تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ نومبر ۱۹۷۵ء

تحریک پاکستان کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کا موقف آج کل پھر صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے جنہیں ’’نیشنلسٹ مسلمانوں‘‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اس لیے سرکردہ نیشنلسٹ مسلم لیڈروں کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر نیشنلسٹ مسلمانوں کا اصل موقف سامنے آسکے۔

۲۶ اپریل ۱۹۴۷ء کو اردو پارک دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نامور رہنما امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ مسلمانوں کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا

’’حضرات! آج میں نے کوئی تقریر نہیں کرنی بلکہ چند حقائق ہیں جنہیں بلاتمہید کہنا چاہتا ہوں۔ اس وقت آئینی و غیر آئینی دنیا میں، خواہ دنیا کے اس علاقے کا تعلق ایشیا سے ہو یا یورپ سے، اس وقت جو بحث چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ آیا ہندوستان میں ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں کر دیا جائے، قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا۔ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہوگا جو دس کروڑ مسلمانان ہند کے ذہنوں میں اس وقت موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل کیا ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ بات جھگڑے کی نہیں، بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔ سمجھا دو، مان لوں گا۔ لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد اور بنیادی فرق ہے۔

اگر آج کوئی مجھے اس بات کا یقین دلا دے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبہ کی کسی گلی، کسی شہر کے کسی کوچہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔ لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من لاش پر اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین کو نافذ نہیں کر سکتے، جن کا اٹھنا بیٹھنا، جن کا سونا، جن کا جاگنا، جن کی وضع قطع، جن کا رہن سہن، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا، لباس وغیرہ غرضیکہ کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو، وہ دس کروڑ کی انسانی آبادی کے ایک قطعہ زمین پر اسلامی قوانین کس طرح نافذ کر سکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

ادھر مشرقی پاکستان ہوگا ادھر مغربی پاکستان ہوگا، درمیان میں ۴۰ کروڑ متعصب ہندو کی آبادی ہوگی جس پر اس کی اپنی حکومت ہوگی اور وہ حکومت لالوں کی ہوگی۔ کون لالے؟ لالے دولت والے، لالے ہاتھیوں والے، عیار لالے، مکار لالے۔ ہندو اپنی مکاری و عیاری سے پاکستان کو ہمیشہ تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دیا جائے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور آپ کی حالت یہ ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی، اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کی کوئی سی مدد کرنے سے قاصر ہوگا۔

اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے خاندان ہوں گے۔ انگریز کے پروردہ، فرنگی سامراج کے خود کاشتہ پودے، سروں، نوابوں اور جاگیرداروں کے خاندان ہوں گے جو اپنی من مانی کارروائیوں سے محب وطن اور غریب عوام الناس کو پریشان کر کے رکھ دیں گے۔ غریب کی زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی، ان کی لوٹ کھسوٹ سے پاکستان کے عوام، کسان اور مزدور نان شبینہ کو ترس جائیں گے۔ امیر دن بدن امیر تر ہوتا چلا جائے گا اور غریب غریب تر۔ مسلم لیگ اور کانگریس! دونوں سنو!

امیر جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے

یاد رکھو! اگر آج تم باہم مل بیٹھ کر کوئی معاملہ بھی طے کر لیتے تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوتا۔ تم الگ رہ کر بھی باہم شیر و شکر رہ سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنے تنازعہ کا انصاف فرنگی سے مانگا اور وہ تم دونوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والا فساد ضرور پیدا کر کے جائے گا جس سے تم دونوں قیامت تک چین سے نہ بیٹھ سکو گے اور آئندہ بھی تمہارا آپس کا کوئی سا تنازعہ باہمی گفتگو سے کبھی بھی طے نہیں ہو سکے گا۔ آج انگریز کے فیصلہ سے تم تلواروں اور لاٹھیوں سے لڑو گے، تمہاری اس نادانی اور من مانی سے اس برصغیر میں انسانیت کی جو تباہی ہوگی، عورت کی جو بے حرمتی ہوگی، اخلاق و شرافت کی تمام قدریں جس طرح پامال ہوں گی تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں وحشت و درندگی کا دور دورہ ہوگا، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو جائے گا، انسانیت و شرافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا، نہ کسی کی عزت محفوظ ہوگی، نہ جان نہ مال اور نہ ایمان اور اس سب کا ذمہ دار کون ہوگا؟ تم دونوں!‘‘

(منقول از روزنامہ الجمعیۃ دہلی ۲۸ اپریل ۱۹۴۶ بحوالہ نوادرات امیر شریعت۔ مطبوعہ مکتبہ نشریات اہل سنت مدرسہ مفتاح العلوم محلہ ملتانی والا، بیرون چونگی نمبر ۳ کہروڑ پکا ضلع ملتان)

آل انڈیا کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ۱۵ اپریل ۱۹۴۶ء کو ایک بیان جاری کیا جسے انہوں نے تصنیف ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ یہ بیان پاکستان کے بارے میں مولانا آزادؒ کے موقف کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

’’میں نے مسلم لیگ کی پاکستان اسکیم پر ہر ممکن نقطۂ نگاہ سے غور کیا ہے، ایک ہندوستانی کی حیثیت پورے ہندوستان سے متعلق اس کی پیچیدگیوں کا میں نے جائزہ لیا ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت پر پڑنے والے اور اس کے ممکنہ اثرات کا میں نے تجزیہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تمام پہلوؤں پر میں نے بہت کچھ غور کیا اور اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ پورے ہندوستان کے لیے اس اسکیم کے جو بھی نقصان ہیں وہ اپنی جگہ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ تجویز سخت تباہ کن ہوگی اور اس سے ان کی کوئی مشکل حل ہونے کی بجائے مزید مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

اول تو مجوزہ لفظ ہی میرے نزدیک اسلامی تصورات کے خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین میرے لیے مسجد بنا دی ہے‘‘۔ روئے زمین کو پاک اور ناپاک کے درمیان تقسیم کرنا ہی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کی یہ اسکیم ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے شکست کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۹ کروڑ سے زائد ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی اور معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں پالیسی اور نظم و نسق کے تمام معاملات پر فیصلہ کن اثر ڈالنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مزید برآں کئی صوبوں میں مسلمانوں کو مکمل اکثریت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کی اسکیم کے ذریعہ ان کی یہ ساری قوت و صلاحیت تقسیم ہو کر ضائع ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں ایک مسلمان کی حیثیت سے ایک لمحہ کے لیے بھی میں اپنا یہ حق نہیں چھوڑ سکتا کہ پورا ہندوستان میرا ہے اور اس کی سیاسی و اقتصادی زندگی میں میری شرکت ناگزیر ہے۔ میرے نزدیک یہ بدترین بزدلی کا نشان ہے کہ میں اپنی میراث پدری سے دستبردار ہو کر ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر قناعت کر لوں۔

میں اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر کے تنہا مسلم مفاد کے نقطۂ نظر سے بھی غور کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اگر پاکستان کی اسکیم کو کسی طور پر بھی مسلمانوں کے لیے مفید ثابت کر دیا جائے تو میں اسے قبول کرلوں گا اور دوسروں سے اسے منوانے پر اپنا پورا زور صرف کر ڈالوں گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اسکیم سے مسلمانوں کے جماعتی اور ملی مفاد کو ذرہ بھی فائدہ نہیں پہنچتا اور ان کا کوئی اندیشہ بھی دور نہیں ہو سکتا۔

اب ذرا جذبات سے بالاتر ہو کر اس کے ممکنہ نتائج پر غور کریں کہ جب پاکستان بن جائے گا تو کیا ہوگا؟

ہندوستان دو ریاستوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ ایک ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی، دوسری میں ہندو اکثریت۔ ہندو اکثریت کے علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہوگی اور وہ بہت چھوٹی چھوٹی اقلیتوں کی صورت میں پورے ملک میں بکھر کر رہ جائیں گے۔ یعنی آج کل کے مقابلہ میں وہ ہندو اکثریت کے صوبوں میں اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے۔ جہاں ان کے گھر بار اور بود و باش ایک ہزار سال سے چلی آرہی ہے اور جہاں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کے مشہور اور بڑے بڑے مراکز تعمیر کیے ہیں۔ ہندو اکثریت کے علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کو ایک دن اس اچانک صورتحال سے سابقہ پیش آئے گا کہ ایک صبح آنکھ کھلتے ہی وہ اپنے آپ کو اپنے گھر اور وطن میں ہی پردیسی اور اجنبی پائیں گے۔ صنعتی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پس ماندہ ہوں گے اور ایک ایسی حکومت کے رحم و کرم پر ہوں گے جو خالص ہندو راج بن گئی ہوگی۔ پاکستان میں خواہ مسلمانوں کی مکمل اکثریت کی حکومت ہی کیوں نہ قائم ہو جائے اس سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کا مسئلہ ہرگز حل نہ ہو سکے گا۔

دو ریاستیں ایک دوسرے کے مدمقابل بن کر ایک دوسرے کی اقلیتوں کا مسئلہ حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں آسکتیں۔ اس سے صرف یرغمال اور انتقام کا راستہ کھلے گا۔ عالمی معاملات میں بھی پاکستان کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کر پائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں جو فارمولا میں نے پیش کیا ہے اور جسے کانگریس سے منظور کرانے میں کامیاب ہوا ہوں اس میں پاکستان کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور وہ ان نقائص سے پاک ہے جو اس اسکیم میں پائے جاتے ہیں۔

دراصل پاکستان کی اسکیم اس خوف کا نتیجہ ہے کہ ہندو مرکز میں اکثریت میں ہوں گے اور مسلم اکثریت کے صوبوں میں ان کی مداخلت ممکن ہے۔ میرے پیش کردہ فارمولے سے جسے کانگریس منظور کر چکی ہے اس خوف کا ازالہ اس طرح ہو جاتا ہے کہ تمام صوبائی وحدتیں مکمل خودمختار ہوں گی۔ مرکزی اختیارات کی دو فہرستیں ہوں گی، ایک لازمی اور دوسری اختیاری۔ مرکز کے پاس صرف وہ چند اختیارات ہوں گے جنہیں صوبے مرکز کو تفویض کریں گے، باقی اختیارات صوبوں کے سپرد ہوں گے۔ مسلم اکثریت کے صوبے اپنی صوابدید کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کرنے میں آزاد ہوں گے اور مرکز کو سپرد کردہ معاملات پر بھی اپنا اثر ڈالنے کا حق رکھیں گے۔ بہرحال کابینہ مشن اور کانگریس دونوں ہی سے میں نے اپنی وفاقی تجویز منظور کرائی جس کی رو سے تمام صوبے مکمل طور پر خودمختار قرار دیے گئے تھے اور صوبوں کی طرف سے صرف ۳ امور مرکز کو تفویض کیے جانے تھے۔ دفاع، امور خارجہ اور رسل و رسائل‘‘۔

مولانا آزادؒ نے بنگلہ دیش کے بارے میں کیا کہا تھا؟ اخبار وطن دہلی مارچ ۱۹۴۸ء کے مطابق مولانا ابوالکلام آزادؒ نے یوپی سے پاکستان جانے والے مسلمانوں کے گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا

’’آپ مادر وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں، آپ نے سوچا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جداگانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اوقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسانا نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کا مذہبی مخالف تو ہو سکتا ہے، قومی اور وطنی مخالف نہیں۔ آپ اس صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اور وطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ جائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہو جائیں گے‘‘۔

۲۳ مارچ ۱۹۴۲ء کو دہلی دروازہ لاہور کے بیرونی باغ میں جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے مشترکہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا

’’سوال یہ ہے کہ بحیثیت ایک ہندوستانی مسلمان کے ہمیں مستقبل کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ میں آنے والے زمانے کو کمزوری و تذبذب سے نہیں دیکھتا بلکہ عزم و ہمت او رحوصلہ سے دیکھ رہا ہوں۔ جو قوم اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہو اس کو تحفظات نہیں بچا سکتے۔ مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے۔ اگر دس کروڑ کی بجائے مسلمان دس لاکھ بھی ہوتے اور ان کے دل میں یہ خیال ہوتا کہ وہ مرنے کے لیے نہیں زندہ رہنے کے لیے ہیں تو کوئی قوم ان کو نہیں مٹا سکتی۔

ہندوستان میں آباد اتنی بڑی تعداد کو اقلیت قرار دینا اور ان کے لیے اقلیتی حقوق اور اقلیتی علیحدگی کا مطالبہ کرنا نہ صرف بزدلی ہے بلکہ ان کے شاندار مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ میرے نزدیک ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت اقلیت کی نہیں بلکہ دوسری بڑی اکثریت کی ہے۔

پس میری جگہ تذبذب اور کمزوری نہیں بلکہ یقین اور ایمان کی ہے۔ لیکن اگر اتنی بڑی تعداد یعنی دس کروڑ کے ہوتے ہوئے بھی تم یہ خیال کرتے ہو کہ فنا ہو جاؤ گے، مٹ جاؤ گے تو اس کا کیا علاج، کہ دس کروڑ لاشوں کو کوئی تحفظ اور کوئی دستور نہیں بچا سکتا‘‘۔

درجہ بندی: