سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۱۳ء

غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند عزیزم ھارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے اسلام آباد پولیس کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غازی عبد الرشیدؒ اور ان کی والدہ مرحومہ کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اگرچہ آب پارہ پولیس کے ایس۔ ایچ۔ او نے ایک قومی اخبار ’’دنیا‘‘ سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ انہیں عدالت کی طرف سے ابھی تک کوئی حکم موصول نہیں ہوا تاہم امید ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کی تعمیل ان سطور کی اشاعت تک ہو چکی ہوگی یا چند روز تک ہو جائے گی۔

لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے خلاف خونی آپریشن کی ذمہ داری بہرحال جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہی کے حکم پر یہ المناک خونریز کاروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی اہلیہ محترمہؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشیدؒ جام شہادت نوش کر گئے تھے اور پورا ملک صدمہ اور رنج و غم میں ڈوب گیا تھا۔ اس خونی آپریشن کے آثار اس کے واقع ہونے سے بہت پہلے مقتدر قوتوں کے تیور دیکھتے ہوئے نظر آرہے تھے اور اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش مختلف حلقوں کی طرف سے ہوئی تھی، لیکن عین اس وقت جب حکومتی نمائندوں اور غازی عبد الرشید شہیدؒ کے درمیان صورت حال کو بہتر رُخ پر لانے کے لیے چند نکات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور یہ توقع پیدا ہوگئی تھی کہ چند گھنٹوں تک معاملات سلجھنے کی عملی صورت نکل آئے گی، اس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ہی تھے جنہوں نے نہ صرف نصف شب کے بعد اس معاہدہ کو ’’ویٹو‘: کر دیا تھا بلکہ صبح طلوع ہونے سے پہلے اس خونی آپریشن کا آرڈر بھی دے دیا تھا جس کی تلخ یادیں ایک مدّت تک قلوب و اذھان کو بے چین کرتی رہیں گی۔

میں خود ان مذاکرات میں شریک تھا اور وفاق المدارس کے اس وفد میں شامل تھا جو صدر وفاق حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی قیادت میں اس مقصد کے لیے اسلام آباد پہنچا تھا کہ حکومت اور غازی عبد الرشیدؒ کے درمیان مفاہمت کی کوئی صورت نکال کر آپریشن کو رکوانے کا اہتمام کیا جائے، اس وفد نے معاملات کو سلجھانے کے لیے جو کچھ کیا اس کی تفصیل حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم، حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم الحروف نے اپنی رپورٹوں میں انہی دنوں بیان کر دی تھی۔ یہ تینوں مضامین سانحہ لال مسجد کے فورًا بعد اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے تھے اور بعد میں کتابی شکل میں بھی منظر عام پر آچکے ہیں، جبکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی کمیشن کے سامنے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اپنے دیگر رفقاء سمیت پیش ہو کر اپنا موقف بیان کر دیا ہے اور راقم الحروف نے بھی اپنی تحریری رپورٹ کمیشن کو باضابطہ بھجوادی تھی۔

وفاق المدارس کے اس وفد کا مقصد جامعہ حفصہؒ کے منتظمین اور حکومتی حلقوں کے درمیان گفتگو اور مذاکرات کا ماحول پیدا کرنا اور دونوں طرف کے موقف میں لچک پیدا کر کے اس متوقع خونی آپریشن کو روکنا تھا جس کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتے جا رہے تھے۔ اس کے لیے وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور وفاقی وزراء جناب وصی ظفر اور اعجاز الحق کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی اور دونوں طرف کے تمام خدشات اور تحفظات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نصف شب کے لگ بھگ چند ایسے نکات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا جسے ٹیلی فون پر سماعت کر کے غازی عبد الرشید شہیدؒ نے بھی قبول کر لیا تھا جس سے یہ امید نظر آنے لگی تھی کہ جب ان نکات کو حکومتی نمائندوں اور غازی عبد الرشیدؒ دونوں نے قبول کر لیا ہے تو صبح تک اس ڈیڈ لاک کے خاتمہ کی کوئی صورت ضرور نکل آئے گی۔

ان نکات میں جو اصولاً معاہدے کی حیثیت اختیار کر چکے تھے، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ غازی عبد الرشیدؒ اور ان کے ساتھ مسجد و مدرسہ میں موجود تمام لوگ ہتھیار ڈال کر باہر نکل آئیں گے، ان کے خلاف لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے تنازعہ کے حوالہ سے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ غازی عبد الرشیدؒ اور ان کے خاندان کو بحفاظت ان کے آبائی وطن ڈیرہ غازی خان پہنچا دیا جائے گا اور جامعہ حفصہ میں موجود بلکہ محصور طالبات اور خواتین کو راولپنڈی کے حاجی کیمپ میں لے جایا جائے گا جہاں چند روز مہمان رکھ کر انہیں ان کے خاندانوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔ ا س کے ساتھ یہ بھی طے ہوا تھا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے تنازعہ سے ہٹ کر اندر موجود کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ حتیٰ کہ ان نکات پر عملی اقدامات کے حوالہ سے باہمی گفتگو شروع ہوگئی تھی اور اس حد تک آگے بڑھ گئی تھی کہ حکومتی وفد میں شریک چودھری وجاہت حسین صاحب نے یہ پوچھا کہ اندر موجود افراد کی تعداد پوچھی جائے تا کہ وہ ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کر سکیں اور یہ دریافت کیا کہ اتنی رات گئے اتنے لوگوں کے لیے کھانے کا بندوبست کہاں سے کیا جائے گا۔ کیونکہ مکمل ناکہ بندی کے باعث جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے اندر موجود افراد نہ صرف کئی روز سے محصور تھے بلکہ خوراک اور پانی بھی تسلسل کے ساتھ ان تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ اس پر میں نے چودھری وجاہت حسین سے کہا کہ لاہور میں داتا دربار پر ہر وقت پکی پکائی دیگیں مل جاتی ہیں، پتہ کر لیں کہ اسلام آباد میں امام بریؒ کے دربار سے پکی پکائی دیگیں شاید مل جاتی ہوں۔ چودھری صاحب نے کہا کہ کیا آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حالت اضطرار ہے، وقت گزاریں بعد میں مسئلہ بھی معلوم کر لیں گے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ ماحول جس کا آغاز پہلی نشست میں چودھری شجاعت حسین اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے درمیان انتہائی تلخی سے ہوا تھا، اپنے انجام پر اس قدر خوشگوار فضا میں تبدیل ہو چکا تھا، لیکن معاہدہ کے وہ نکات جو راقم الحروف اور وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر دونوں نے مل کر تحریر کیے تھے اور جنہیں فون پر سن کر غازی عبد الرشید شہیدؒ نے ان سے مکمل اتفاق کر لیا تھا، جب آخری منظوری کے لیے جنرل (ر) پرویز مشرف کے پاس لے جائے گئے تو انہوں نے اس پورے معاہدے کو مسترد کر دیا اور چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ان کے پاس جانے والا وفد بالکل نئی شرائط اپنے ساتھ لایا جنہیں قبول کرنے سے ہم نے انکار کر دیا، اور غازی عبد الرشیدؒ نے بھی فون پر یہ شرائط سن کر انہیں مسترد کر دیا، اس کے بعد ہم سے کہا گیا کہ نصف گھنٹے کے اندر ان کے بارے میں ہاں یا ناں میں جواب دیا جائے جو کہ کسی طرح بھی قابل قبول اور قابل عمل بات نہیں تھی۔ اس پر ہم نے وہاں سے اٹھ جانے کا فیصلہ کیا اور ہمارے جانے کے بعد چند لمحوں کے بعد اس المناک خونی آپریشن کا آغاز ہوگیا جس نے پوری قوم کو غم و اندوہ کے سمندر میں ڈبو دیا اور جس کی ٹیسیں ابھی تک پوری قوم کے جسم سے اٹھ رہی ہیں۔ اس لیے اس پورے آپریشن اور اس کے تلخ نتائج کی ذمہ داری جنرل (ر) پرویز مشرف پر ہی عائد ہوتی ہے اور ان سے عدالتی کاروائی کے ذریعہ اس خون کا حساب لینا عدل و انصاف کے ناگزیر تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔