یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اکتوبر ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
آج کا عالمی تناظر اور ملکی ماحول ۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کا خطبہ دیتے ہوئے مجھے بحمد اللہ تعالیٰ چالیس برس مکمل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے قرآن کریم کی وہ آیاتِ مبارکہ خطباتِ جمعہ کا موضوع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘‘ کے عنوان کے ساتھ اہلِ ایمان کو بطور خاص مخاطب کیا ہے۔ ماہِ رواں کے دو جمعۃ المبارک کے خطبوں میں سورۃ المائدہ کی آیت ۵۱ و ۵۲ پر گفتگو ہوئی جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ

’’یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اگر تم میں سے کسی نے ان سے دوستی کی تو اس کا شمار انہی کے ساتھ ہوگا۔‘‘

آج کے عالمی و ملکی حالات کے تناظر میں اس گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان آیاتِ کریمہ میں اصولی طور پر جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ:

  • مسلمانوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست بنائیں یا انہیں اپنا دوست سمجھیں۔ دوست نہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے کسی قسم کے تعلقات یا معاملات نہ ہوں۔ کیونکہ ایک جائز اور باوقار حد کے اندر ان کے ساتھ تعلقات و معاملات کا قرآن کریم نے خود حکم دیا ہے اور وہ قوموں کی برادری میں باعزت طور پر رہنے کے لیے ضروری بھی ہیں۔ البتہ انہیں اپنا حقیقی دوست سمجھنے، انہیں راز دار بنانے اور ان کی دوستی پر اعتماد کرنے سے منع کیا گیا ہے اور چودہ سو سالہ تاریخ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ قرآن کریم کا یہ ارشاد حرف بہ حرف سچ ہے۔
  • یہ کہا گیا ہے کہ ’’یہودی اور عیسائی آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں‘‘۔ قرآن کریم کا یہ جملہ دنیا کے علمی حلقوں میں گزشتہ ایک صدی پہلے تک زیر بحث رہا ہے کہ قرآن کریم نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے کا دوست کہا ہے حالانکہ دونوں کے درمیان ابتداء سے دشمنی چلی آرہی ہے اور ان کی باہمی دشمنی، عداوت اور قتل و قتال کا سلسلہ کم و بیش دو ہزار سال کے عرصہ پر محیط ہے۔ تو قرآن کریم نے انہیں ایک دوسرے کا دوست کیسے قرار دے دیا ہے؟ لیکن اس آیت کریمہ کے نزول کے تیرہ سو سال بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں باہمی دوستی اور تعاون کا رشتہ قائم ہوا جو آج ساری دنیا کو نظر آرہا ہے اور تاریخ نے قرآن کریم کی اس بات کو سچ کر دکھایا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم صرف اپنے نزول سے پہلے یا نزول کے وقت کے حقائق کی بات نہیں کرتا بلکہ اپنے نزول کے بعد قیامت تک پیش آنے والے حقائق و معاملات کا بھی ذکر کرتا ہے جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے آرہے ہیں اور ظاہر ہوتے رہیں گے۔ اور یہ بھی قرآن کریم کے معجزہ ہونے کے دلائل میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
  • تیسری بات ان آیات کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے بعد بھی جو مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست سمجھے گا یا ان کی دوستی پر اعتماد کرے گا تو اس کا شمار بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں انہی کے ساتھ ہوگا۔
  • اس کے بعد آیت ۵۲ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس ارشاد ربانی کے بعد بھی وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف دوڑے دوڑے جاتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں زمانہ کے حالات اور گردش سے ڈر لگتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف کوئی مصیبت نہ کھڑی کر دیں، اس لیے ہم ان سے دوستی رکھنے پر مجبور ہیں۔
  • پھر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ ڈر اور خوف بے جا ہے اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کامیابی سے نواز دیں یا کوئی اور حکم صادر فرما دیں تو گردشِ زمانہ کے بہانے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دوستی گانٹھنے والوں کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مفسرین کرامؒ اور محدثین عظامؒ نے ان آیات کریمہ کے شان نزول (پس منظر) کے طور پر یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں یہود کے تین بڑے قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ آباد تھے۔ جو کسی دور میں نبی آخر الزمانؐ کی آمد کے انتظار میں یہ دیکھ کر وہاں آباد ہوگئے تھے کہ نبی کریمؐ کی آمد کے علاقے کی جو علامات گزشتہ کتابوں میں بیان ہوئی ہیں وہ اس علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب نبی کریمؐ تشریف لائے تو ان یہود قبائل نے پہچان لینے کے باوجود صرف اس وجہ سے انکار کر دیا کہ نبی آخر الزمانؐ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ ان قبائل کے ساتھ آنحضرتؐ نے مدینہ منورہ (یثرب) میں باہمی رہن سہن کے حقوق و معاملات کا باضابطہ معاہدہ کیا جو ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کہلاتا ہے۔ مگر یہ یہودی قبائل اس معاہدے کی پاسداری نہ کر سکے اور معاہدہ توڑنے کے جرم میں یکے بعد دیگرے انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن ہونا پڑا۔ سب سے پہلا قبیلہ جس نے معاہدے سے انحراف کیا، بنو قینقاع ہے، جو مالدار اور طاقتور قبیلہ تھا، اس کا سونے کا کاروبار اور اپنا مستقل بازار تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ ان کے اپنے قبیلہ قریش کی مخاصمت چل رہی ہے اس لیے قریش خود ہی ان سے نمٹ لیں گے لیکن جب بدر کی جنگ میں قریش کی کمر ٹوٹ گئی اور مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی تو یہودیوں میں تشویش اور اضطراب پیدا ہونا شروع ہوا اور درونِ خانہ سازشوں کا سلسلہ چل نکلا۔

    اس دوران ایک واقعہ یہ ہوا کہ ایک مسلمان خاندان کی خواتین بنو قینقاع کے صرافہ بازار میں زیورات بنوانے کے لیے گئیں تو ایک یہودی نوجوان نے ان سے دکان کے اندر چھیڑ چھاڑ کی جس پر غیرت میں آکر اس مسلمان خاندان کے افراد نے چھیڑ چھاڑ کرنے والے یہودی کو قتل کر دیا۔ یہودی خاندان کے لوگ اٹھے تو انہوں نے مسلمان نوجوان کو قتل کر دیا۔ اس پر دونوں طرف کشیدگی اور اشتعال بڑھنے لگا تو جناب نبی کریمؐ بنو قینقاع کے بڑے لوگوں کے پاس خود تشریف لے گئے اور ان سے کہا کہ وہ باہمی معاہدے کی پاسداری کریں اور معاملات کو مزید بگڑنے سے بچائیں ورنہ حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ بنو قینقاع کے سرداروں نے آنحضرتؐ کے ارشاد پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے رعونت اور تکبر کے ساتھ جواب دیا کہ ہمیں آپ قریشی نہ سمجھیں جن سے ایک جنگ جیت کر آپ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، ہم سے پالا پڑے گا تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جنگ کسے کہتے ہیں۔ اس پر بات اور آگے بڑھی اور یہودی سرداروں نے کہہ دیا کہ انہیں معاہدے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے یہ صورتحال دیکھ کر صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ وہ بنو قینقاع کے محلے کا محاصرہ کر لیں۔ یہ محاصرہ کچھ دن جاری رہا جس کے بعد یہودیوں کا یہ قبیلہ ایک معاہدے کے تحت مدینہ منورہ سے جلا وطن ہو کر شام کی طرف نقل مکانی کر گیا۔

    اس موقع پر جناب رسول اللہؐ کے ساتھیوں میں سے دو حضرات بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئے۔ ایک حضرت عبادہ بن صامتؓ اور دوسرے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی، یہ دونوں بنو قینقاع کے حلیف تھے، دونوں کی ان سے دوستیاں تھیں اور دونوں کے ان کے ساتھ مفادات اور معاملات وابستہ تھے۔ مگر آزمائش کے اس مرحلہ میں دونوں کا طرز عمل اور کردار مختلف تھا۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے کہا یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ میری بنو قینقاع کے ساتھ کتنی دوستی چلی آرہی ہے اور میرے ان کے ساتھ کتنے مفادات اور معاملات وابستہ ہیں لیکن میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ان سب کو قربان کرتا ہوں اور بنو قینقاع سے لا تعلقی اور برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ جبکہ عبد اللہ بن ابی نے کہا کہ میں ان نقصانات کا متحمل نہیں ہو سکتا جو بنو قینقاع سے دوستی ترک کرنے پر مجھے ہوں گے اس لیے میں ان سے دوستی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ زمانے کے حالات میرے خلاف ہو جائیں گے اور گردش زمانہ مجھے کسی نئی مصیبت میں مبتلا کر دے گی۔ تاریخ نے دیکھا کہ عبادہ بن صامتؓ سرخرو ہوئے اور عبد اللہ بن ابی کے دامن میں شرمندگی کے سوا کچھ نہ بچا۔

آج کا عالمی تناظر اور ملکی ماحول بھی ایک بار پھر تاریخ کو دہرا رہا ہے اور دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ عبد اللہ بن ابی کے پیروکاروں کے قدم دھیرے دھیرے ’’گردشِ زمانہ‘‘ کی اس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں جس کی تہہ میں شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

درجہ بندی: