اسٹیل ملز کیس پر عدالت کا فیصلہ اور حکومت کا ردعمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ جولائی ۲۰۰۶ء

پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر مختلف حلقوں کی طرف سے متنوع ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر یہ فیصلہ لوگوں کی خوشی کا باعث بنا ہے، اس حوالہ سے بھی کہ ملک کا ایک اہم اثاثہ اخباری رپورٹوں کے مطابق اونے پونے بکنے سے بچ گیا ہے اور اس حوالہ سے بھی کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت وقت کے خلاف ایک اہم فیصلہ دے کر اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت اعلیٰ عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں اکثر کامیابی حاصل کر لیتی ہے۔ یہ تاثر صرف عام حلقوں کا ہی نہیں بلکہ ایک حالیہ انٹرویو میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس سعید الزمان صدیقی نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا کردار اور رویہ ناقابل رشک اور مایوس کن ہے اور اس قسم کی صورتحال نصف صدی قبل مولوی تمیز الدین کیس کے دور سے چلی آرہی ہے۔ کراچی کے ایک انگریزی جریدے ’’ہیرالڈ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بدنصیبی ہے کہ سویلین اور فوجی دونوں نوعیت کے حکمرانوں نے کبھی آزاد عدلیہ کا وجود پسند نہیں کیا۔ اور اگر ۱۹۵۴ء میں گورنر جنرل کی طرف سے دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کے اقدام کو فیڈرل کورٹ آف پاکستان جائز قرار نہ دیتی تو آج ملکی حالات مختلف اور بہت بہتر ہوتے۔

اس پس منظر میں اسٹیل ملز کے بارے میں حکومتی موقف کے خلاف عدالت عظمٰی کے فیصلے پر عام لوگوں کو خوشی ہوئی ہے اور یہ توقع کی جانے لگی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت خود پر حکومتی دباؤ کا تاثر ختم کرنے کی طرف چل پڑی ہے۔ سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے بھی مذکورہ انٹرویو میں اس توقع کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کیس پر عدالت عظمٰی نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے اصلاحِ احوال کی کچھ امیدیں بندھی ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے سابق وزیر قانون اور سابق اٹارنی جنرل جناب شریف الدین پیرزادہ نے ’’ہیرالڈ‘‘ کے مذکورہ شمارے میں دیے گئے انٹرویو میں اس مسئلہ پر اظہار خیال کیا ہے اور اگرچہ وہ اس انٹرویو میں اعلیٰ عدالتوں پر حکومت کے دباؤ کی بات قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ابتدا میں اعلیٰ عدلیہ کا کام ٹھیک چل رہا تھا اور خرابی ۱۹۵۴ء میں اس وقت پیدا ہوئی جب چیف جسٹس پاکستان سر عبد الرشید کی ریٹائرمنٹ پر ان کا جانشین سب سے سینئر جج جسٹس محمد اکرم کو، جن کا تعلق ڈھاکہ سے تھا، نظرانداز کر کے مسٹر جسٹس محمد منیر کو براہ راست اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا المناک ترین مرحلہ تھا، اس نا انصافی کے خلاف آواز بلند نہ ہوئی اور جسٹس منیر نے بعض ایسی حرکات کیں جن سے نہ صرف جمہوریت کو بدترین نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کو بھی دھچکا لگا۔ جناب شریف الدین پیرزادہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس محمد منیر کے بعض فیصلے بشمول مولوی تمیز الدین کیس بعد ازاں بیگم نصرت بھٹو کیس سمیت کئی مقدموں پر اثر انداز ہوئے کیونکہ نصرت بھٹو کیس کے فیصلے نے جنرل ضیاء الحق کی بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کی کاروائی کی تائید کی اور پھر انہی فیصلوں کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کی کارروائی کو بھی تائید حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ شریف الدین پیرزادہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیل ملز کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے اس کی وقعت میں اضافہ ہوا ہے اور الزامات کے تاثر میں کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے بارے میں اس بات پر کم و بیش سب حلقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ ۱۹۵۴ء میں جب گورنر جنرل غلام محمد مرحوم نے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے خلاف مولوی تمیز الدین مرحوم داد رسی کے لیے عدالت عظمیٰ کے پاس گئے تو یہی وہ مرحلہ تھا جب عدالتی کردار کی اینٹ ٹیڑھی ہوئی کیونکہ جسٹس محمد منیر نے فیڈرل کورٹ آف پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے گورنر جنرل غلام محمد کے اس اقدام کو جائز قرار دے دیا اور اس قسم کے اقدامات کے لیے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کی اصطلاح بھی سب سے پہلے انہوں نے استعمال کی۔ اس کے بعد اس ٹیڑھی اینٹ پر جو عمارت کھڑی کی گئی اس کی کجی ساری دنیا کو دکھائی دے رہی ہے اور دستوری حوالہ سے ہماری اعلیٰ ترین عدالت کا کردار فارسی کے مشہور شعر:

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

کا مصداق بن کر رہ گیا ہے جس کا رونا شریف الدین پیرزادہ نے بھی اپنے انٹرویو میں رویا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ قیامت تک جتنے انسان قتل ہوں گے ان سب کا بوجھ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کی گردن پر بھی ہوگا اس لیے کہ سب سے پہلا انسان اس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا اور اس نے عورت کے چکر میں اپنے بھائی کو قتل کر کے دنیا میں انسانی خون بہانے کی اس رسم بد کا آغاز کیا تھا۔ اس لیے پاکستان میں دستور اور جمہوریت کے جتنے قتل اب تک ہوئے ہیں اور جتنے خدانخواستہ آئندہ ہوتے رہیں گے ان کی ذمہ داری اس قتل کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ ساتھ جسٹس محمد منیر کی گردن پر بھی ہوگی کہ وطن عزیز میں انصاف، جمہوریت اور دستور کی بالادستی کا قتل سب سے پہلے انہی کے ہاتھوں ہوا۔ پاکستان کی بنیاد ہمیشہ اسلام اور جمہوریت کو قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ملک کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ اور اس کا دستور اسلام اور جمہوریت کو ہی ملک کی اساس تسلیم کرتا ہے۔ لیکن جس طرح جمہوریت کو ملک کی اعلیٰ عدالت سے وہ شکایت ہے جس کا ذکر جناب شریف الدین پیرزادہ کے انٹرویو میں ہو چکا ہے اسی طرح اسلام بھی شکوہ کناں ہے کہ اس کے بارے میں جب عدالت عظمیٰ ایک فیصلہ کن مرحلہ پر آئی تو اس نے ملک کی نظریاتی اساس اور ملت اسلامیہ کے عقیدہ و ایمان کو ترجیح دینے کی بجائے معروضی حالات کو اپنے فیصلہ کی بنیاد بنایا۔

میں اس کے لیے اس کیس کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے یہ سوال آیا تھا کہ دستور پاکستان میں ’’قرارداد مقاصد کی حیثیت کیا ہے؟ اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ اس میں حکومت کو مقرر کردہ حدود کے اندر نظام حکومت چلانے کا پابند کیا گیا ہے۔ ایک دور میں قرارداد مقاصد ملک کے دستور کا صرف دیباچہ ہوا کرتی تھی اور اسے دستور کا قابل عمل حصہ تصور نہیں کیا جاتا تھا مگر جنرل محمد ضیاء الحق نے سپریم کورٹ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کے تحت اسے دستور کا عملی حصہ بنا دیا تو ایک کیس میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ اگر دستور کی کوئی اور دفعہ قرارداد مقاصد سے متصادم ہو تو کیا قرارداد مقاصد کو ملک کی نظریاتی اساس کی علامت ہونے کی وجہ سے باقی دستور پر بالادستی حاصل ہوگی؟ ہمارے خیال میں جس طرح ۱۹۵۴ء میں دستور ساز اسمبلی کی گورنر جنرل کی طرف سے برطرفی کے جواز یا عدم جو کا سوال ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں جسٹس محمد منیر کے فیصلے نے جمہوریت کی گاڑی کو ہمیشہ کے لیے پہیے سے اتار دیا تھا، اسی طرح دستور پاکستان میں ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی بالادستی کا یہ سوال ملک میں اسلامی نظام کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اگر اس موقع پر عدالت عظمیٰ قرارداد مقاصد کی بالادستی کو تسلیم کر لیتی تو ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے خود عدالت عظمیٰ کے ذریعے راہ ہموار ہو جاتی۔ مگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے قرارداد مقاصد کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس سے ملک کے اجتماعی نظام کے قرآن و سنت کی پٹڑی پر چلنے کا جو امکان پیدا ہوا تھا اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔

تاریخ اور قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے نزدیک ان دونوں فیصلوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک فیصلے نے جمہوریت کو سبوتاژ کیا اور دوسرے نے اسلام کے راستے میں دیوار کھڑی کر دی۔ اس طویل پس منظر کے تذکرہ کا مقصد دراصل اسٹیل ملز کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے پر عوامی حلقوں کی خوشی کی اہمیت اور نوعیت کو واضح کرنا ہے کہ اس پس منظر اور ماحول میں جبکہ سابق چیف جسٹس جناب سعید الزمان صدیقی کے بقول ’’عام آدمی کو عدالت پر کوئی اعتبار نہیں رہا‘‘ عدالت عظمیٰ نے ملک کے اثاثوں کو بچانے کے لیے ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے اور اس میں حکومت کے موقف اور پالیسی کی پرواہ نہیں کی، تو یہ بات بلاشبہ ملک کے عوام کے لیے انتہائی خوشی کا باعث اور مستقبل کے حوالہ سے بہت حوصلہ افزا ہے اور ہم اس پر چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے رفقاء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس تاثر کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح عدالت عظمیٰ نے ملک کے مادی وسائل اور مالی اثاثوں کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا ہے، ملک کے نظریاتی اثاثوں اسلام اور جمہوریت کو بچانے اور انہیں یرغمالیوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے بھی ملک کے عوام کو عدالت عظمیٰ سے یہی توقع ہے۔

البتہ جنرل پرویز مشرف کا ردعمل اس سے مختلف ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۴ جولائی ۲۰۰۶ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر محترم نے اسٹیل ملز کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے دن کو پاکستان کے لیے ’’یوم غم‘‘ قرار دیا ہے اور اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ نجکاری ہماری اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے کیونکہ حکومت کا کام بزنس نہیں، جہاں بھی حکومت گھسی بیڑا غرق کیا، اسٹیل ملز، ریلوے، واپڈا، کے ای ایس سی، رائس ایکسپورٹ کارپوریشن، کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن سب ادارے خسارے میں چلے گئے، بینکوں کو لوگ لوٹ رہے ہیں اور قرضے معاف کرا لیتے تھے، ہم نے جس سے جان چھڑائی اس کی حالت اچھی ہوگئی اور آج بینک بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں، اس لیے نجکاری میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

صدر محترم کے اس ارشاد پر ہمیں کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اس لیے کہ جس طرح جسٹس سعید الزمان صدیقی اور جناب شریف الدین پیرزادہ کے ارشادات سے عدلیہ کے کردار کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے اسی طرح صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ فرمان انتظامیہ کی کارکردگی کا بہترین میزان ہے۔