حضرت مولانا عبد المالکؒ اور حضرت حافظ سراج الدینؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم جنوری ۱۹۸۲ء

ہفتہ گزشتہ دو بزرگ ہستیاں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا عبد المالکؒ حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ کے خلیفہ تھے۔ مرحوم شب زندہ دار صوفی منش بزرگ تھے، حضرات اکابر کی شخصیت کا آئینہ دار تھے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ مولانا مرحوم کی دینی و ملی خدمات تا دیر ملتِ اسلامیہ کی ناؤ کو ظلمات کے تھپیڑوں سے بچانے کے لیے بادبان کا کام دیں گی۔ آپ کی وفات سے جہاں آپ کا حلقہ سایۂ عاطفت سے محروم ہوگیا ہے وہاں ملتِ اسلامیہ پاکستان نے بھی ایک گراں قدر ہستی کھو دی ہے۔

حضرت حافظ سراج الدینؒ قیام پاکستان کے بعد سے ضلع میانوالی کی آبادی کلورکوٹ میں قیام پذیر تھے۔ قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم کے بعد قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور آخر وقت تک اس سلسلہ سے ناطہ جوڑے رکھا۔ مرحوم سے میں جتنی بار بھی ملا بڑے پرتپاک طریقہ سے پیش آئے، جمعیۃ سے ان کا تعلق تاریخ جمعیۃ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ مرحوم ضلع میانوالی کی کالعدم جمعیۃ کے ناظم عمومی تھے اور انہوں نے اپنی ہستی فقط دو کاموں تعلیم القرآن او رخدمت مسلک حقہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ پسماندگان میں چار صاحبزادے شامل ہیں جو علم و عمل میں آپ کا عکس ہیں۔ مولانا مرحوم کی ذات ہمہ صفات ضلع میانوالی کے لیے اور کلورکوٹ کے لیے نعمت خداوندی سے کم نہ تھی۔ حافظ صاحب مرحوم کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ تادیر پورا نہیں کیا جا سکے گا، اللہ تعالیٰ مرحوم کے صاحبزادوں کو اپنے والد مرحوم کے مشن پر ثابت قدم رہنے کی توفیق و حوصلہ عطا فرمائے اور مرحومین کو کروٹ کروٹ آرام اور چین نصیب فرمائے، آمین یا رب العالمین۔