علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اپریل ۲۰۰۱ء

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام سب سے پہلے ۱۹۴۵ء میں اس وقت عمل میں آیا جب متحدہ ہندوستان میں علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے تحریک آزادی میں تقسیم وطن اور قیام پاکستان کے سوال پر مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اور قیام پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے والے علماء نے، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ سر فہرست تھے، جمعیۃ علماء ہند سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں مسلم لیگ کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو جمعیۃ علماء اسلام کا پہلا سربراہ منتخب کیا گیا جبکہ ان کے ساتھ مولانا راغب احسنؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا غلام مرشدؒ ، مولانا محمد شفیعؒ اور مولانا اطہر علیؒ آف ڈھاکہ جیسے سرکردہ علمائے کرام اس میں شامل تھے۔ حتیٰ کہ جب صوبہ سرحد اور سلہٹ کے علاقہ کو پاکستان میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر ریفرنڈم کا فیصلہ کیا گیا تو سرحد میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور پیر صاحبؒ آف مانکی شریف، جبکہ سلہٹ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے عوامی رابطہ کی منظم مہم چلا کر علماء اور عوام کو پاکستان کی حمایت کے لیے آمادہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں جگہ مسلم لیگ نے ریفرنڈم جیت لیا۔ اور انہی خدمات کے اعتراف کے طور پر قائد اعظم مرحوم نے کراچی میں قیام پاکستان کے موقع پر پہلا پرچم لہرانے کے لیے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کا انتخاب کیا۔

قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر جمعیۃ علماء اسلام کے امیر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اسلامی دستور کی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں وہ قرارداد مقاصد منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اورا س طرح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اقرار اور قرآن و سنت کی دستوری و قانونی عملداری کے اس عہد کے ساتھ پاکستان دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست کی حیثیت اختیار کر گیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام ایک فعال جماعت کے طور پر متحرک نہ رہی۔ البتہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ ، حضرت مولانا مفتی محمود حسن امرتسریؒ ، حضرت مولانا اطہر علیؒ ، حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ ، حضرت مولانا متین خطیبؒ ، اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ جیسے اکابر علماء نے وقتاً فوقتاً اس پلیٹ فارم سے دستور اسلامی کے نفاذ اور دیگر دینی مقاصد کے لیے سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

۱۹۵۶ء میں ملک کے پہلے دستور کے نفاذ کے بعد اس بات کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ جمعیۃ علماء اسلام کو ازسرنو منظم و فعال بنایا جائے اور عوامی سطح پر اس کی تنظیم نو کی جائے۔ چنانچہ ۱۹۵۷ء میں ملتان میں مغربی پاکستان کی سطح پر علماء کرام کا ایک قومی کنونشن طلب کر کے ’’جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان‘‘ کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو امیر منتخب کیا گیا جن کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ نائب امیر چنے گئے، جبکہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اس نئی ٹیم نے ملک بھر میں ازسرنو رابطے اور دورے کر کے ہر سطح پر جمعیۃ علماء اسلام کے حلقے اور شاخیں قائم کر دیں اور علماء کرام کو ملک کے ہر خطہ میں عملی سیاست میں سرگرم حصہ لینے کے لیے تیار کیا۔

۱۹۵۸ء کے مارشل لاء کے بعد صدر محمد ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں پہلے عام انتخابات کرائے تو حضرت مولانا مفتی محمودؒ ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے مانسہرہ سے مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت کا الیکشن جیتا۔ اس طرح ان دو ایوانوں میں جمعیۃ علماء اسلام کی موثر نمائندگی کے باعث عوامی حلقوں میں جمعیۃ علماء اسلام مسلسل اپنے اثر و رسوخ اور تعارف میں اضافہ کرتی گئی۔ قومی اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کے دور میں مولانا مفتی محمودؒ کا مشرقی پاکستان کے علماء سے رابطہ قائم ہوا، اس کے بعد مشرقی پاکستان میں بھی جمعیۃ علماء اسلام قائم ہوگئی جس کا امیر پیر صاحب مرحوم کو چنا گیا۔ جبکہ دونوں صوبوں کو ملا کر مرکزی سطح پر جمعیۃ علماء اسلام قائم کی گئی جس کے امیر حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا مفتی محمودؒ چنے گئے۔ مغربی پاکستان میں جمعیۃ کا امیر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو منتخب کیا گیا۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام نے بھرپور حصہ لیا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں ۷، سرحد اسمبلی میں ۶، بلوچستان میں ۳ نشستیں جمعیۃ کے پاس تھیں۔ سرحد میں جمعیۃ نے نیشنل عوامی پارٹی کے تعاون سے صوبائی وزارت قائم کی جس کے سربراہ مولانا مفتی محمودؒ تھے جنہوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دس ماہ تک حکومت کی۔ بلوچستان میں بھی جمعیۃ سردار عطاء اللہ مینگل کی وزارت میں شریک تھی۔ جبکہ قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا جس کا سربراہ خان عبد الولی خان مرحوم کو منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بھٹو حکومت کے دور میں خان عبد الولی خان کی گرفتاری اور ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دینے پر مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور انہیں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کا قائد چن لیا گیا۔

اس مرحلہ پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اختلافات کی بناء پر جمعیۃ کا الگ دھڑا قائم کر لیا جو ان کی وفات تک موجود و متحرک رہا۔ جبکہ قومی اسمبلی میں جمعیۃ کے دونوں دھڑوں کے ارکان نے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دوسری جماعتوں کے علماء کے ہمراہ سرگرم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں دستور میں اسلامی دفعات شامل ہوئیں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

۱۹۷۷ء میں بھٹو حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نام سے ایک متحدہ محاذ قائم کیا تو اس کا سربراہ مولانا مفتی محمودؒ کو منتخب کیا گیا جنہوں نے انتخابی مہم اور اس کے بعد احتجاجی تحریک کی قیادت کی اور ملکی و عالمی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ احتجاجی تحریک بعد میں ’’تحریک نظام مصطفیٰ‘‘ کا عنوان اختیار کر گئی تھی۔

تحریک نظام مصطفیٰ کے نتیجے میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے مارشل لاء نافذ کر کے اسلام کا نظام ملک میں رائج کرنے کا اعلان کیا تو مولانا مفتی محمودؒ نے تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور ملک بھر میں نفاذ اسلام کے اقدامات کی حمایت میں دورے کر کے جنرل ضیاء الحق مرحوم کو بتایا کہ عوام اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی محمودؒ نے ضیاء الحق کابینہ میں شمولیت بھی اختیار کر لی اور جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے میر صادق کھوسہ، حاجی محمد زمان خان اچکزئی اور حاجی فقیر احمد خان جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہوئے۔ لیکن جب اتنی بھرپور حمایت و تعاون کے باوجود مولانا مفتی محمودؒ جنرل ضیاء الحق کو ملک میں عملاً نفاذ اسلام کے لیے تیار نہ کر سکے اور بات زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھی تو مفتی صاحبؒ نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے خلاف عوامی جدوجہد منظم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر ابھی وہ اس کی ابتدائی تیاریوں میں تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ حج کے لیے جاتے ہوئے کراچی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔