میاں محمد شریف کے لیے ایک قابل غور نکتہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء

طیارہ سازش کیس کا فیصلہ میں نے دینہ ضلع جہلم میں سنا۔ دینہ کے عالم دین مولانا محمد حسین ایک عرصہ سے انگلینڈ میں مقیم ہیں، ان کے بیٹے امین الرشید نے حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ساتھ میدان جنگ میں شہادت پائی ہے اور انہوں نے اس کی یاد میں دینہ میں جامعہ امینیہ اسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ تین کنال جگہ میں طالبات کی دینی تعلیم کا مدرسہ قائم کیا جائے گا۔ ۶ اپریل کو اس کے سنگ بنیاد کی تقریب تھی جس میں مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ تقریب سے فارغ ہو کر مقامی سماجی رہنما اور بلدیہ کے سابق کونسلر حاجی محمد مستقیم انصاری کے گھر کھانا کھا رہا تھا کہ کیس کا فیصلہ کی تفصیلات کا علم ہوا۔ فیصلے پر تعجب بھی ہوا اور ایک حد تک اس بات پر اطمینان بھی کہ اس سے زیادہ سنگین سزا شاید ملک میں کسی نئے سیاسی خلفشار کا باعث بن جاتی۔ بہرحال عدالت کا فیصلہ ہے جس کے حسن و قبح کا جائزہ لینے کے لیے عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے دونوں مراحل ابھی باقی ہیں اور حتمی نتیجہ کے سامنے آنے میں غالباً زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

گوجرانوالہ واپسی کے لیے جہلم کے جنرل بس اسٹینڈ سے ویگن پر بیٹھا تو میری سیٹ درمیان میں تھی اور پچھلی سیٹ پر دو خواتین تھیں جن میں سے ایک کسی شادی میں شرکت کے بعد گھر واپس جا رہی تھی۔ ویگن کے روانہ ہوتے ہی ان دونوں کی گفتگو شروع ہوئی اور گوجرانوالہ پہنچنے تک کسی وقفہ کے بغیر یہ سلسلہ جاری رہا۔ گفتگو کا آغاز حسب توقع نواز شریف کیس کے فیصلے سے ہوا اور پھر شادی بیاہ سے لے کر مہنگائی اور تقدیر تک معاملات اس کی لپیٹ میں آتے چلے گئے۔ گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہیں بلکہ عام گھریلو قسم کی عورتیں ہیں مگر انہوں نے طیارہ سازش کیس اور سابقہ حکومت کے ساتھ موجودہ حکومت کی کارکردگی کا تقابل کرتے ہوئے جو باتیں کیں وہ یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ ہمارے ہاں سیاسی شعور کا دائرہ پہلے کی طرح محدود نہیں رہا بلکہ ایک عام شہری اور گھریلو عورت کے لیے بھی سیاسی معاملات کے پس منظر میں جھانکنا اب کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔

بات چیت کا آغاز ایک خاتون کے اس جملہ سے ہوا کہ ’’نماز شریف نوں عمر سزا بول گئی اے‘‘۔ اور پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا اس کے دو جملوں کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا، اس کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کوئی ایسا کام تو نہیں کیا تھا جس پر اسے یہ سزا دی جاتی ہاں ’’اے پہاڑی جیہڑی واپس کیتی سو اے چنگا نئیں سو کیتا‘‘۔ یعنی کارگل کے مورچے مجاہدین سے خالی کرانے والی بات نواز شریف سے ہمدردی رکھنے والی اس خاتون کو بھی ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ پھر اس نے نواز شریف کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا کوئی ’’مامے دا پتر‘‘ نہیں تھا مگر غریبوں کے لیے اچھا تھا اور اس کے دور میں غریبوں کو سہولت حاصل ہوتی تھی جو موجودہ حکومت میں نہیں ہے۔ یہ کہہ کر اس نے گفتگو کا رخ موجودہ حکومت کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ اس حکومت نے تو غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا الٹا مہنگائی میں اضافہ کیا ہے، اس نے خدا جانے کس جگہ کا ذکر کیا کہ وہاں غریب لوگوں کو ریڑھیاں لگانے سے روک دیا گیا ہے جس پر اس کا تبصرہ یہ تھا کہ ’’اینہاں تے روٹی ٹکر دا وسیلا وی لوکاں کولوں کھوہ لیا اے‘‘۔ دونوں حکومتوں کے تقابل کے بعد پھر ان خواتین کا رخ نواز شریف کی طرف تھا اور اب ان کی امید کا سہارا یہ آس تھی کہ ’’چلو خیر اے اپیلاں اپولاں وچ جان چھٹ جائے گی سو۔‘‘

یہ بظاہر دو عام سی عورتوں کا تبصرہ ہے مگر رائے عامہ کی جس سطح کی وہ نمائندگی کر رہی ہیں اس کو نظر انداز کرنا آج کے دور میں ممکن نہیں ہے اور موجودہ حکومت کے پالیسی سازوں کے لیے یقیناً یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ میاں محمد نواز شریف کو سنائی جانے والی اس سزا سے مجھے بھی ذاتی طور پر دکھ ہوا ہے مگر اس سب کچھ کے پیچھے ان کا اپنا رویہ اور طرز عمل کارفرما ہے اس لیے اس پر دکھ کے اظہار کے سوا اور کچھ کیا بھی نہیں جا سکتا۔ مجھے کچھ عرصہ میاں صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے جس دور میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) قائم ہوا تو وہ پنجاب کے صدر تھے اور میں نائب صدر تھا مگر سیاسی سوچ، طرزعمل اور معاملہ کاری کے فقدان کے باعث دو چار ماہ سے زیادہ ان کے ساتھ نہ چل سکا اور استعفیٰ دے کر پیچھے ہٹ گیا۔ میرے نزدیک معاملات کے یہاں تک پہنچنے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ملک کا وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف سیاسی معاملات کو سیاسی انداز سے ڈیل کرنے کا سلیقہ نہ سیکھ سکے اور وہ آخر وقت تک ’’سیاست‘‘ اور ’’کاروبار‘‘ کے فرق کو ذہنی طور پر قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

لیکن اس سے ہٹ کر ایک اور پہلو سے بھی ’’طیارہ سازش کیس‘‘ کے اس فیصلے کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ اسلامی تاریخ میں برمکی خاندان بہت معروف خاندان ہے، عباسی خلافت کے آغاز میں ہی وسطی ایشیا (بلخ) سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے سربراہ خالد برمکی نے پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس سفاح کی حکومت میں اہم عہدہ حاصل کر لیا تھا اور اس کے بعد اس کے بیٹے یحییٰ اور دو پوتوں فضل اور جعفر نے ہارون الرشید کے دربار میں جو رسوخ حاصل کیا اس سے پوری دنیا انگشت بدنداں ہو کر رہ گئی تھی۔ ایک دور میں ہارون الرشید کی وسیع و عریض سلطنت میں، جو بلاشبہ اپنے دور کی دنیا کی سب سے بڑی منظم سلطنت تھی، یحییٰ برمکی اور اس کے بیٹوں کو خلیفہ کے بعد سب سے زیادہ با اختیار خاندان کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اقتدار، دولت اور پروٹوکول کے سہ آتشہ نشے نے ان کے دماغوں کو ساتویں آسمان سے اوپر پہنچا دیا تھا کہ اچانک خدا کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آئی، جعفر برمکی خلیفہ ہارون الرشید کے حکم پر قتل ہوا اور اس کی لاش کئی روز تک بغداد کے بازار میں لٹکتی رہی جبکہ یحییٰ اور اس کے دیگر بیٹوں نے زندگی کے باقی دن قید خانے میں گزارے۔ امام ابن کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں لکھا ہے کہ جن دنوں برمکی خاندان کا سربراہ یحییٰ برمکی اپنے بیٹوں کے ہمراہ الرقہ کے قید خانے میں زندگی کے آخری دن گزار رہا تھا اس کے ایک بیٹے نے دریافت کیا کہ ابا جان! اس قدر اقتدار، دولت اور شہرت کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں، آخر اس کا سبب کیا ہے؟ یحییٰ برمکی جہاندیدہ شخص تھا اس لیے کسی تکلف کے بغیر اس نے جواب دیا:

’’بیٹا! لگتا ہے کسی مظلوم کی بد دعا نے چپکے سے عرش کا دروازہ کھٹکھٹا لیا ہے اور ہم اس سے بے خبر رہے ہیں۔‘‘

مجھے شریف فیملی کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے ہمدردی ہے لیکن میں یحییٰ برمکی کی زبان میں انہیں یہی پیغام دینا چاہوں گا کہ اقتدار، دولت اور پروٹوکول کے سہ آتشہ نشے کی زد میں آنے والے مظلوموں کی فہرست پر ایک نظر ڈال لیجئے ہو سکتا ہے اپنی موجودہ آزمائش کا اصل سبب معلوم کرنے میں انہیں کچھ سہولت حاصل ہو جائے۔

درجہ بندی: