سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ اپریل ۲۰۱۶ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس کے ساتھ اس آئینی پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ہے جو تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر حافظ عاکف سعید کی طرف سے ان کے وکیل راجہ ارشاد احمد نے دائر کی تھی۔ پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ آئینی طور پر حکومت پابند ہے کہ وہ ملک میں سودی نظام کا جلد از جلد خاتمہ کرے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ چونکہ عدالت عظمیٰ دستور کی محافظ اور اس پر عملدرآمد کی نگران ہے اس لیے حکومت کو سودی نظام کے جلد از جلد خاتمہ کا پابند بنایا جائے۔ اس پٹیشن کے جواب میں جسٹس نثار ثاقب محترم کا ارشاد ہے کہ ہم سودی نظام کے خلاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نظام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن چونکہ عدالت عظمیٰ اس بارے میں کیس وفاقی شرعی عدالت کو بھجوا چکی ہے اس لیے اس کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔

عدالتی پراسیس کے حوالہ سے یہ فیصلہ یقیناً درست ہوگا جس سے انکار کی گنجائش شاید نہیں ہے لیکن ملک کی معروضی صورتحال اور سودی نظام کی وسیع تر تباہ کاریوں کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ قوم کو اس فیصلے کی توقع نہیں تھی تو یہ بات بے جا نہ ہوگی۔ سودی نظام قرآن و سنت سے متصادم، دستوری تقاضوں سے انحراف، اور بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی واضح ہدایات کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور اب تو اس کی تباہ کاریوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ جن مغربی اقوام و ممالک کی پیروی میں ہم نے سودی معیشت کو اختیار کر رکھا ہے وہ خود اس سے نجات کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے بلاسود بینکاری کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ لندن اور پیرس جیسے معاشی مراکز غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے بے چین ہیں اور روسی پارلیمنٹ میں اسلامی معیشت کو اپنانے کے لیے قرارداد پیش ہو چکی ہے۔ اس فضا میں ہمارا حال یہ ہے کہ ملک میں رائج سودی قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں واضح طور پر دستور کے منافی قرار دیے جانے کے باوجود ان سے پیچھا چھڑانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ سودی معیشت کے پیدا کردہ معاشی تفاوت اور اقتصادی لوٹ کھسوٹ نے ملک کے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ مگر گزشتہ دو عشروں سے ہماری عدالتوں میں سودی قوانین کے حوالہ سے آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے اور ہم سود کو لعنت قرار دیتے ہوئے بھی اس کا جوا اپنی گردن سے اتارنے کے لیے عملاً تیار نہیں ہیں۔

کرپشن اور سودی نظام ہماری معاشی بیماریوں اور مشکلات کی اصل جڑ ہیں لیکن قومی سیاست کے ماحول میں کرپشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں ان کے ساتھ سودی نظام کی خباثتوں کو شامل کرنے سے خدا جانے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو سودی نظام کی تباہ کاریاں کرپشن کی ہلاکت خیزیوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں، لیکن سب کچھ جانتے ہوئے ہمارے بہت سے سیاستدان سودی نظام کے بارے میں کلمۂ حق کہنے میں حجاب محسوس کرتے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں سودی نظام سے متعلقہ تمام امور اور مباحث بار بار زیر بحث آچکے ہیں اور ان کے بارے میں ماہرین کی آراء کے علاوہ ملک کی رائے عامہ کے حوالہ سے یہ رپورٹ بھی سب کے سامنے ہے کہ اٹھانوے فیصد عوام سودی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لیے انہی مباحث کو پھر سے موضوع بحث بنانے اور بنائے رکھنے کی کوئی وجہ اس کے سوا سمجھ نہیں آرہی کہ کسی طرح مزید وقت گزر جائے اور سودی نظام کی خونخوار جونکوں کو قومی معیشت کا خون زیادہ سے زیادہ چوس لینے کا موقع فراہم ہو جائے۔

ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو عدالتی پراسیس کے حوالہ سے درست سمجھ لیتے ہیں لیکن ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑا حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ اس سے متفق ہے تو ہمیں بھی اس پر اعتراض نہیں ہے۔ لیکن جس طرح عسکری دہشت گردی ملک کے لیے تباہ کن ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اور طریق کار کو ضروری سمجھا گیا ہے اسی طرح سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے جس کے بغیر نہ تو قومی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوئی صورت نظر آتی ہے اور نہ ہی کرپشن کے خاتمہ کی مہم میں کامیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ملک کے معاشی نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرنا ہے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو اس کے لیے دیگر ضروری اقدامات کے علاوہ سودی نظام کا خاتمہ بھی اس کا ناگزیر تقاضہ ہے جس سے ہمارے قومی اداروں کو صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت کے معاشی قوانین، غیر سودی معیشت اور خلافت راشدہ کی طرز کی رفاہی ریاست ہماری اصل قومی ضروریات ہیں جو سودی نظام و قوانین کے ماحول سے نکل کر ہی پوری کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ دستور کی محافظ اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی عدالت عظمیٰ سے ہم یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں ’’روٹین ورک‘‘ سے ہٹ کر بھی اس مسئلہ کا جائزہ لے گی اور قوم کو سودی نظام کی لعنت سے نکالنے کے لیے کردار ادا کرے گی۔