جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ جون ۲۰۰۰ء
اصل عنوان: 
جنرل پرویز مشرف سے ایک ضروری گزارش

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو ختم نہیں کیا جا رہا اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی جا رہی۔ جبکہ دینی جماعتوں نے پشاور میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو عبوری آئین میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد، جمعہ کی چھٹی بحال کرنے، سودی نظام کے خاتمہ، این جی اوز پر پابندی اور دینی مدارس کے معاملات میں مداخلت بند کرنے کا اعلان کیا جائے ورنہ وہ ایک ہفتہ کے بعد نیا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

دینی جماعتوں اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان یہ آنکھ مچولی کافی دنوں سے جاری ہے اور اس کے پیچھے دینی جماعتوں کا یہ احساس پوری شدت کے ساتھ کارفرما ہے کہ چونکہ جنرل پرویز مشرف کے گرد ایسی این جی اوز کے عہدہ داروں کا گھیرا ہے جو اب تک پاکستان کو سیکولر ریاست کی شکل دینے، آئین کی اسلامی دفعات کو ختم کرانے، توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کو بدلوانے، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی دستوری دفعات کو غیر مؤثر بنانے اور اسلامی قوانین کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے ایجندے پر کام کرتی آرہی ہیں۔ اس لیے عبوری آئین میں ان امور کو تحفظ فراہم نہ کرنے سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں اور دینی جماعتوں کی قیادت ان معاملات کو عبوری آئین کے مستقل فرمان کے ذریعے تحفظ دینے سے کم کسی بات پر مطمئن ہوتی نظر نہیں آتی۔ جبکہ دوسری طرف جنرل پرویز مشرف بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان کا اسلامی دفعات کو چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس سلسلہ میں دینی جماعتوں کے خدشات بے بنیاد ہیں۔

اس سلسلہ میں جنرل پرویز مشرف صاحب کی توجہ کے لیے اس معاملہ کے ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو میرے خیال میں شکوک و شبہات کو بدستور برقرار رکھنے کا باعث بنا ہوا ہے اور اگر جنرل پرویز مشرف اس فضا کو صاف کرنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اس پہلو پر فوری طور پر توجہ دینا ہوگی۔ وہ پہلو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے وزراء کے بیانات اور ان کے عملہ کی بعض معاملات میں کارکردگی ان کے اعلانات سے مطابقت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے دینی حلقوں کی بے اعتمادی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی ہے۔

مثلاً جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے نفاذ کا طریق کار تبدیل نہیں کیا جا رہا اور اس سلسلہ میں مجوزہ ترمیم واپس لی جا رہی ہے۔ مگر اس اعلان کے تین روز بعد خود ان کی کابینہ کے وزیر جناب عمر اصغر خان کا یہ ارشاد گرامی قومی اخبارات کی زینت بنا ہے کہ توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کوئی متبادل صورت ضرور اختیار کی جائے گی۔ اس قانون کے نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی اور اس کی ایف آئی آر کے اندراج کو ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے ساتھ مشروط کرنے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اس قانون میں سزا بہت سخت یعنی موت کی سزا ہے اور عام طور پر اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے اس لیے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے طریق کار میں تبدیلی ضروری ہے۔

لیکن ایک عام آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ موت کی سزا تو اور بھی بہت سے جرائم میں ہمارے قوانین کا حصہ ہے اور ان قوانین کا غلط استعمال بھی ہمارے معاشرے میں عام طور پر ہوتا ہے پھر ان میں سے طریق کار کی تبدیلی کی بات صرف توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے حوالہ سے کیوں کی جاتی ہے؟ اس سے عام شہری کے ذہن میں تشویش پیدا ہوتی ہے کہ قانون کے غلط استعمال کی بات محض ایک بہانہ ہے اور اصل مقصد توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کو غیر مؤثر بنانا ہے۔

پھر ایک قانون دان اس سے آگے بڑھ کر دیکھتا ہے کہ ہمارے ہاں قتل کے جرم میں یہ طریق کار پہلے رائج تھا کہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہونے اور ملزم پر فرد جرم عائد ہونے سے پہلے مجسٹریٹ درجہ اول کے ذریعے کیس کی چھان بین ہوتی تھی اور اس کے بعد اسے سیشن کورٹ میں پیش کیا جاتا تھا۔ مگر اس طریق کار کو قتل کے مقدمات میں غیر ضروری قرار دے کر ختم کر دیا گیا تو اب وہی طریق کار توہین رسالتؐ کے مقدمات میں واپس کیوں لایا جا رہا ہے؟

اب اس سلسلہ میں ایک طرف جنرل پرویز مشرف کا اعلان ہے کہ اس قسم کی کوئی ترمیم نہیں کی جا رہی اور دوسری طرف ان کے اس اعلان کے بعد ان کے وزیر عمر اصغر خان اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی متبادل طریق کار ضرور اختیار کیا جائے گا تو جنرل پرویز مشرف خود سوچ لیں کہ ان کے اعلان پر عوام اور دینی حلقوں میں اعتماد اور اطمینان کی فضا کس طرح قائم ہو سکتی ہے؟

اسی طرح جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز کہا کہ وہ جمعہ کی چھٹی بحال کرنے پر غور کر رہے ہیں لیکن ان کے وزیر داخلہ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا یہ ارشاد بھی قومی پریس کے ذریعے عوام کی نظر سے گزرا ہے کہ جمعہ کی چھٹی کا فیصلہ چونکہ منتخب پارلیمنٹ نے کیا تھا اس لیے ہم اس فیصلہ کو نہیں بدل سکتے۔ اس پر عام لوگوں کی یہ سوچ ایک طرف یہ ہے کہ منتخب پارلیمنٹ کا دیا ہوا پورا آئین لپیٹ کر ایک طرف رکھ دینے والوں کو صرف جمعہ کی چھٹی کے بارے میں منتخب پارلیمنٹ کا فیصلہ کس طرح یاد رہ گیا ہے؟ مگر اس سے قطع نظر جنرل پرویز مشرف اتنی بات ضرور سوچیں کہ جمعہ کی چھٹی کے بارے میں ان کے اعلان اور ان کے وزیر داخلہ کے بیان کو سامنے رکھتے ہوئے عوام اور دینی حلقوں میں اعتماد اور اطمینان کی لہر آخر کدھر سے آئے گی؟

اسی طرح جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی طرف سے بار بار اعلان کیا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی مگر عملاً صورتحال یہ ہے کہ مدارس کے مختلف معاملات کا سروے ملک بھر میں جاری ہے، طلبہ کی چھان بین ہو رہی ہے اور حسابات کی جانچ پڑتال کے حوالہ سے مداخلت کا راستہ کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں بطو رمثال ایک کیس کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ ملک کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے انتظامات کا گزشتہ سال تنازعہ ہوا، مہتمم صاحب نے شہر کے علماء، مدرسہ کے معاونین اور مسجد کے نمازیوں کے تعاون سے مدرسہ کے نظام کو کنٹرول کر لیا اور نئی انتظامیہ قائم ہوگئی جس کے تحت کسی خلل او رنقصان کے بغیر مدرسہ کا نظام چل رہا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق سول کورٹ میں چلا گیا ہے جہاں ملک کے مروجہ قانون کے مطابق کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔ مگر یہ کیس اب ملٹری مانیٹرنگ سیل گوجرانوالہ کے انچارج کی میز پر پڑا ہوا ہے، مدرسہ کے منتظمین کی دو دفعہ ان کے سامنے پیشی ہو چکی ہے اور ملٹری مانیٹرنگ سیل کے انچارج کی خواہش یہ دکھائی دے رہی ہے کہ معروضی حقائق اور سول کورٹ کے مقدمہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ کسی نہ کسی طرح مصالحت کے نام پر مدرسہ کی سابقہ انتظامیہ کو پھر سے مدرسہ کے معاملات میں دخیل کر دیں جو ظاہر ہے کہ دباؤ اور مداخلت ہی کی ایک شکل متصور ہوگی۔

جنرل پرویز مشرف صاحب سے گزارش ہے کہ ان کے اعلانات اپنی جگہ مگر انہیں اپنے ساتھیوں کے بیانات اور اپنی مشینری کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنی چاہیے کیونکہ اگر ان میں آپس میں تضاد ہوگا تو ان کا کوئی واضح اعلان بھی عوام اور دینی حلقوں میں اعتماد کی فضا بحال نہیں کر سکے گا اور دینی حلقوں کی بے چینی کو کم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔