مسلمانوں کے اختلافات: مورس عبد اللہ کے تاثرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۸ء

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران مجھے دو روز اسکاٹ لینڈ کے دار الحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ’’ڈنز‘‘ میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے ہاں گزارنے کا موقع ملا۔ رضوان کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دنوں تیسری بچی دی ہے اور ۸ اپریل کو اس کی بڑی بچی کی سالگرہ تھی۔ رضوان نے ڈرتے ڈرتے مجھ سے پوچھا کہ اس کی اہلیہ کہہ رہی ہے کہ اگر ہم بچی کی سالگرہ پر کیک کاٹ لیں تو ماموں ناراض تو نہیں ہوں گے؟ میں نے کہا کہ نہیں بیٹا، ناراضگی کی کون سی بات ہے۔ اصل میں اس کا یہ خیال تھا کہ ایک غیر شرعی رسم ہونے کی وجہ سے میں اس پر غصے کا اظہار کروں گا جبکہ ایسے معاملات میں میرا موقف اور طرزعمل یہ ہے کہ اس قسم کی علاقائی اور ثقافتی رسمیں اگر دین کا حصہ نہ سمجھی جائیں اور انھیں ثواب کے ارادے سے انجام دینے کے بجائے محض خوشی کی علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر کیا جائے تو اس پر شریعت کے منافی ہونے کا فتویٰ لگا دینا اور غیظ و غضب کا اظہار کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں کسی چیز کا غیر شرعی (یعنی شریعت سے ثابت نہ) ہونا اور بات ہے اور شریعت کے منافی ہونا اس سے مختلف امر ہے اور ہمیں ان دونوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

رضوان فیملی کی خوشی میں شامل ہونے کے ساتھ ایک فائدہ اور بھی ہوا کہ شام کو ایک نو مسلم مورس سے ملاقات ہو گئی۔ مورس نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات وواقعات کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات و احساسات کا بھی پورے جوش وخروش کے ساتھ اظہار کیا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

مورس نے اسلام اور قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعارف کے پس منظر کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد کہا کہ ایک دن میں نیوکاسل میں اپنے گھر میں تھا کہ صبح بیدار ہوتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے میں گھر سے باہر جا رہا ہوں اور قریب ہی ایک مسجد میں چلا گیا۔ اس سے قبل میں یہاں کسی مسلمان سے نہیں ملا تھا۔ میں نے ان کو بتایا تو انھوں نے مجھے کلمہ شہادت پڑھایا اور میرا نام تبدیل کر کے مورس بڈن کی بجائے مورس مجید رکھ دیا۔ اس کے بعد تبلیغی جماعت والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ انھوں نے مجھے دوبارہ کلمہ پڑھایا اور نام مورس عبد المجید رکھ دیا۔ پھر میرا کچھ عرصہ ان سے تعلق رہا۔ ان کے ساتھ مختلف مقامات پر جاتا رہا اور نیو کاسل میں کتابوں کی ایک دکان ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے نام سے میں نے کھول لی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’’بیت الحکمۃ‘‘ کا نام یہاں کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا، اس لیے اس کانام ’’House of Wisdom‘‘ رکھا جائے مگر انھوں نے میری بات نہیں مانی اور میں ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے نام سے کچھ عرصہ دکان کرتا رہا۔ پھر میں نے یہ سوچ کر نیو کاسل کو چھوڑ دیا کہ یہاں مسلمان کم ہیں اور مسلمانوں والا ماحول نہیں ہے۔ میں بیوی بچوں سمیت بلیک برن چلا گیا، اس لیے کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی بہت ہے، مسجدیں اور مدرسے بہت ہیں اور اسلامی ماحول موجود ہے، اس سے بچوں کی تعلیم بھی اچھی ہوگی، مگر یہ تجربہ بہت تلخ ثابت ہوا۔ میرا خیال تھا کہ دینی معلومات میں اضافہ ہوگا، ماحول اور تربیت کا فائدہ ہوگا، مگر لوگوں نے مجھے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا دیا۔ مختلف گروہ تھے، ہر ایک مجھے اپنی طرف کھینچنے لگا۔ کوئی کہتا نماز میں پاؤں یوں رکھو، دوسرا کہتا یوں نہیں بلکہ اس طرح رکھو۔ کوئی کہتا ہاتھ اس جگہ باندھو، دوسرا کہتا کہ یہاں نہیں بلکہ یہاں باندھو۔ کوئی کہتا کہ شہادت کی انگلی ایک بار اٹھاؤ، دوسرا کہتا کہ نہیں بار بار اٹھاتے رہو۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی کہ میں اسی کے کہنے پر چلوں، کسی دوسرے کی بات مانتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ میرے مزاج میں تجسس تھا اور سوالات بہت کرتا تھا۔ ہر شخص اپنی بات کی دلیل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتا۔ حدیثوں میں اس قدر تضاد دیکھ کر مجھے ان سے نفرت ہونے لگی۔ میں لوگوں سے کہتا کہ مجھے قرآن سے سمجھاؤ۔ وہ کہتے کہ قرآن کریم اس وقت تک تم نہیں سمجھ سکتے جب تک حدیث نہ پڑھو اور حدیث پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ عربی سیکھو اور کئی سال مدرسے میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کرو۔ مجھے سخت پریشانی ہونے لگی۔ میرے سوالات کی کثرت دیکھ کر وہ لوگ مجھے گمراہ اور کافر کہنے لگے۔ ہر گروہ مجھے اپنی کتابیں دیتا اور حدیثیں سناتا۔ مجھے ان میں واضح تضاد دکھائی دیتا، چنانچہ سخت پریشانی کی حالت میں بلیک برن کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور میں نے طے کر لیا کہ اب ایسی جگہ جا کر رہوں گا جہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہو اور پھر اسکاٹ لینڈ کے اس علاقے میں آ کر آباد ہو گیا۔

مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے بلکہ وہ دوسرے جن نومسلموں کو جانتا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا بلکہ سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں، البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے۔ وہ انھیں پکا مسلمان بنانے اور اسلام کی بنیادی باتوں کی تعلیم دینے کے بجائے پہلے حنفی، شافعی، دیوبندی، بریلوی، تبلیغی اور شیعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے پر کوئی مسلمان اس سے یہ تو نہیں پوچھتا کہ تمھیں مسلمان ہونے کے بعد کیا پریشانی لاحق ہوئی ہے؟ اپنے خاندان کے ساتھ تمہارے تعلقات کا کیا حال ہے؟ تمہیں کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے؟ کسی معاشرتی الجھن سے تو تم دوچار نہیں ہوئے ہو؟ اور تمھیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ کسی نومسلم سے یہ بات کوئی نہیں پوچھتا، البتہ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے فرقے میں شامل ہو جائے، کسی دوسرے فرقے کی بات نہ سنے اور کسی اور کی مسجد میں نہ جائے۔ مجھے خود اس کا تلخ تجربہ ہوا ہے، اس لیے میں نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔

اس نے کہا کہ مجھے ایک بات سے اور پریشانی ہے کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ان کے سارے مسئلے خدا نے ہی حل کرنے ہیں، اس لیے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے قدرت کے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور پچھلے واقعات سنا سنا کر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں موقع پر خدا نے اس طرح ان کی مدد کی تھی۔ اسی طرح بہت سے مسلمان اس انتظار میں ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور دجال ظاہر ہوگا تو اس وقت سب کچھ ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انھیں اپنی حالت بہتر بنانے کے لیے خود کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ اس طرح انتظار میں بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انھیں اپنے حالات درست کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے او رخود بھی کچھ کرنا چاہیے۔

مورس نے کہا کہ ایک اور بات پریشانی کی وجہ بنتی ہے کہ نومسلم کو اسلامی احکام وفرائض کے ساتھ ساتھ بعض لوگ اپنے اپنے علاقائی کلچر کا بھی پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لباس بھی ان جیسا پہنے اور وضع قطع بھی انھی کی اختیار کرے۔ اس پر اس قدر سختی کی جاتی ہے کہ وہ پریشان ہو جا تا ہے۔ جو باتیں اسلام میں ضروری نہیں ہیں، ان کے بارے میں نومسلموں پر اس قدر سختی نہ کی جائے اور انھیں سادہ طریقہ سے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ مورس نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر مسلمانوں کی اس عمومی حالت سے پریشان ہو کر یونیورسٹی کی مسجد میں گیا کہ وہاں قدرے پڑھا لکھا ماحول ہوگا، مگر وہاں بھی صورت حال اسی طرح تھی۔ شیعہ حضرات اپنی نماز کے لیے مٹی کی ٹھیکریاں سجدے کی جگہ رکھنے کے لیے الگ نظر آتے اور دوسرے فرقوں کے لوگ اپنی اپنی علامتوں کے ساتھ الگ دکھائی دیتے تھے۔ اس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کئی بار وقت لگایا جس سے اس کا مقصد یہ تھاکہ اسے دین کی معلومات حاصل ہوں گی اور علم میں اضافہ ہوگا، مگر وہاں بھی اسے تبلیغی نصاب اور کچن کی صفائی کے کاموں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس نے قرآن کریم کا سالہا سال تک مطالعہ کیا تھا۔ اس کے حوالے سے جب وہ کوئی سوال کرتا تو اسے جواب ملتا کہ تم قرآن کریم کو کیا جانتے ہو؟ تمہارے پاس کیا علم ہے؟ اس سے اس کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔ مجھے ایک بار ایک دوست ایک مجلس میں لے گیا۔ غریب لوگوں کا علاقہ تھا، مگر ایک بڑی گاڑی میں سبز چغہ پہنے ایک شیخ صاحب آئے تو ان کے گرد گلی میں بہت سے لوگ گھیرا ڈال کر بلند آواز سے اللہ ہو کا ورد کرنے لگے۔ ارد گرد کے مقامی آبادی کے لوگ کھڑکیوں سے یہ منظر دیکھ کر تعجب کر رہے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں بھی یہ منظر دیکھ کر وہاں سے چلا آیا۔ ایک مسجد میں رمضان المبارک کے دوران دیکھا کہ کھانے پینے کا سامان بہت ضائع ہو رہا ہے اور کھانے کا انداز بھی مجھے اچھا نہ لگا۔ اس قسم کے مناظر دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جس اسلام کی میں تلاش میں تھا، یہ وہ اسلام نہیں ہے، اس لیے میں اب مسلمانوں کی آبادی سے الگ تھلگ یہاں زندگی بسر کر رہا ہوں۔

میں نے مورس سے سوال کیا کہ اسلام کی دعوت دینے والوں کو نو مسلموں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے؟ اس پر مورس عبد اللہ نے کہا کہ:

  • انھیں مسائل اور اختلافات میں نہ الجھائیں اور دین کی بنیادی باتوں کی سادہ انداز میں تعلیم دیں۔
  • انسانیت کے حوالے سے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تلقین کریں۔
  • اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل اور مشکلات معلوم کریں اور انھیں حل کرنے کے لیے ان سے تعاون کریں۔
  • انھیں قرآن کریم کے حوالے سے بات سمجھانے کی کوشش کریں اور احادیث کے اختلافات سے انھیں دور رکھیں۔ اس سے ان کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔
  • دین کے مسائل سمجھانے کے لیے ’’کامن سینس‘‘ کا زیادہ استعمال کریں۔ مثلاً یہ بات سمجھانے کے لیے کہ مونچھیں تراشنی چاہییں، انھیں فرض اور واجب کہہ کر بات نہ کریں بلکہ انھیں اس کے فائدے بتائیں کہ مونچھے تراشنے سے انھیں یہ فائدہ ہوگا، وغیر ذالک۔
  • انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عام لوگوں کی خدمت کا ایسا نظام بنائیں جس سے سب لوگ مذہب کی کسی تفریق کے بغیر فائدہ اٹھا سکیں تاکہ نو مسلموں کو ضرورت پڑنے پر الگ سے چیریٹی کی ضرورت نہ پڑے اور نہ یہ محسوس ہو کہ ان کی الگ سے اس حوالے سے مدد کی جا رہی ہے۔
  • اسلام کے بارے میں ان کے مطالعہ اور اسٹڈی کا احترام کریں اور انھیں اس بات کا بار بار طعنہ نہ دیں کہ تم کیا جانتے ہو؟ تمھیں کیا آتا ہے؟ اور تمھارے پاس کیا علم ہے؟
  • انھیں قرآن کریم کے بتائے ہوئے اچھے کاموں کو بجا لانے کی تلقین کریں، دیانت وامانت کی اہمیت سے آگاہ کریں اور خیر کے کاموں کی طرف رغبت دلائیں۔

مورس عبد اللہ کی گفتگو جاری تھی اور اس کے لہجے کا جوش وخروش بڑھ رہا تھا۔ وہ کبھی کبھی خاموشی سے آسمان کی طرف سر اٹھا کر گہری سوچ میں چلا جاتا۔ اس کا جی اور بھی بہت سی باتیں کرنے کو چاہ رہا تھا، مگر رات کا وقت تھا، دیر ہو رہی تھی، مجھے صبح سفر کرنا تھا اور اس سے قبل یہ رپورٹ بھی لکھنا تھی، اس لیے بادل نخواستہ گفتگو کا سلسلہ روک کر معذرت کرتے ہوئے شکریہ کے ساتھ ہم وہاں سے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ رخصت ہوئے۔