پاکستانی عوام کیسا نظام چاہتے ہیں؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جولائی ۲۰۱۱ء

گیلپ انٹرنیشنل کے حالیہ سروے نے ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت آج بھی ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق یہ سروے اسامہ بن لادن کی وفات سے پہلے کیا گیا تھا، اس کے مطابق۶۷ فیصد عوام نے اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کا اظہار کیا ہے، ۲۰ فیصد نے خاموشی اختیار کی ہے اور ۱۳ فیصد نے کہا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بات بار بار دہرانے کی اب ضرورت نہیں رہی کہ پاکستان کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ مسلم اکثریت رکھنے والا یہ خطہ پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست کی شکل اختیار کر کے امتِ مسلمہ کے مذہبی اور تہذیبی تشخص کی بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنے گا اور پاکستانی قوم اسلامی تعلیمات کے دائرے میں اپنی زندگی بسر کرے گی۔ اس پر تحریک پاکستان کے قائدین بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد کے ارشادات اس قدر واضح اور دوٹوک ہیں کہ ان کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش خود قائد اعظم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود ایک طبقہ مسلسل یہ راگ الاپے جا رہا ہے کہ پاکستان کے تشخص کو اسلام اور اسلامی ثقافت کے ساتھ جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے اسلامی تشخص سے الگ کر کے سیکولر ریاست کی حیثیت دے دینی چاہیے۔ مگر یہ اسلام کی سخت جانی اور اسلام کے ساتھ پاکستانی عوام کی بے لچک وابستگی کا کھلے بندوں اظہار ہے کہ آج بھی ملک کے (مذکورہ سروے کے مطابق) عوام کی ۶۷ فیصد اکثریت جو دو تہائی سے زیادہ بنتی ہے، پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔

پاکستان کے ہر دستور میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے، جبکہ مروجہ دستور میں تو قرآن و سنت کے تمام قوانین کے نفاذ کا ملک کی منتخب پارلیمنٹ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے دستوری طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ مگر یہ المیہ ہے کہ اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ ملک میں قرآن و سنت کے قوانین کے عملی نفاذ کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی بلکہ چند نافذ شدہ قوانین پر عمل کرنے کی بجائے مختلف ترامیم کے ذریعے ان کا حلیہ بگاڑنے اور انہیں بھی غیر مؤثر بنانے کا عمل جاری ہے، جس کی ایک مثال حدود شرعیہ کے قوانین ہیں جنہیں چند سال قبل ’’تحفظِ حقوقِ نسواں‘‘ کے عنوان سے ترامیم کا نشانہ بنایا گیا تھا، مگر وفاقی شرعی عدالت نے ان ترامیم کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر حکومت کو یہ ترامیم واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کی دی گئی مدت ختم ہو چکی ہے مگر حکومت ابھی تک گم صم کی کیفیت میں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، تعلیم، لابنگ اور ذہن سازی کے بیشتر ادارے، جن میں ریاستی ادارے بطور خاص پیش پیش ہیں، اسلامی تہذیب و ثقافت کے نشانات مٹانے اور سوسائٹی کو مغربی ثقافت کی طرف مائل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ملک کے سرکاری تعلیمی نصاب کی چھانٹی اور اس میں سے اسلامی مواد اور دینی معلومات کو دھیرے دھیرے خارج کرنے کا عمل ہے جو پورے تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ملک میں اسلامی تعلیمات سے عوام کا ذہن ہٹانے اور مغرب کی مادرپدر آزاد ثقافت کے فروغ کے لیے ان عناصر کو مغربی حکومتوں کی مکمل عملی اور کھلی سرپرستی حاصل ہے، ملک بھر میں غیر ملکی امداد سے چلنے والی سینکڑوں این جی اوز اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اس کا تازہ ترین اظہار اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا وہ اجتماع ہے جس میں ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی جواز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر محترم نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مجھے ان دوستوں کی اس ڈھٹائی پر حیرت ہوتی ہے جو آنکھیں بند کر کے یہ دہائی دیے جا رہے ہیں کہ امریکہ یا مغرب کے ساتھ مسلمانوں کے اختلافات یا کشمکش کا تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور وہ ثقافتی کشمکش کے وجود کا انکار کرتے ہوئے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مغرب کو یہ الزام دینا درست نہیں ہے کہ وہ مسلم دنیا میں اسلامی ثقافت کو مٹانے اور مغربی ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میرا ان دوستوں سے سادہ سا سوال ہے کہ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کے اس اجتماع اور اس میں ہونے والی مبینہ کاروائی کا تعلق اگر تہذیب و ثقافت کے ساتھ نہیں ہے تو اور کس چیز کے ساتھ ہے؟

بہرحال اس سب کچھ کے باوجود پاکستان کے عوام کی واضح اکثریت کا اسلام اور اسلامی نظام کے ساتھ اپنے تعلق اور کمٹمنٹ کا ایک بار پھر اظہار پاکستانی عوام کی اسلام کے ساتھ بے لچک محبت کی دلیل ہے جس پر انہیں سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) کے عوام اور سیاسی قیادت کو بھی سلام پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے اسلام کو سرکاری مذہب کے طور پر برقرار رکھنے کا اعلان کر کے پھر سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو اسلام سے لاتعلق کرنے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، اس پر بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں جب مشرقی پاکستان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش کی صورت اختیار کی تھی تو اسے ایک سیکولر ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر متعارف کرایا گیا تھا مگر بنگلہ دیش کے عوام کی مسلمانی بالآخر غالب آئی اور ۱۹۸۸ء میں دستوری ترمیم کے ذریعے اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دے دیا گیا۔ جس پر سیکولر حلقے اب تک تلملا رہے ہیں اور تب سے اس دستوری ترمیم کو ختم کرنے اور بنگلہ دیش کو پھر سے سیکولر ریاست کا درجہ دینے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرتوڑ کوشش جاری ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ وزیراعظم محترمہ حسینہ واجد نے اس کے لیے بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں پیش رفت بھی کی اور دستوری ترامیم کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی مگر بنگلہ دیش کی مسلم رائے عامہ نے ایک بار پھر غلبہ حاصل کر لیا اور طویل کشمکش کے بعد محترمہ حسینہ واجد کے وزیر جناب شفیق احمد نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ اسلام بنگلہ دیش کا بدستور سرکاری مذہب رہے گا۔ زندہ باد پاکستانی عوام اور زندہ باد بنگلہ دیشی عوام۔