دینی مدارس کی تقریبات اور انتظامیہ کا رویہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۹ فروری ۲۰۲۰ء

دینی مدارس میں سالانہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور ختم بخاری شریف و دستاربندی کے عنوانات سے پروگرام شروع ہو چکے ہیں جن کا سلسلہ رمضان المبارک تک جاری رہے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ یہ دینی مدارس کے تعلیمی نوعیت کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں معاونین کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے والدین اور دیگر متعلقہ احباب کو شریک کرنے کا اہتمام بھی کر لیا جاتا ہے جس سے یہ پروگرام ایک طرح کے سالانہ تعلیمی کانووکیشن کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ مگر ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق ہمارے بعض ریاستی اداروں کے کان خواہ مخواہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوچھ گچھ، چھان پھٹک اور کوائف کے ازسرنو جمع کرنے کا حوصلہ شکن سلسلہ دوبارہ چل پڑتا ہے۔ جس کی اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ دینی مدارس کے بارے میں دوسری بہت سی باتوں کے ساتھ یہ بھی عالمی اور قومی سطح پر طے کر لیا گیا ہے کہ انہیں عام معاشرہ سے بہرصورت الگ تھلگ رکھا جائے اور ایسی عمومی سرگرمیوں کی انہیں اجازت نہ دی جائے جو سوسائٹی میں ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا باعث بنیں۔ حالانکہ یہ مدارس اسی معاشرہ کا حصہ ہیں، ان کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور دیگر تمام متعلقین ملک کے شہری ہیں، اور انہیں بھی آزادیٔ رائے، عوامی اجتماعات، ذہن سازی اور لابنگ کے وہ تمام حقوق دستوری طور پر حاصل ہیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کے لیے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ مگر محسوس ہوتا ہے کہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے دائرے سے دینی حلقوں بالخصوص مدارس کو عملی پالیسی کے حوالہ سے خارج ہی سمجھ لیا گیا ہے۔

اس پس منظر میں گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے، جن میں مولانا خالد حسن مجددی، مولانا حافظ محمد امین محمدی، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا ضیاء الرحمان قاسمی، علامہ عارف حسین تائبی، مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر، مولانا سعید احمد کلیروی، علامہ نصیر احمد اویسی، جناب ظہیر حسین نقوی، مولانا محمد جواد قاسمی، چودھری بابر رضوان باجوہ، حافظ امجد محمود معاویہ، قاری احسان اللہ قاسمی، مولانا محمد عمر قارن، اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ مرکزی جامع مسجد میں باہمی مشاورت کا اہتمام کیا اور اس کے بعد ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سے اجتماعی ملاقات کر کے ان سے چند گزارشات کیں گئیں جو درج ذیل ہیں:

  • جب تک وفاق المدارس اور حکومت کے معاملات طے نہ ہو جائیں، مدارس کو تنگ نہ کیا جائے۔
  • کوائف صرف دینی مدارس منتظمین بذریعہ متعلقہ بورڈ سے وصول کیے جائیں اور بلاوجہ علماء کرام اور مہتمم حضرات کو ہراساں کرنے سے گریز کیا جائے۔
  • دینی مدارس اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان رابطہ کا آسان طریقہ ہونا چاہیے۔
  • دینی مدارس کے پروگرام ختم بخاری و دستار بندی اور ختم قرآن کریم کی تقریبات کے حوالہ سے سابقہ پالیسی پر عمل کیا جائے۔
  • مسجد و مدرسہ کے NOC جاری کرنے کے اجلاس ماہانہ سطح پر ضابطہ کے مطابق کیے جانے کو یقینی بنایا جائے۔
  • بین المذاہب کے معاملات کے حوالہ سے طے شدہ پالیسی کے مطابق عمل کیا جائے۔

ان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ختم بخاری شریف اور دستاربندی کے اجتماعات دینی مدارس کے داخلی نوعیت کے تعلیمی کانووکیشن طرز کے پروگرام ہوتے ہیں اور ہر ضلع میں بیسیوں ہوتے ہیں، انہیں پبلک جلسوں کے دائرے میں ڈیل کرنے کی بجائے تعلیمی اجتماعات کے طور پر لیا جائے اور متعلقہ ادارے اس موقع پر جو کچھ کرنے لگ جاتے ہیں اس پر نظرثانی کی جائے۔

ہمارے موجودہ ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈ کیپٹن سہیل اشرف معاملہ فہم اور زیادہ سے زیادہ پبلک ڈیلنگ کا مزاج رکھنے والے آفیسر لگتے ہیں۔ راقم الحروف بھی ملاقات میں شریک تھا، ان کا رویہ اور گفتگو دیکھ کر خوشی اور اطمینان ہوا کہ وہ ایسے افسروں میں سے ہیں جن کے ساتھ دینی و قومی معاملات میں دل کی بات بے تکلفی کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس کا نقد اثر یہ ہوا کہ وہ دو روز بعد مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تشریف لے آئے اور مسجد کی تاریخ اور ماحول سے آگاہی حاصل کر کے خوش ہوئے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ مسجد ۱۳۰۱ ہجری میں بنی تھی اور اپنی عمر کے ایک سو چالیس سال پورے کر چکی ہے۔ اس مسجد کا امتیاز یہ ہے کہ گزشتہ ایک صدی سے یہ شہر میں دینی اور قومی تحریکات کا مرکز ہے، کوئی قومی ایجنڈا ہو، دینی معاملہ ہو، یا شہری مسئلہ ہو اس کے لیے یہاں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے نمائندے بلاتکلف جمع ہوتے ہیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں اور اس کے مطابق جدوجہد کرتے ہیں۔ جبکہ کم و بیش سبھی مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام وقتاً فوقتاً یہاں جمع ہو کر باہمی وحدت و اجتماعیت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اور اس طرح گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد وحدت امت کی عملی علامت بن گئی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ بحمد اللہ تعالٰی گزشتہ نصف صدی سے اس مسجد کے خطیب کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا ہوں، جبکہ مسجد کے ساتھ ۱۹۲۶ء میں مدرسہ انوار العلوم کے نام سے جو درسگاہ قائم ہوئی تھی اس کے مہتمم مولانا داؤد احمد میواتی ہیں جو اس ملاقات میں موجود تھے۔

دینی مدارس کے ان اجتماعات میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے دوستوں کے تقاضے جاری رہتے ہیں، اکثر سے تو معذرت ہی کرنا پڑتی ہے، صرف ان پروگراموں میں شریک ہوتا ہوں جس کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم کے اسباق کا ناغہ نہ ہو، کیونکہ شش ماہی امتحان کے بعد دورہ حدیث کے اسباق کسی ناغہ کے متحمل نہیں ہوتے، اس دائرے میں گنجائش کے جو ایام بنتے ہیں ان کی اس سال کی ترتیب طے ہو چکی ہے، اس لیے تقاضے کرنے والے حضرات سے معذرت خواہ ہوں کہ رمضان المبارک سے قبل کسی نئے وعدے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، اللہ تعالٰی طے شدہ پروگراموں کو صحیح طور پر نبھانے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔