا اہتمام ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ دستور اور قانون کو ہمارے ہاں اب تک حکمرانی کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ بلکہ یہ دو ہتھیار ہیں جنہیں ہم ہر سطح پر اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور اس طرز عمل میں ہمارا کوئی طبقہ اور فرد (اکا دکا مستثنیات کے ساتھ) پیچھے نہیں ہے، جس کا جب اور جہاں داؤ لگتا ہے وہ اس سے گریز نہیں کرتا۔ اس لیے جب تک ہم دستور اور قانون کو ہتھیار اور حربے کے دائرے سے نکال کر حکمرانی کا درجہ نہیں دیتے اور اس کے لیے خلوصِ دل کے ساتھ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہم قوم کے بہتر مستقبل بلکہ اسے مزید خلفشار، انارکی اور بربادی سے بچانے کے لیے بھی کچھ نہیں کر پائیں گے۔
  • کرپشن ہمارا تیسرا بڑا مسئلہ ہے۔ بدعنوانی ہمارے قومی مزاج اور کلچر کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا کہ جب امانت ضائع ہونے لگے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ سوال کرنے والے نے دریافت کیا کہ امانت کے ضائع ہونے کی عملی صورت کیا ہوگی؟ آقائے نامدارؐ نے فرمایا کہ جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں گے تو پھر قیامت ہی کا انتظار کرنا۔ یہ کرپشن کی سب سے بدترین شکل ہے کہ مناصب اور عہدے اہلیت، دیانت اور صلاحیت کے بجائے دیگر ترجیحات کے حوالے سے سپرد کر دیے جائیں۔ اور اس کرپشن کے نتیجے میں ہم صرف قیامت کا انتظار ہی نہیں کر رہے بلکہ دنیا کی قیامت بھگت بھی رہے ہیں لیکن اپنے کسی سطح کے معاملات کے لیے اہلیت، دیانت، صلاحیت اور قومی ضرورت کو بنیاد بنانے کے لیے تیار نہیں۔ کرپشن کا دوسرا بڑا پہلو قومی خزانے کی لوٹ مار ہے جو ہر سطح اور ہر انداز سے جاری ہے۔ جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ اس لوٹ مار میں اپنا حصہ وصول کرنے میں حجاب محسوس نہیں کرتا اور قومی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا ہر منصوبہ اس دلدل میں پھنس کر اپنے وجود تک سے محروم ہو جاتا ہے۔

ہمیں اس وقت قوم کو درپیش عملی مسائل کے اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ ہو، ملک کے مختلف حصوں میں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف فوجی آپریشن روکنے کی بات ہو، مہنگائی کے عفریت کو قابو میں لانے کا معاملہ ہو، دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کا قضیہ ہو، جامعہ حفصہ کی بحالی کا مطالبہ ہو، خفیہ اداروں کے ذریعے غائب کیے جانے والے شہریوں کا المیہ ہو، صوبائی خودمختاری کی بحالی کا سوال ہو، یا غریب اور نظر انداز طبقات کی زندگی اجیرن ہوجانے کا مسئلہ ہو۔ یہ اور ان جیسے دیگر مسائل ہمارے عملی مسائل ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اپنی اہمیت اور سنگینی میں کم نہیں ہے۔ لیکن ہم نے جن تین اصولی مسئلوں کا ذکر کیا ہے ان سب عملی مسائل نے انہی کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور جب تک ہم (۱) قومی خودمختاری کے تحفظ (۲) دستور و قانون کی بالادستی (۳) اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے قومی سطح پر کوئی واضح لائحہ عمل اور دوٹوک پالیسی طے نہیں کرتے اور حکومتی اقدامات کے دائرہ سے باہر نکل کر ان کے لیے قومی مہم کی کوئی مشترکہ صورت اختیار نہیں کر لیتے یہ مسائل جنم لیتے رہتے ہیں گے اور ان کی سنگینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ گندگی کے ڈھیر موجود رہیں گے تو جراثیم پیدا ہوتے رہیں گے اور بیماریاں پھیلتی رہیں گی۔ ہم نے اب تک گندگی کے ڈھیروں کو باقی رکھتے ہوئے ان پر وقتاً فوقتاً چونا یا دیگر جراثیم کش ادویات چھڑکتے رہنے کی جو روش اپنا رکھی ہے یہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اور اگر نئی حکومت نے بھی یہی روش اختیار کی تو نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اور اس کی پیش رو حکومت میں ایک عام شہری کی نظر میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور یہ ملک و قوم کی ایک اور بڑی بدقسمتی ہوگی۔

جناب یوسف رضا گیلانی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہم ان سے گزارش کر رہے ہیں کہ قومی اہداف کی طرف حوصلہ سے آگے بڑھیے، قوم تو ساتھ ہی ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی آپ پر سایہ فگن ہوں گی۔