مولانا سعد صاحب کا فکر انگیز بیان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ نومبر ۲۰۱۳ء

رائے ونڈ کا سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع دونوں مرحلے مکمل کرنے کے بعد 10 نومبر اتوار کو صبح آخری دعا کے بعد اختتام پذیر ہوگا اور اس کے ساتھ ہی تین دن، دس دن، چالیس دن، چار ماہ اور سال کی مختلف مدتوں کے لیے ہزاروں تبلیغی جماعتیں علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے اپنے مشن کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ ان جماعتوں کا سب سے بڑا مشن جو سال بھر دنیا کے مختلف حصوں میں شب و روز مصروف عمل رہتی ہیں، یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عام مسلمانوں کو دین کی طرف واپسی کی دعوت دی جائے اور کلمہ، نماز، دُعا، استغفار، درود شریف، حلال و حرام، باہمی حقوق و معاملات اور دیگر دینی ضروریات کی بنیادی تعلیم دے کر دینی ماحول کی طرف لانے کی محنت کی جائے۔

گزشتہ ہفتہ کے روز میں بھی تھوڑی دیر کے لیے اجتماع میں حاضر ہوا۔ لاہور سے رائے ونڈ پنڈال جانے والی ویگن نے جہاں مسافروں کو اتارا ، وہاں سے سیدھا میں پنڈال میں داخل ہوگیا اور حُسن اتفاق سے یہ وہ حصہ تھا جہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اساتذہ، طلبہ اور نمازیوں نے ڈیرہ لگا رکھا تھا۔ ان سے ملاقات ہوئی، پروگرام کی ترتیب معلوم کی تو پتہ چلا کہ ابھی تھوڑی دیر میں مولانا سعد صاحب کا بیان ہونے والا ہے۔

مولانا سعد صاحب تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ کے پڑپوتے ہیں اور میری چند سال قبل یہیں رائے ونڈ میں ان سے ملاقات ہو چکی ہے۔ بہت ذہین، معاملہ فہم اور متوازن مزاج کے عالم دین ہیں۔ انہیں دیکھ کر یا سن کر خوشی ہوتی ہے کہ حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ کی چوتھی پشت اب اس عالمی محنت کی قیادت کا حصہ ہے۔ ان کا بیان توجہ کے ساتھ سننے کے لیے ایسی جگہ تلاش کی جہاں آواز صاف سنائی دے رہی ہو اور دور سے ہی سہی مگر زیارت کی ایک جھلک بھی نظر آجائے۔

وہاں بیٹھے تو کوئی اور بزرگ بیان کر رہے تھے، ان کی پہلی بات نے ہی ذہن و قلب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، وہ مسلمانوں کی موجودہ صورت حال اور مصائب کا ذکر کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ہم مسلمان جب اپنے اصل کام سے غافل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں لوگوں کے حوالے کر دیا۔ ہمارا اصل کام یہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق زندگی گزارتے اور ساری دنیا کو اس کی دعوت دیتے، مگر ہم نے یہ کام چھوڑ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گائے کا کام ہے دودھ دینا اور جب وہ دودھ دینا چھوڑ دے تو ہم اسے قصاب کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے جب سے اپنا کام چھوڑ رکھا ہے ہمیں بھی قصابوں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور قصاب ہمارے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو وہ جانوروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ یہ بات سن کر میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ بیان کرنے والے بزرگ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ انہیں میاں جی کے نام سے پکارا جاتا ہے، نام ہمیں معلوم نہیں ہے۔ دیگر دوستوں سے پوچھا تو نام انہیں بھی معلوم نہیں تھا۔

تھوڑی دیر میں مولانا سعد صاحب کا بیان شروع ہوا جو دعوت و تبلیغ کے بنیادی تقاضوں اور اس کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے تھا۔ مگر اس بیان میں بعض باتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں محسوس ہوا کہ وہ یہ باتیں عام معمول سے ہٹ کر بطور خاص کہہ رہے ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہندوستان میں تعلیم کے دوران صرف ’’فضائل اعمال‘‘ نہیں پڑھی جاتی بلکہ اس کے ساتھ ’’منتخب احادیث‘‘ بھی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ ’’منتخب احادیث‘‘ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و احادیث کا ایک منتخب مجموعہ ہے جو امیر التبلیغ حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ کا مرتب کردہ ہے۔ یہ مجموعہ ایمان، اعمال صالحہ، عبادات، معاملات، حلال و حرام، اخلاقیات اور باہمی حقوق کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گراں قدر فرمودات پر مشتمل ہے۔ مولانا سعد صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام طور پر ’’منتخب احادیث‘‘ کی بطور نصاب تعلیم نہیں دی جا رہی جبکہ ’’فضائل اعمال‘‘ کے ساتھ اس کی تعلیم بھی ضروری ہے تاکہ دعوت و تبلیغ کے ساتھ جڑ جانے والوں کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنن سے زیادہ سے زیادہ روشناس کرایا جا سکے۔ مولانا سعد نے اپنے بیان میں معاملات اور حلال و حرام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور فرمایا کہ حلال و حرام کا شعور بیدار کرنا اور ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے کی ترغیب دینا بھی دعوت و تبلیغ کے مقاصد میں سے ہے اور ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری امور میں شامل ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ ہماری سب سے زیادہ محنت اس بات پر ہونی چاہیے کہ مسلمانوں کو مسجد کے ماحول میں لایا جائے کیونکہ ایمان و اعمال کی تعلیم و تربیت ایمان کے ماحول میں ہی ہو سکتی ہے اور اس کی جگہ مسجد ہے۔ مسجد سے باہر کیے جانے والے اعمال میں وہ برکت نہیں ہوتی جو مسجد میں ہوتی ہے۔ اس لیے ہم اگر لوگوں کو ایمان کی طرف لانا چاہتے ہیں تو اس کی محنت کی صحیح جگہ مسجد ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق تو اللہ تعالیٰ کے گھر میں آنے سے ہی قائم ہوگا اور یہی دعوت و تبلیغ کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ باہمی حقوق کی ادائیگی کا ماحول پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ حقوق العباد کبھی معاف نہیں ہوں گے جب تک حقوق والے خود معاف نہیں کریں گے۔

مولانا سعد نے سود کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ حرام خوری اور سود کے ساتھ اپنی دعاؤں اور عبادتوں کی قبولیت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ سود خوری تو اللہ تعالیٰ اور رسولِ خدا کے خلاف اعلان جنگ ہے، یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ ہو رہی ہے اور دوسری طرف ان سے دُعائیں بھی مانگی جا رہی ہیں۔ ہمیں اپنی عبادات اور دعاؤں کی قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حالت جنگ سے نکلنا ہوگا اور سود خوری اور حرام کو ترک کرنا ہوگا۔

مولانا سعد نے اپنے مختصر بیان میں بہت سی باتیں فرمائیں اور آخر میں دُعا کی، جبکہ میں اس دُعا میں شرکت کے بعد اتنی حاضری پر اکتفاء کرتے ہوئے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے استاذ مولانا محمد عبد اللہ راتھر کے ساتھ لاہور کی طرف واپس روانہ ہوگیا۔

درجہ بندی: