امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۱ء

۲۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں ایک عمومی نشست سے کا خطاب۔

بعد الحمد والصلوٰۃ- محترم بزرگو اور دوستو! اس وقت پوری دنیا میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حادثات اور ان میں ہزاروں جانوں کے ضائع ہو جانے کے بعد اس پر امریکہ کے ردِ عمل اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور میں بھی اسی حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون سے اغوا شدہ طیاروں کے ٹکرانے سے جو عظیم جانی و مالی نقصان ہوا، اس سے سب لوگوں کو دکھ ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس کی ذمہ داری عرب مجاہد اسامہ بن لادن پر ڈال کر اس کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اس سے صورتحال میں اور کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت سے امریکہ کا مطالبہ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے مگر طالبان حکومت کا موقف یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے، اس کے مطالبہ پر غور کیا جائے گا۔ محض شک یا الزام پر وہ ایک مجاہد کو، جو ان کا مہمان ہے، امریکہ کے سپرد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افغان علماء کی مجلس شوریٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے طور پر افغانستان چھوڑ دیں مگر انہیں امریکہ یا کسی اور ملک کے سپرد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ طالبان حکومت کا یہ موقف بہت پرانا ہے اور اس سے پہلے بھی امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کی طرف سے کہا جا چکا ہے کہ اسامہ بن لادن رضاکارانہ طور پر افغانستان سے چلے جائیں تو ان کی مرضی ہے مگر انہیں بطور ملزم کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ افغان علماء کی مجلسِ شوریٰ نے یہی بات اب ذرا مختلف انداز میں کہی ہے اور اسی سے وقتی طور پر کشیدگی میں کسی حد تک کمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں مگر امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے آج امریکی ایوان نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ مسئلہ صرف اسامہ کا نہیں بلکہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا چاہتے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردوں کے تمام مراکز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

امریکہ کے نزدیک عالمِ اسلام کی جہادی تحریکات دہشت گرد ہیں اور جب وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد یہی جہادی تحریکات ہوتی ہیں جو مراکش سے انڈونیشیا تک اور چیچنیا سے صومالیہ تک پھیلی ہوئی ہیں اور کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور مورو سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو غاصب اور مسلط قوتوں سے نجات دلانے کے لیے عسکری جدوجہد کر رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کا کہنا ہے کہ ان سب دہشت گردوں نے افغانستان میں ٹریننگ حاصل کی ہے، اس لیے افغانستان کو تباہ کرنا امریکہ کے لیے ضروری ہو گیا ہے اور اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھرپور جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ہم پہلے ہی عرض کیا کرتے تھے کہ اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔

مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے اور مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار امریکہ کو افغانستان پر حملہ کے لیے زمینی اور فضائی سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں اور اسے اسلام اور پاکستان کے مفاد کا تقاضا بتا رہے ہیں۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف صاحب نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جس طرح افغانستان پر حملہ کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی کا دفاع کیا ہے، وہ انتہائی حیران کن ہے اور میں اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہ رہا ہوں۔

صدر محترم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا حوالہ دیا کہ آنحضرتؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کر کے کفار مکہ کے خلاف احد اور خندق کی جنگیں لڑی تھیں جبکہ اس کے بعد حدیبیہ میں کفارِ مکہ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر کے خیبر میں یہودیوں سے جنگ جیتی تھی اس لیے یہ عین حکمت اور دانش کا تقاضا ہے اور سنتِ نبوی کی پیروی ہے۔ لیکن جنرل صاحب کا یہ استدلال درست نہیں ہے اس لیے کہ نبی اکرمؐ کے سامنے دونوں قومیں کافر تھیں اور دونوں دشمن تھے۔ ان سے بیک وقت لڑنے کے بجائے حضورؐ نے ایک وقت میں ایک دشمن سے صلح کرنے اور دوسرے دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کی حکمتِ عملی اختیار فرمائی جو فی الواقع دانش مندی کی بات تھی لیکن یہاں ایک طرف امریکہ ہے جس کی مہربانیاں نصف صدی سے ہم بھگت رہے ہیں اور دوسری طرف طالبان کی اسلامی حکومت ہے جس کی باقی تمام باتوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بھی یہ حقیقت ہے کہ کابل میں طالبان حکومت کا وجود ہی پاکستان کی شمال مغربی سرحد کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس لیے اس صورتحال پر جناب نبی اکرمؐ کی مذکورہ حکمت عملی کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا اور اسے غلط فہمی یا دھوکہ کے عنوان سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں اسلام کی تعلیم کا تاریخ کے اس عظیم واقعہ سے پتہ چلتا ہے جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں اور دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کے درپے تھے۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مسیحی سلطنت روم کے بادشاہ قیصر نے حضرت معاویہؓ کو پیش کش کی تھی کہ حضرت علیؓ کے خلاف جنگ میں وہ ان کی مدد کر سکتا ہے مگر حضرت معاویہؓ نے اسے انتہائی سختی کے ساتھ رد کر دیا اور وہ جواب دیا جو اسلامی تاریخ کا روشن باب اور قیامت تک آنے والے مسلم حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے قیصر روم کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ:

’’میری حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ دو بھائیوں کی لڑائی ہے جس سے تمہیں فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا اور اگر تم نے حضرت علیؓ کے خلاف فوج کشی کی تو تمہارے مقابلے میں حضرت علیؓ کے پرچم تلے سامنے آنے والا سب سے پہلا سپاہی معاویہؓ ہوگا‘‘

یہ اس کیفیت کی بات ہے جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں تھے جبکہ ہماری طالبان کے ساتھ کوئی جنگ بھی نہیں ہے اس لیے ہمارے لیے اسلام کی تعلیم یہی ہے جو حضرت معاویہؓ نے قیصرِ روم کے نام اپنے خط میں بیان فرمائی ہے۔

جنرل صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہم نے امریکہ کو حملے کی سہولتیں فراہم نہ کیں تو بھارت ایسا کر دے گا اور پھر امریکہ بھارت کے ساتھ ہو جائے گا جس سے ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔ میرے نزدیک یہ انتہائی بھولپن ہے اور یہ بات وہی شخص کر سکتا ہے جو امریکہ کو جانتا نہیں ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ توقع رکھنا خود فریبی ہے جس کا شکار ہم سے پہلے ہمارے عرب بھائی ہو چکے ہیں۔ ہمارے برادر عرب ملکوں نے اسی توقع اور امید پر امریکہ دوستی کا پرچم اٹھایا تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں امریکہ ان کا لحاظ کرے گا اور ان کے امریکہ کا ساتھی بننے سے اسرائیل اور عربوں کے حوالے سے امریکہ کی پالیسیوں میں توازن قائم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور ساری دنیا یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنی فوجیں سعودی عرب اور کویت میں بٹھا رکھی ہیں اور پشت پناہی اسرائیل کی کر رہا ہے۔ وسائل عربوں کے استعمال کر رہا ہے اور تحفظ اسرائیل کو فراہم کر رہا ہے اس لیے ہمارے مہربانوں کو یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ امریکہ پاکستان میں بیٹھ جائے گا تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت بھی کرے گا اور پاکستان میں اس کی موجودگی سے پاکستان کے کشمیر کاز کو کوئی فائدہ بھی پہنچے گا۔ پھر یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب امریکہ کے بقول وہ جہادی تحریکات کا خاتمہ کر دے گا، پاکستان کو افغانستان سے لڑا دے گا اور چین کے سر پر فوجیں بٹھا کر پاک چین تعلقات میں رخنہ پیدا کر دے گا تو پھر کون سا کشمیر کاز باقی رہ جائے گا جسے بچانے کی ہمارے حکمران فکر کر رہے ہیں؟ ’’کشمیر کاز‘‘ اگر ہے تو وہ مجاہدین کی قربانیوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہزاروں شہداء کا خون دے کر اسے زندہ رکھا ہوا ہے ۔جب یہ مجاہدین اور ان کے گروپ ہی دہشت گرد قرار پا کر پاکستان کے ہاتھوں امریکی انتقام کا نشانہ بن جائیں گے تو ’’کشمیر کاز‘‘ کا وجود ہی کہاں باقی رہ جائے گا؟

صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ہم امریکہ کو افغانستان کے خلاف سہولتیں فراہم کر کے اپنی ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام کا تحفظ کر سکیں گے مگر یہ بات بھی خود فریبی ہے اس لیے کہ ہماری عسکری صلاحیت میں اضافے اور ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اب تک جو کچھ کہتا آ رہا ہے، اس کے پیش نظر ہم اس قدر فاصلے سے اپنی ایٹمی تنصیبات کو امریکی مداخلت سے محفوظ تصور نہیں کر رہے تو جب وہ گوادر، کوئٹہ اور پشاور میں آ بیٹھے گا تو پھر ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کی گارنٹی کون دے سکتا ہے؟ اس لیے ہم دیانت داری کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ہماری ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام کا تحفظ امریکہ کے ساتھ فاصلہ قائم رکھنے میں ہے، اسے اپنی داخلی حدود میں براجمان ہونے کا موقع دینے میں نہیں۔

جنرل پرویز مشرف صاحب نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ امریکہ کو سہولتیں دینے کی پالیسی سے ہمیں معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملے گی اور ہمارے معاشی حالات سدھر جائیں گے۔ میں اس کے جواب میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات ان عرب ممالک سے دریافت کر لیجئے جن کے کندھے پر دس سال سے امریکہ سوار ہے اور اس نے وہاں اپنی فوجیں بٹھا رکھی ہیں کہ امریکہ بہادر کی تشریف آوری اور اس کی فوجوں کی آمد سے ان کی معیشت کو کتنا سہارا ملا ہے؟ ان میں سے سعودی عرب کی حالت آج یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کو اپنا بجٹ کا خسارا پورا کرنے کے لیے عمرہ جیسی عبادت کو بزنس کے حساب سے ڈیل کرنا پڑ رہا ہے اور قرضے لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے اس لیے ہمارے نزدیک یہ بات بھی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے خلاف فوجی سہولتیں دینے سے پاکستان کی معیشت سدھرنے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

حضراتِ محترم ! میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے اصل مقصد کو پہچانیں اور اس کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک امریکہ کے موجودہ عالمی کردار اور بھاگ دوڑ کے بنیادی مقاصد تین ہیں:

  1. ایک یہ کہ دنیا بھر کی جہادی تحریکات کو دہشت گردی کا نام دے کر سختی کے ساتھ کچل دیا جائے اور افغانستان کو اس تمام تر دہشت گردی کا سرچشمہ قرار دے کر طالبان حکومت کو ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ اپنی مرضی کی حکومت بٹھائی جائے۔
  2. دوسرا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں فکری ہم آہنگی اور نظریاتی یگانگت کے فروغ کو وسطی ایشیا تک پھیلنے سے روکا جائے۔ ان اثرات کے وسیع ہونے کے امکانات کو سامنے رکھ کر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ خطہ اگر دوبارہ اکٹھا ہو گیا تو بہت بڑی قوت بنے گا اور اسے بھارتی حلقوں میں ’’مغل امپائر‘‘ کے زندہ ہونے سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے روکنے پر امریکہ اور بھارت دونوں متفق ہیں جس کی واحد صورت پاکستان اور افغانستان کی دوستی کو توڑنا ہے اور امریکہ اسے توڑنے کے لیے پاکستان کو افغانستان کے خلاف حملوں میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
  3. امریکہ کا تیسرا مقصد چین کے خلاف حصار قائم کرنا اور پاکستان میں بیٹھ کر پاک چین دوستی میں رخنے ڈالنا ہے تاکہ چین اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے قابل نہ رہیں اور امریکہ ان کے حوالے سے آسانی کے ساتھ من مانی کر سکے۔

ان حالات میں آپ خود سوچ لیں کہ جب خدانخواستہ پاکستان کے تعلقات چین اور افغانستان دونوں کے ساتھ خراب ہو جائیں گے اور مجاہدین کے گروپوں کو بھی دہشت گرد قرار دے کر خود پاکستان کے ہاتھوں گراؤنڈ کر دیا جائے گا تو خطے میں خود پاکستان کی حیثیت کیا رہ جائے گی اور کیا کل کوئی صاحب یہ کہنے کے لیے کھڑے نہیں ہو جائیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ہمیں بہت ہمدردی ہے اور ہمیں ان کی فکر بہت زیادہ ہے لیکن خود پاکستان کی سالمیت ہمارے لیے سب سے مقدس ہے اس لیے کشمیریوں کو بھول جائیے اور پاکستان کے وجود کا تحفظ کیجئے۔

محترم بزرگو اور دوستو! میں نے حالات کا نقشہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے اور میری آپ سے گزارش ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں۔ یہ اسلام کے مفاد کی بات ہے، پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے اور طالبان کی اسلامی حکومت کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کی دینی جماعتوں نے اس سلسلے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ بالکل درست اور ملک و ملت کے مفاد کا تقاضا ہے اس لیے سب دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس موقف کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور دینی قوتوں کو مضبوط کریں کیونکہ اس وقت دین، ملک اور قوم کے تحفظ کا یہی ناگزیر تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔