پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۷ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شریک ہو کر عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کی اور پاکستانی قوم کو پچاس سالہ قومی زندگی مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ آزادیٔ وطن کے حوالہ سے پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت میں بھی ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے انہی دنوں اپنے قیام کی پچیس سالہ تقریبات منائی ہیں۔

پاکستان کے قیام کو پچاس سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہر سطح پر تقریبات کا اہتمام ہو رہا ہے اور مجالسِ مذاکرہ سے لے کر راگ و رنگ کی محفلوں تک کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ملک کا باشعور اور سنجیدہ شہری اس سوچ میں گم ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالہ سے ہم نے ان پچاس سالوں میں کیا پیش رفت کی ہے اور تقریبات کا اہتمام کرنے والوں کا دھیان اس طرف کیوں نہیں جا رہا؟ برصغیر کی تقسیم اور مسلمانوں کے الگ ملک کے عنوان سے قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اسلامی تہذیب کا احیا اور اسلامی معاشرہ کا قیام تھا جس کے لیے پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا اور اس نعرے کی گونج میں لاکھوں مسلمانوں نے تحریک پاکستان کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دیا۔ لیکن نصف صدی کے دوران اسلامی تہذیب کے احیا اور لا الہ الا اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ حتیٰ کہ ابھی تک ہم اصولی اور دستوری طور پر قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی اور اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط حاکمیتِ اعلیٰ قبول کرنے کے لیے (نعوذ باللہ) تیار نہیں ہوئے۔ اور یہ دونوں بنیادی امور ہمارے ہاں دستور کی زبان میں جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کی مرضی کے ساتھ مشروط ہیں کہ رائے عامہ اور اس کے نمائندہ جمہوری ادارے اللہ تعالیٰ کی حاکیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کے جس پہلو کو قبول کر لیں وہ ملک میں دستور و قانون کا درجہ پا لیتا ہے اور جسے پارلیمنٹ میں ۵۱ فیصد رائے حاصل نہ ہو سکے وہ قرآن و سنت میں موجود ہوتے ہوئے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون میں جگہ نہیں پا سکتا۔ گویا اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے ہم پچاس سال بعد بھی تذبذب اور بے یقینی کے اسی دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط حاکمیت اور قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کو قبول کرنا بھی ہے یا نہیں!

دوسری طرف ملک میں وہ عناصر بھی موجود ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد اسلامی نظام کا نفاذ نہیں بلکہ مسلمانوں کی معاشی آزادی اور انہیں ہندو کی اقتصادی بالادستی سے نجات دلانا تھا، جبکہ لا الہ الا اللہ کا نعرہ صرف مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس نقطۂ نظر سے بھی پچاس سالہ تاریخ کا جائزہ لے لیا جائے تو ہم نے نصف صدی میں کوئی معرکہ سر نہیں کیا بلکہ ہندو کی معاشی بالادستی کے سائے سے نکل کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی معاشی بالادستی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اور اب بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے نعرہ کے ساتھ ایک بار پھر ہندو کی معاشی بالادستی کی آغوش میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اور ستم کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی معاشی بالادستی کو سایہ رحمت قرار دینے اور بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کی صورت میں ہندو کی معاشی بالادستی کی طرف واپسی کی راہ ہموار کرنے میں وہی لوگ پیش پیش ہیں جنہیں اسلام قیامِ پاکستان کے مقصد کے طور پر ہضم نہیں ہو رہا اور وہ مسلمانوں کی معاشی آزادی اور خودمختاری کو ہی قیامِ پاکستان کا واحد مقصد قرار دینے میں اب تک عافیت محسوس کرتے چلے آرہے ہیں۔

ان حالات میں نئی نسل پریشان ہے اور اس کے ذہن پر بے یقینی اور تذبذب کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں جن سے اسے نجات دلانا دانشوروں کی ذمہ داری ہے، ورنہ ذہنی طور پر منتشر اور پراگندہ نسل سے ملک کے بہتر مستقبل کی امید کرنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ملک بھر کے اہل علم و دانش اور دینی و فکری جرائد سے گزارش کی تھی کہ وہ نئی نسل کو آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل، آزادی کے لیے اپنے بزرگوں کی خدمات اور قیام پاکستان کے نظریاتی و تہذیبی مقاصد سے روشناس کرانے کا اہتمام کریں تاکہ اس کی ذہنی پراگندگی میں کچھ کمی ہو اور وہ اپنے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یقین اور حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ خدا کرے کہ ملک کے اہل علم و دانش ہماری اس استدعا کی اہمیت کا احساس کر سکیں۔

اس پس منظر میں مجلہ الشریعہ کی اس سال کی تین اشاعتوں کو پچاس سالہ تقریبات کے لیے مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت زیر نظر شمارہ میں برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضہ اور اس کی معاشی لوٹ مار کے علاوہ اس کے دور میں ابھرنے والی مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں ممتاز اہل قلم کی نگارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ جبکہ جولائی کا شمارہ ’’تحریک آزادی میں علمائے حق کے کردار‘‘ اور اکتوبر کا شمارہ ’’تحریک پاکستان میں علمائے حق کا کردار‘‘ کے عنوانات پر پیش کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

زیر نظر شمارہ میں آپ کے سامنے آنے والی تحریریں نئی نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر پہلے چھپ چکی ہیں لیکن موضوع کی مناسبت سے ہم نے ان کا انتخاب کیا ہے اور انہیں اس ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ قارئین برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر فرنگی استعمار کے تسلط کے مقاصد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی تباہ کاریوں سے واقف ہو سکیں۔ اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی جدوجہد سے بھی آگاہ ہوں جو اس سیلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے رہے اور جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس خطہ کے باشندوں کو فرنگی حکمرانوں کی غلامی سے بچانے کی جدوجہد کی۔

آج ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جس طرح پاکستان کی معیشت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں، اس کے پیش نظر بھی ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے کردار کو اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اس سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کا تجزیہ کیا جا سکے کہ مغربی قزاقوں نے ان دو صدیوں کے دوران اپنے طریق واردات میں کیا تبدیلیاں کی ہیں اور پرانے شکاری کون سے نئے جال کے ساتھ اپنے شکار پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس پروگرام کو پسند کریں گے اور صرف پسندیدگی پر اکتفا کرنے کی بجائے اسے کامیاب بنانے اور اس کی افادیت کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے میں تعاون بھی فرمائیں گے۔