کیا جنرل مشرف اس پیغام کو سمجھنے کی زحمت کریں گے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۲۰۰۳ء

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ اور سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد نیٹو کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا تو نیٹو کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل نے ایک مختصر سے جملے میں یہ کہہ کر نیٹو کو باقی رکھنے کا جواز پیش کیا تھا کہ ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘۔

’’نیٹو‘‘ اس فوجی معاہدہ کا نام ہے جو سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے باہمی مشترکہ دفاع کے لیے طے کر رکھا تھا، جبکہ اس کے جواب میں سوویت یونین نے ’’وارسا پیکٹ‘‘ کے نام سے ہم خیال ملکوں کے ساتھ باہمی فوجی تعاون کا معاہدہ کیا ہوا تھا۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشمکش کے خاتمہ اور دونوں کے ایک میز پر بیٹھ جانے بلکہ سوویت یونین کے میدان سے ہٹ جانے کے بعد ان دونوں معاہدوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا۔ چنانچہ وارسا پیکٹ تو سوویت یونین کے ساتھ ہی تحلیل ہوگیا مگر نیٹو کے ارباب حل و عقد نے اسے باقی رکھنے کی ضرورت سمجھی اور وہ بدستور قائم ہے اور اس کا ایجنڈا وہی ہے جو نیٹو کے ایک سیکرٹری جنرل کے حوالہ سے سطور بالا میں عرض کیا جا چکا ہے۔ البتہ اتنا فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے کہ امریکہ اپنے حریف اسلام اور اس کے نام لیواؤں کو قوت کے بل پر دبانا چاہتا ہے جبکہ برطانیہ کے سوا یورپی یونین کے دیگر ارکان مسلمانوں کو مارنے کے بجائے انہیں اعتماد میں لے کر محبت پیار کی فضا میں اسلام سے دور ہٹانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے سرد جنگ کے دور میں سوویت یونین نے اپنے مقبوضہ مسلم علاقوں میں جبر و تشدد کے ذریعے اسلامی شعائر و روایات کو مٹانے کا طرز عمل اختیار کر رکھا تھا جبکہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اپنے زیر اثر مسلم ممالک میں انسانی حقوق، آزادی اور معاشی ترقی کا سنہری جال پھیلا کر اسلامی اقدار و روایات کو کمزور سے کمزور تر کر دینے کے لیے سرگرم عمل تھے۔ اسے ایک چھوٹی سی مثال سے زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ ترکی سے سنکیانگ تک ترکی النسل مسلمانوں کے ایک مسلسل علاقے اور پٹی کا جو حصہ سوویت یونین کے قبضہ میں آیا، اس نے وہاں جبر و تشدد کے ذریعے مساجد و مدارس کو ویران کیا، مگر جس خطہ نے امریکہ کے زیر اثر رہنا قبول کیا وہاں قانون اور جمہوریت کے نام پر مکاتب و مدارس کو بند کیا گیا جیسا کہ ترکی کی نصف صدی کی تاریخ شاہد ہے۔

مقصد دونوں طرف ایک تھا صرف طریق کار کا فرق تھا۔ اب بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ تقسیم کار پر انڈر اسٹینڈنگ ہو گئی ہے کہ اگر جبر و تشدد اور عسکریت کے ذریعے مسلمانوں کو دبانے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے پائے تو مفادات، نام نہاد جمہوریت اور آزادی کے لیبل کے ساتھ مسلمانوں کو قابو رکھا جائے اور عالم اسلام میں اسلامی رجحانات کو آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ یہ صرف طریق کار کا فرق ہے ورنہ ایجنڈا سب کا ایک ہے کہ:

  • عالم اسلام میں اسلام کے بطور نظام نفاذ کی کوئی صورت کامیاب نہ ہونے دی جائے۔
  • آزادیٔ نسواں، مساوات، انسانی حقوق اور لبرل ازم کے نام پر مسلمانوں کے کلچر اور خاندانی نظام کو سبوتاژ کر دیا جائے۔
  • اسلامی اقدار و روایات کو کمزور کر کے مسلمانوں کو عالمی تہذیب کے خوشنما لیبل کے ساتھ مغربی ثقافت کا خوگر بنایا جائے۔
  • مسلم ممالک کو معاشی خودمختاری، سیاسی حاکمیت اور سائنسی و عسکری ٹیکنالوجی سے بہرحال دور رکھا جائے۔
  • مسلم ممالک و اقوام کا کوئی ایسا اتحاد قائم نہ ہونے دیا جائے جو ان کی تہذیبی و سیاسی اجتماعیت کا عنوان بن سکے۔

سرد جنگ میں سوویت یونین اور امریکہ کی کشمکش کے دوران ایک تیسرا بلاک بھی وجود میں آیا تھا جسے تیسری دنیا یا غیر وابستہ تحریک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز مارشل ٹیٹو، پنڈت نہرو، ڈاکٹر سوئیکارنو اور جمال عبد الناصر کی کوششوں سے ہوا اور اس میں دنیا کے اکثر ممالک خود کو غیر وابستہ قرار دیتے ہوئے شامل ہوگئے۔ ان میں وہ چند ممالک بھی تھے جو فی الواقع غیر جانبدار اور غیر وابستہ تھے لیکن اکثریت ایسے ممالک کی تھی جو کسی نہ کسی بلاک سے بالواسطہ وابستہ تھے لیکن غیر وابستہ بلاک میں شمولیت کے مفاد سے بھی محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔ یہ بلاک اگرچہ معاشی اور فوجی اعتبار سے بڑی طاقتوں کے ہم پلہ نہ تھا لیکن ایک عالمی سیاسی فورم کے طور پر اس کا وجود اور سرگرمیاں بہرحال وزن رکھتی تھیں اور اس نے سرد جنگ کے دوران اپنا کردار مسلسل ادا کیا۔ اصولی طور پر سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد غیر وابستہ تحریک کی بقا کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا لیکن جس طرح نیٹو نے اپنے وجود کے لیے جواز تلاش کر لیا ہے اسی طرح غیر وابستہ تحریک کو بھی دوبارہ عالمی سیاست میں متحرک ہونے کا جواز امریکہ کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے مل گیا ہے جو وہ عراق کے بارے میں مسلسل اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ اس نے عالمی رائے عامہ کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے بلکہ وہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے بارے میں بھی مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل نے اجازت نہ دی تب بھی وہ عراق پر حملہ کر کے رہے گا اور اسے اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی کوئی پروا نہیں ہے۔

امریکہ کی یہ فرعونیت اور ہٹ دھرمی مسلم ممالک کی سربراہ کانفرنس کی تنظیم میں تو غیرت کی کوئی چنگاری نہیں بھڑکا سکی البتہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے غیر وابستہ تحریک میدان عمل میں کود پڑی ہے اور اس کے لیے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی جرأت و ہمت قابل داد ہے۔ عالم اسلام کے موجودہ حکمرانوں میں مہاتیر محمد واحد لیڈر ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی شدید دھاندلی پر جرأت کے ساتھ احتجاج کرتے ہیں اور عملاً کچھ کر سکیں یا نہیں مگر دو ٹوک موقف اور کلمہ حق کہنے کی حد تک اپنی بات کسی نہ کسی حوالہ سے کہہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کے سربراہوں کا اجلاس منعقد کیا ہے اور اس عالمی فورم سے امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عراق پر حملہ نہ کرے۔ غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس کے بعد کوالالمپور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس بھی مہاتیر محمد کی تحریک سے منعقد ہوگیا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اس کے فیصلے اور قراردادیں منظر عام پر آچکے ہوں گے۔ ہم ان دونوں کانفرنسوں کے فیصلوں اور اعلانات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بعد میں کچھ عرض کریں گے، آج کی محفل میں صرف دو حوالوں سے گزارش کرنا چاہتے ہیں:

  1. ایک بات یہ کہ مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ سپر پاور سے مجھ سمیت سبھی خوفزدہ ہیں مگر ضمیر بھی کوئی چیز ہوتا ہے، وہ چاہتے تو میری گردن اڑا دیتے لیکن تیسری دنیا کے حقوق کی آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ۷۸ سالہ مہاتیر محمد نے جو گزشتہ ربع صدی سے ملائیشیا کے حکمران چلے آرہے ہیں، یہ کہہ کر دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کو پیغام دیا ہے اور انہیں دعوت دی ہے کہ وہ صرف جان، اقتدار اور مفادات کے حوالہ سے ہی پالیسیاں طے نہ کریں بلکہ ضمیر کی آواز بھی سنیں اور انصاف کے تقاضوں کے لیے خطرات کی پروا کیے بغیر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ہمارا خیال ہے کہ دنیا کے مسلم حکمران اگر اس پیغام پر توجہ دے سکیں تو آج بھی عالم اسلام کو مشکلات و مسائل کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔
  2. دوسری بات یہ کہ غیر جانبدار سربراہ کانفرنس کے دوران کانفرنس کے چیئرمین کی حیثیت وزیراعظم مہاتیر محمد نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنی جگہ صدارت کی کرسی پر بٹھا دیا اور مہاتیر محمد کے اصرار پر جنرل پرویز مشرف نے ایک گھنٹے تک کانفرنس کے صدر کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔ ہم صدر پاکستان کو یہ اعزاز دینے پر مہاتیر محمد کے شکر گزار ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مشرقی ایشیا کے اس بزرگ اور تجربہ کار سیاستدان اور دانشور کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں جس نے اپنے عمل سے یہ بتایا ہے کہ دنیائے اسلام اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ کو واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں جارج ڈبلیو بش کے پہلو میں نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ اور عالمی ضمیر کی نمائندگی کرنے والے سیاسی فورم کی قیادت کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتی ہے۔ مگر کیا جنرل پرویز مشرف دنیا بھر کے مضطرب لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے اس پیغام کو سمجھنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟
درجہ بندی: