مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن کا نفاذ۔ ایک خوش آئند اقدام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ فروری ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن اور اس کے بعض دیگر ملحقہ علاقوں میں نظامِ عدل ریگولیشن کے عنوان سے شرعی عدالتوں کے قیام سے جہاں اس خطہ کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ان کا ایک دیرینہ مطالبہ ’’بعد از خرابیٔ بسیار‘‘ ہی سہی منظور ہوگیا ہے اور پاکستان بھر کے عوام اس پر اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ اس علاقہ میں امن کے قیام کی امید نظر آنے لگی ہے، وہاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کے آثار بھی بعض حلقوں میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔

نفاذِ شریعت اس خطہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے جس کے لیے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کم و بیش دو عشروں سے سرگرم عمل ہیں اور ان کا سادہ سا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں جو عدالتی نظام رائج تھا وہ ان کے لیے زیادہ موزوں اور حسب حال تھا جبکہ اس کی جگہ رائج کیے جانے والے عدالتی نظام سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے انہیں وہ سابقہ عدالتی نظام دوبارہ مہیا کیا جائے۔ ان کے اس موقف کو اصولی طور پر ہر دور میں تسلیم کیا جاتا رہا کہ انصاف کی جلد اور بلا قیمت فراہمی کے لیے بلاشبہ وہی نظام زیادہ مفید اور مؤثر تھا جو سوات میں اب سے نصف صدی قبل رائج تھا، لیکن ان کے اس موقف کی صداقت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود انہیں وہ نظام واپس کرنے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ جلد اور سستے انصاف کی ضمانت دینے والے جس عدالتی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسے عام طور پر ’’شرعی نظام‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں فیصلوں کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں شرعی نظام و قوانین سے واقفیت اور مہارت کی وجہ سے قاضی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور اس سے ’’مولویت‘‘ کی برتری اور بالادستی قائم ہونے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ اس بات کی ہر دور میں اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ عدالتی نظام کو شریعت، مولوی اور قاضی کے تاثر سے دور رکھا جائے اور ان دائروں سے الگ رہتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کو نفاذِ شریعت کا کوئی کھلونا فراہم کر دیا جائے جس سے وہ اپنے دل بہلاتے رہیں۔

اسی بنیاد پر جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک نفاذِ شریعت ریگولیشن مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کیا گیا تھا جس میں شرعی عدالتی نظام کی اصطلاحات کی بھرمار تو موجود تھی لیکن اس میں شریعت نام کی کوئی چیز تلاش کرنے سے بھی لوگوں کو نہ ملی۔ یہ نفاذ شریعت ریگولیشن مولانا صوفی محمد کی ایک پر امن عوامی تحریک کے نتیجے میں نافذ کیا گیا تھا جس کے ایک مرحلہ میں کم و بیش تیس ہزار افراد کئی روز تک مینگورہ کی سڑکوں پر سخت سردی میں دھرنا دیے بیٹھے رہے۔ اس طرح شدید عوامی دباؤ پر اس وقت کی صوبائی حکومت کو ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ جاری کرنا پڑا۔ لیکن کاٹھ کی یہ ہنڈیا زیادہ دیر تک عوامی جذبات کے چولہے پر موجود نہ رہ سکی اور مولانا صوفی محمد کی قیادت میں چلنے والی تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ نے اسے مسترد کرتے ہوئے نئے نظام شریعت ریگولیشن کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا۔ یہ تحریک ابھی جاری تھی کہ نائن الیون کا سانحہ رونما ہوا، افغانستان میں طالبان کی حمایت میں عوامی ریلی کا اہتمام ہوا جس کے نتیجے میں مولانا صوفی محمد گرفتار ہوئے اور کئی سال انہوں نے جیل میں گزارے۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے عنوان سے امریکی اتحادی فوجوں کے اس خطے میں آنے سے حالات نے ایک اور کروٹ لی۔ اس کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ ڈویژن تک وسیع ہوئے جن کا دائرہ مسلسل پھیلتا رہا۔ اس فضا میں سوات میں ایک بار پھر شرعی نظام کے نفاذ کے مطالبہ نے سر اٹھایا مگر اب اس کی قیادت مولانا صوفی محمد کی بجائے مولوی فضل اللہ کے ہاتھ میں تھی جو مولانا صوفی محمد کے قریبی عزیز بتائے جاتے ہیں۔

اس تحریک کے سابقہ دور میں کلاشنکوف مولانا صوفی محمد کے ہاتھ میں بھی رہی ہے لیکن اس کا اظہار زیادہ تر صرف دباؤ کے لیے ہوا، اس دور میں بھی سوات کے لوگوں نے بہت اسلحہ خریدا تھا حتیٰ کہ جب شیرپاؤ حکومت کے دور میں تیس ہزار کے لگ بھگ عوام مینگورہ کی سڑکوں پر دھرنا دیے بیٹھے تھے تو ان کے ہاتھوں میں اسلحہ موجود تھا۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ہزاروں مسلح افراد کے اس پرجوش ہجوم کا آمنا سامنا پاک فوج سے ہوگیا۔ دونوں طرف مسلح افراد آمنے سامنے تھے، کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا، دنیا بھر کی نظریں سوات کی طرف اٹھی ہوئی تھیں، مگر پاکستانی فوج کے اس وقت کے علاقائی کمانڈر اور مولانا صوفی محمد دونوں نے تدبر اور حوصلے کے ساتھ اس تصادم کو روک لیا اور دونوں طرف کی کلاشنکوفوں کے رخ زمین کی طرف ہوگئے۔

مگر مولانا صوفی محمد کی گرفتاری کے دوران اور نائن الیون کے سانحہ کے بعد کے تبدیل شدہ حالات کے تناظر میں اس تحریک کی قیادت جب مولوی فضل اللہ کے ہاتھ میں آئی تو کلاشنکوف صرف دباؤ کے لیے اظہار تک محدود نہ رہی بلکہ اس کا استعمال بھی ہوا۔ بہت سے قومی اور بین الاقوامی حلقوں کی دلچسپی اس میں تھی کہ کلاشنکوف استعمال ہو اور دونوں طرف سے ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نہ صرف کلاشنکوف کا کھلے بندوں استعمال ہوا بلکہ ایک طرف سے باقاعدہ فوج کشی اور دوسری طرف سے خودکش جیکٹوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ملک بھر کے محب وطن حلقے تشویش و اضطراب سے دوچار ہوئے اور اس کا بار بار اظہار ہوا۔ کئی بار مذاکرات کے دور اور معاہدات ہوئے، مگر معاہدات بین الاقوامی منظوری کی ریڈلائن کراس نہ کر سکنے کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ قومی اور سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ اور اکابر علماء کرام نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے اضطراب کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ تصادم کو ختم کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ اپنائیں، حکومت فوج کشی پر نظر ثانی کرے اور عسکریت پسند حکومت کے خلاف محاذ آرائی ترک کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی ہوا کہ حکومت اس خطے کے عوام کے ساتھ بار بار کیے جانے والے وعدہ کا مطابق نظام عدل ریگولیشن نافذ کرے تاکہ فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم کو ختم کرانے کے لیے کوئی پیش رفت ممکن ہو سکے۔

اس پس منظر میں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ جناب امیر حیدر خان ہوتی نے مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے مطالبات منظور کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن وغیرہ میں شرعی نظام عدل کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے جس پر مولانا صوفی محمد نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مولوی فضل اللہ نے عارضی طور پر دس روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کا ملک بھر میں اس حوالہ سے عمومی طور پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے کہ وطن عزیز کے شمالی علاقوں میں بداَمنی، قتل و غارت اور پاک فوج کے ساتھ عوام ہی کے ایک حصے کے مسلح تصادم کی جو افسوسناک اور المناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس کے خاتمے کی امید نظر آنے لگی ہے۔ جبکہ ملک کے دینی حلقے اس طور پر بھی اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے جس مقصد کے لیے پاکستان وجود میں آیا تھا اور جس کا وعدہ قوم کے ساتھ دستور پاکستان میں واضح طور پر کیا گیا ہے اس کی طرف سے کسی طور پر ہی سہی، پیش رفت بھی شروع ہوگئی۔

البتہ اس اعلان پر جز بز ہونے والوں اور مختلف حوالوں سے اس پر تحفظات کا اظہار کرنے والوں کی بھی کمی نہیں، لیکن یہ ایک مستقل اور الگ موضوعِ بحث ہے جس پر گفتگو کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہم اس مرحلہ میں مولانا صوفی محمد اور امیر حیدر خان ہوتی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں جن کی کوششوں سے یہ معاہدہ وجود میں آیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ جس طرح ان حضرات نے معاہدہ پر دستخط کی منزل تک رسائی حاصل کر لی ہے خدا کرے کہ اس پر عملدرآمد اور اسے ثمر آور بنانے میں بھی انہیں کامیابی حاصل ہو، آمین یا رب العالمین۔