جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۱۲ء

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔

جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ جامعہ کے بانی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ دار العلوم دیوبند کے مفتی اور استاذ کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور تحریک پاکستان کے ممتاز راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت مفتی صاحبؒ اور ان کے فرزندان گرامی بالخصوص حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور وطن عزیز کے دفاع اور استحکام میں اہم کردار چلا آرہا ہے اور جامعہ دار العلوم کراچی نے علمی و دینی محاذ پر پاکستانی کی قوم کی مسلسل راہنمائی کی ہے۔

ہم نہیں سمجھ پائے کہ جامعہ دار العلوم جیسے امن پسند، متوازن اور با وقار دینی ادارے کے خلاف اس افسوسناک کاروائی کی نوبت آخر کیسے آگئی؟ جامعہ کی انتظامیہ نے قومی و ملکی معاملات میں ہمیشہ ملکی انتظامیہ سے تعاون کیا ہے اور اس کا موقف و کردار، ملکی استحکام اور امن عامہ کے حوالہ سے ہر دور میں مثبت اور مؤثر رہا ہے۔گزشتہ دنوں کراچی میں ہی مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید ؒ کی المناک شہادت کے موقع پر ہمارے تاثرات یہ تھے کہ ایسے مرنجان مرنج، امن پسند اور مثبت انداز میں دین کی دعوت و تعلیم کی خدمات سر انجام دینے والے عالم دین سے آخر کسی کو کیا پرخاش ہو سکتی ہے کہ وہ ان کی جان کے درپے ہو جائے۔ کچھ اسی قسم کے احساسات و تاثرات جامعہ دارالعلوم کراچی کے افسوسناک محاصرہ اور سرچ آپریشن کے بارے میں بھی ہیں۔

اس کے سوا کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ مقتدر حلقوں میں کچھ ایسے لوگ مسلسل گھات لگائے بیٹھے ہیں جنہیں پاکستان میں دین کی مؤثر دعوت و تعلیم اور متوازن اور باوقار اہل علم و دین کا کردار ہضم نہیں ہو رہا اور وہ اس کے خلاف اپنے خبث باطن کے اظہار کے لیے ریاستی طاقت کو ناروا طور پر استعمال کر کے بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔بہرحال جو کچھ ہوا کم از کم الفاظ میں انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، البتہ ہمیں یہ یقین ہے کہ اس قسم کی مذبوحی حرکات سے دینی مدارس اور علمی مراکز کے وقار و کردار میں کوئی فرق نہیں آئے گا بلکہ وہ پہلے سے زیادہ اعتماد اور حوصلہ کے ساتھ دینی و علمی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔