حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اکتوبر ۲۰۱۶ء

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ ایک نشست سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعدالحمد والصلٰوۃ۔ آج جس شخصیت کے حوالے سےگفتگو کرنے لگا ہوں وہ صرف ہمارے پاکستان نہیں بلکہ برصغیر کی بڑی علمی اور تحریکی شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت مولانا محمدعلیؒ جالندھر کے رہنے والے تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان پہلے جالندھر میں تھا۔ مولانا خیرمحمد جالندھریؒ حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے، انہوں نے جالندھرمیں جامعہ خیر المدارس بنایا تھا۔ مولانا محمدعلی جالندھریؒ ان کے خلفاء میں سے تھے اور خیرالمدارس میں پڑھاتے رہے۔پاکستان بننے کے بعد جامعہ خیر المدارس ملتان میں منتقل ہوا تو یہاں بھی مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جامعہ سے تعلیمی اور مشاورتی تعلق رہا۔ آپؒ تعلیمی طور پر جامعہ خیر المدارس کے اور سیاسی طور پر مجلس احراراسلام کے آدمی تھے۔ مجلس احراراسلام ۱۹۲۹ء میں بنی تھی اوراس کے بڑے رہنماؤں میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ،مولاناسیدعطاءاللہ شاہ بخاریؒ ،مولانا محمدعلی جالندھریؒ، شیخ حسام الدین مرحوم، چوہدری افضل حق مرحوم اور بڑے اکابر علماء تھے۔انہوں نے برصغیر میں اور خاص طور پر پنجاب میں تحریک آزادی کو بیدار اور منظم کرنے میں بڑا بنیادی کردار ادا کیا۔ مولانامحمدعلی جالندھریؒ مجلس احراراسلام میں تھے پاکستان بننے سے پہلے بھی اور بعدمیں بھی۔ امیرشریعت سیدعطاءاللہ شاہ بخاریؒ کےدست راست شمار ہوتے تھے، تحریک آزادی میں بھی اور تحریک ختم نبوت میں بھی۔

مجلس احرار کے دو بڑے مورچے تھے۔ ایک مورچہ آزادی کی جنگ کا تھا جس میں امیرشریعتؒ اور ان کے رفقاء نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ پنجاب کو انگریز کے خلاف بیدار کیا، ان آزادی کے متوالوں نے قربانیاں دیں اور جیلیں کاٹیں۔ شاہ جیؒ نے سات سال جیل کاٹی اور ان کے رفقاء میں سے بھی کسی نے پانچ، کسی نے سات اور کسی نے دس سال جیل کاٹی۔ اور انگریزوں کی جیلوں میں جلوس نکالے، ہنگامے برپا کیے۔ احرار کا طرزِ خطابت ایک مستقل طرزِ خطابت ہے جس میں تین بڑے خطیب اس زمانے میں شمار ہوتے تھے ۔ امیرشریعت سیدعطاءاللہ شاہ بخاریؒ،مولاناگل شیرشہید میانوالویؒ اورمولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ۔ان کے علاوہ ماسٹرتاج الدین مرحوم، شیخ حسام الدین مرحوم اور آغاشورش کاشمیری مرحوم اپنی اپنی طرز کے بڑے خطیب تھے۔یہ ان کا مورچہ تھا جس پر انہوں نے انگریز کے خلاف وطن کی آزادی کےلیے بڑی جنگ لڑی۔

اور دوسرا بڑا مورچہ تھا لوگوں کو قادیانیت کے خلاف تیار کرنا، پاکستان بننے سے پہلے بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھیوں میں سے تھے، دونوں محاذوں پر تحریک آزادی میں بھی اور تحریک ختم نبوت میں بھی۔بڑے زیرک،معاملہ فہم اور ٹھنڈے دل و دماغ کے آدمی تھے۔ مجلس احرار میں باقی سارے گرم بندے تھے،دو بندے بہت ٹھنڈے تھے اور سب سے زیادہ مؤثر تھے۔دھیمی دھیمی ،ٹھنڈی ٹھنڈی بات کرنا اور ایسی بات کرنا کہ کمال ہوجائے۔ٹھنڈے بندوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ ہمارے استاد مکرم فاتح قادیان حضرت مولانامحمد حیاتؒ دھیمے اور ٹھنڈے مناظر تھے۔اور ماسٹرتاج الدین انصاری بھی بڑےٹھنڈے اور دھیمے بندے تھے اور ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ آدمی اگر ریت کی دیوار کھڑی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ مدبر،مسلسل متحرک، معاملہ فہم اور ذہین آدمی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ۱۹۵۳ء تحریک ختم نبوت میں جن لوگوں نے عملاً کردار ادا کیا، ان میں صف اول میں مولانا جالندھریؒ ہیں جنہوں نے ایک ایک آدمی کے گھر جا کر، ایک ایک عالم کا دروازہ کھٹکا کر ، تمام مکاتب فکر کو ختم نبوت کے محاذ پرجمع کیا ۔

ایک بات درمیان میں یہ عرض کردوں کہ مجلس احرار اسلام نےتحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی کہ پاکستان نہیں بننا چاہیے اور سارا ملک اکٹھے رہنا چاہیے۔ تحریک پاکستان میں شکست ہوگئی، مسلم لیگ کوکامیابی مل گئی۔پاکستان بن جانے کے بعد اس سلسلے میں مجلس احرار اسلام نے دو کام کیے:

  1. امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے لاہور میں ایک بہت بڑے جلسے میں اعلان عام کیا کہ چونکہ ہماری رائے قوم نے قبول نہیں کی لہٰذا ہم شکست قبول کرتے ہیں۔ اب پاکستان ہمارا وطن ہے، ہم اس کا دفاع کریں گے اور اس کی حفاظت کریں گے، لیکن اب ہم سیاست میں کام نہیں کریں گے بلکہ دینی محاذ پرکام کریں گے۔یعنی انہوں نے مجلس احرار کے انتخابی اور سیاسی کردار کو ختم کرنے کااعلان کردیا۔
  2. اور دوسرا یہ کہا کہ اب ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد قادیانیت کا تعاقب ہوگا۔اس کے لیے الگ جماعت ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے نام سے قائم ہوئی جس کے امیر مولانا سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور اس کے ناظم اعلیٰ مولانا محمدعلی جالندھریؒ تھے۔ پھر اس اللہ کے بندے نے قریہ قریہ ،بستی بستی گھوم کر جماعت منظم کی۔ہر بڑے شہر میں مراکز اور دفاتر قائم ہوئے اور مبلغین کا سلسلہ شروع ہوا۔

یہ سب مولانا جالندھریؒ کی محنت ہے کہ انہوں نے ایک زمانے میں مشرقی پاکستان میں بھی مجلس قائم کی، ان کے ساتھ مولانا احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیات، مولانا عبد الرحیم اشعرؒ، یہ سب حضرات تھے۔ لیکن ان کو منظم کرنے کے لیے محنت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کی۔ آپؒ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے بانی بھی تھے اور سب سے زیادہ منظم و متحرک بھی۔مجھے بھی مولانا جالندھریؒ سے نیاز مندی حاصل رہی ہے۔ میں نے جماعتی،تحریکی اور فکری زندگی میں جن لوگوں سے سب سے زیادہ سیکھا ہے ان میں مولانا جالندھریؒ سرِ فہرست ہیں۔ کام شروع کیسےکرنا ہے، کس طریقے سے محنت کرنی ہے اور کام سمیٹنا کیسے ہے، ان معاملات میں سب سے زیادہ استفادہ انہیں سے کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا جالندھریؒ کو ایسا مزاج دیا تھا کہ ان کا کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا تھا۔ پیدل چل رہے ہوں، تانگے پر بیٹھے ہوں، کار یا بس پر سوار ہوں، جہاز پر سفر کر رہے ہوں، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس اپنے مشن اور پروگرام کی فکر ہوتی تھی کہ اس میں کوئی کمی نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔