دینی شعبوں میں کام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ فروری ۲۰۱۲ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام طلبہ، طالبات اور شہریوں کے لیے ایک تربیتی کورس شروع ہے جس میں تھوڑی دیر کے لیے مجھے بھی حاضری کا موقع ملا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا محمد ایوب خان ثاقب اس کورس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے حوالہ سے دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی اپنی ایک تاریخ ہے۔

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ جب دارالعلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے شرف تلمذ حاصل کر کے ڈسکہ آئے تو انہوں نے معروف قادیانی لیڈر چودھری ظفر اللہ خان آنجہانی کے گھر کے سامنے غیر مسلموں کی ایک متروکہ عبادت گاہ میں ڈیرہ لگا لیا۔ ظفر اللہ خان آنجہانی کے بھائی چودھری شکر اللہ خان وہاں رہائش پذیر تھے اور علاقہ کے بڑے چودھریوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مولانا محمد فیروز خان ثاقب پرجوش اور باحمیت نوجوان عالم دین تھے جبکہ مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والے دیندار خاندانوں کا تعاون انہیں حاصل تھا اور شیخ برادری اور اس کے ایک جرأت مند راہنما شیخ عبد الحق مرحوم بھی ان کے ساتھ تھے۔ دارالعلوم مدنیہ کی بنیاد رکھی گئی اور مولانا محمد فیروز خان ثاقب نے، جو معقولات اور ادب عربی کے صاحب اسلوب و فن مدرس تھے، تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ تعلیم و تدریس اور مسجد کی خطابت کے ساتھ ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کا بھرپور ذوق رکھتے تھے جس کی وجہ سے دارالعلوم مدنیہ قادیانیت کے خلاف ایک مورچہ کی شکل اختیار کر گیا، حتٰی کہ چودھری ظفر اللہ خان قادیانی کا خاندان وہاں سے نقل مکانی کر گیا۔

میں نے اپنے طالب علمی کے دور میں دارالعلوم مدنیہ کے جلسوں میں خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کے پرجوش خطابات سنے ہیں اور انہیں قادنیوں کو للکارتے دیکھا ہے۔ مجھے وہ منظر اب بھی یاد ہے جب مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے دارالعلوم مدنیہ کے پرہجوم جلسہ عام سے خطاب کیا تو حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ ہاتھ میں رائفل پکڑے اسٹیج کے اردگرد گھوم رہے تھے اور ان کا جوش و جذبہ سامعین و حاضرین کے جذبوں کو دوچند کر رہا تھا۔

میں کچھ عرصہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس محاذ پر کام کرنے والی دیگر جماعتوں کے قائدین سے گزارش کر رہا ہوں کہ آج کی نسل کو قادیانیت کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے کہ یہ لوگ کون ہیں، ان کا عقیدہ و مذہب کیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے اختلافات کی نوعیت اور سطح کیا ہے؟ حتٰی کہ خود ہمارے دینی مدارس کے فاضلین اور فاضلات کی غالب اکثریت اس سے قطعی طور پر بے خبر ہے، اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مختلف سطحوں پر اس سلسلہ میں ایسے اجتماعات کا اہتمام کیا جائے جن میں طلبہ، طالبات، اساتذہ، صحافیوں اور دینی و سیاسی کارکنوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے تاریخی پس منظر اور ان کے موجودہ طریق کار سے واقف کرایا جائے تاکہ وہ اس دام ہمرنگ زمین سے عام مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کو روشناس کرانے اور اس سے ان کو بچانے کے لیے اپنا کردار صحیح طور پر سرانجام دے سکیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اس سلسلہ میں مختلف دائروں میں محنت کر رہی ہیں جو قابل قدر ہے، لیکن قادیانیوں نے عالمی سطح پر اور ملک کے اندر اپنی سرگرمیوں کو جس وسعت اور تنوع کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس محاذ پر ہونے والی محنت کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے اور سب کو باہمی مشاورت کے ساتھ تقسیم کار اور جدوجہد کی نئی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہیے۔

مجھے بتایا گیا کہ حال ہی میں کسی علاقہ میں قادیانی خواتین نے مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں میں اپنی دعوت کے فروغ کے سلسلہ میں کام کا آغاز کیا تو ایک قادیانی خاتون نے کہا کہ وہ مختلف فیہ مسائل پر مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کے لیے تیار ہیں، اس پر علاقہ کے بعض سرکردہ علماء کرام گفتگو کے لیے اس کے پاس گئے تو اس نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی خاتون عالمہ ایسی نہیں ہیں جو مجھ سے بات کر سکیں؟ اس پر علاقہ میں تلاش کی گئی تو پتا چلا کہ دینی مدارس کی فاضلات تو علاقہ میں بہت ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہے جس کی اس مسئلہ پر تیاری ہو اور جو کسی قادیانی خاتون کے ساتھ مسلم قادیانی تنازع کے موضوعات پر بات کرنے کی پوزیشن میں ہو، یا کم از کم وہ اس مسئلہ کی نوعیت اور سطح سے ہی باخبر ہو۔ یہ بات ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور یہ کسی ایک علاقہ کی بات نہیں، ملک بھر کی اجتماعی صورتحال کم و بیش ہر جگہ اسی طرح کی ہے، جس کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

اس پس منظر میں دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ تربیتی پروگرام خوش آئند ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ میں نے اس کورس کی افتتاحی نشست میں حاضری دی اور اصولی طور پر یہ عرض کیا کہ فتنوں سے باخبر ہونا اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے سدباب کی بروقت تدابیر اختیار کرنا بھی دین کے اہم تقاضوں میں سے ہے اور ہماری ذمہ داری ہے:

  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یمامہ کی جنگ میں حفاظ قرآن کریم کی بڑی تعداد میں شہادت سے اندازہ کیا اور خطرہ محسوس کرتے ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ وہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کا اہتمام کریں جس پر حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیا اور قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب کر کے محفوظ کر لیا گیا۔
  • اسی طرح حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے آذربائجان کے علاقہ میں دو عجمی مسلمانوں کو عربی کی مختلف لغتوں اور قراءتوں کے اختلاف کے حوالہ سے قرآن کریم کے بعض الفاظ کے تلفظ پر آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو خطرہ محسوس کیا کہ قراءتوں اور لہجوں کا یہ اختلاف عجمیوں کو ہضم نہیں ہو گا اور وہ ہمیشہ قرآن کریم کے الفاظ کے تلفظ اور لہجوں پر جھگڑتے رہیں گے۔ انہوں نے اس خطرہ سے امیر المومنین حضرت عثمان بن عفانؓ کو مدینہ منورہ پہنچ کر آگاہ کیا اور ان کی تجویز پر قرآن کریم کو قریش کی لغت اور تلفظ پر ازسرنو لکھوا کر حضرت عثمانؓ نے باقی مصاحف کو تلف کرنے کا حکم دے دیا۔

میں نے عرض کیا کہ فتنوں کو محسوس کرنا، ان کی نشاندہی اور ان کے سدباب کی طرف توجہ دلانا دین کا ایک مستقل شعبہ ہے اور ہمارے ہاں حجیت حدیث، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور دیگر شعبوں میں جو محنت ہو رہی ہے وہ اسی شعبہ کی مختلف شاخیں ہیں، البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ محنت ہر شعبہ میں ذوق و جذبہ کے ساتھ ساتھ تدبر و حوصلہ اور حکمت و مصلحت کے ضروری دائروں کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔

   
Flag Counter