سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا کا خاتمہ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اپریل ۲۰۲۰ء

ایک تازہ خبر کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ملک کے قانونی نظام میں کوڑوں کی سزا اور بچوں کے لیے موت کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کے حکم کے مطابق عدالت عظمٰی نے ماتحت عدالتوں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ آئندہ کسی جرم میں کوڑوں کی سزا نہ دی جائے اور نابالغ بچوں کو موت کی سزا نہ سنائی جائے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض سعودی اداروں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسا انسانی حقوق کے عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے جس کا ایک عرصہ سے تقاضہ چلا آ رہا تھا۔

یہ خبر پڑھ کر ہمیں پاکستان میں نافذ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا وہ مرحلہ یاد آ گیا جب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ ہم آہنگی کے عنوان کے تحت اسی قسم کی ترامیم کی تھیں جس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے احتجاج کیا تھا اور اس کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقدہ تمام مکاتب فکر کے نمائندہ اجتماع میں ’’مجلس تحفظ حدود اللہ‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ بھی ہوا تھا مگر بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

انسانی حقوق کے عالمی نظام سے مراد اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا وہ اعلامیہ ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو منظور کیا تھا اور اس پر کم و بیش دنیا کے سبھی ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں۔ تیس نکاتی اس اعلامیہ میں سیاسی، معاشی، خاندانی، معاشرتی، مذہبی او دیگر حوالوں سے اصول طے کیے گئے ہیں اور دستخط کرنے والے ممالک سے یہ تقاضہ تب سے چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے نظام و قانون کو ان اصولوں کے دائرے میں لائیں اور جو امور ان مسلّمہ عالمی اصولوں کے منافی ہوں انہیں تبدیل کر کے اس کے مطابق بنائیں۔ چنانچہ دنیا بھر میں یہ کشمکش چل رہی ہے اور اقوام متحدہ کے اس چارٹر کو قبول کرتے ہوئے بہت سے ممالک اپنے اپنے نظاموں، فلسفوں اور دستور و قانون کے حوالہ سے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں جس سے مطالبات، دباؤ اور مباحثہ کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

ہم نے ان کالموں میں اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور اس کے بیسیوں پہلوؤں پر اس تناظر میں اظہار خیال کیا ہے کہ سیاسی، عدالتی، معاشرتی اور خاندانی شعبوں میں اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کے واضح قوانین و ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے اس اعلامیہ کے ساتھ من و عن اتفاق ممکن نہیں ہے۔ اور اسلام کی بالادستی پر یقین رکھنے والے مسلم ممالک اور حکومتوں کو اس اعلامیہ پر نظرثانی کے لیے بہرحال آواز اٹھانا ہوگی جیسا کہ ایک موقع پر ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ کے طور پر یہ آواز بلند کی تھی مگر اسے پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

کوڑوں اور موت کی سزا کا مذکورہ مسئلہ اقوام متحدہ کے اسی منشور کی دفعہ ۵ سے متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی جرم میں مجرم کو ایسی سزا نہیں دی جائے گی جس میں جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت پائی جاتی ہو۔ اقوام متحدہ کے ادارے اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اس دفعہ کے تحت کوڑے مارنے، موت کی سزا دینے اور کسی کو سرعام سزا دینے کو جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت قرار دیتی ہیں، جن مسلم ممالک میں ایسی سزائیں نافذ ہیں ان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان سزاؤں کو ختم کر کے ملک کے عدالتی و قانونی نظام کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ اسی پس منظر میں پاکستان میں حدود آرڈیننس کو ترامیم سے دوچار ہونا پڑا تھا اور اسی تسلسل میں سعودی حکومت نے اپنے قانونی نظام میں کوڑوں کی سزا اور نابالغ بچوں کی حد تک موت کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ موت کی سزا کے بارے میں اقوام متحدہ کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ اسے بالکل ختم کر دیا جائے اور کسی جرم میں کسی کو موت کی سزا نہ دی جائے۔ جس پر ہم نے پاکستان میں موت کی سزا کو بہت حد تک عملی طور پر معطل کر رکھا ہے۔

اس حوالہ سے اصل ذمہ داری تو مسلم حکومتوں اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کے واضح احکام و قوانین کی روشنی میں امت مسلمہ کا اجتماعی موقف طے کریں اور اس کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی اداروں تک اپنا موقف پہنچا کر ان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا راستہ نکالیں ، اس لیے کہ یہ امت مسلمہ کے دین و عقیدہ کا مسئلہ ہے اور اپنے عقیدہ و ثقافت کا تحفظ ہر قوم کا جائز حق متصور ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک کام علمی اداروں اور دینی مراکز کا بھی ہے کہ وہ امت مسلمہ کے عوام اور تعلیم یافتہ حضرات کو معروضی صورتحال سے باخبر کرنے کا اہتمام کریں اور آگاہی و بیداری کا وہ ماحول پیدا کریں کہ دنیا کی مسلم رائے عامہ پورے ادراک و شعور کے ساتھ اس سلسلہ میں رائے اور موقف قائم کر سکے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ انسانی حقوق کے مذکورہ چارٹر اور دیگر ایسے بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں عوام تو رہے ایک طرف علماء کرام اور تعلیم یافتہ حضرات کی غالب اکثریت بھی صحیح صورتحال سے واقف نہیں ہے۔ جس سے نہ صرف کنفیوژن بڑھ رہا ہے بلکہ اسلامی احکام و قوانین کو اکبر بادشاہ کے ’’دین الٰہی‘‘ کی طرز پر خودساختہ تعبیرات و تشریحات کے سانچے میں ڈھالنے کی محنت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ راقم الحروف کی گزشتہ دو عشروں سے ذاتی طور پر یہ کاوش ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورہ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کے ساتھ انسانی حقوق کا چارٹر باقاعدہ پڑھاتا ہوں اور مختلف مدارس اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ و طلبہ کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا کوئی موقع حتی الوسع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ لیکن اس سلسلہ کو علمی حلقوں میں باقاعدہ منظم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے سردست یہ تجویز ہے کہ اگلے تعلیمی سال کے دوران ہر اتوار کو صبح دس تا گیارہ بجے آن لائن کلاس کا اہتمام کیا جائے جس میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے بعض ابواب اور بین الاقوامی معاہدات و قوانین پر مربوط لیکچر دیے جائیں، احباب کی تجاویز کی روشنی میں اسے حتمی شکل دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالٰی۔ یہ تجاویز درج ذیل ای میل ایڈریس پر بھی بھیجی جا سکتی ہیں zrashdi@hotmail.com

   
Flag Counter