تحفظ حقوق نسواں بل اور اسلامی نظریاتی کونسل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ دسمبر ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت اجلاس میں ’’تحفظ نسواں بل‘‘ کی حمایت کی ہے اور اسے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کوئی باقاعدہ رائے قائم نہیں کی البتہ انہوں نے اور کونسل کے بعض ارکان نے ذاتی طور پر صدر جنرل پرویز مشرف کو اس بل کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے۔ اس کے بعد بھی اس نوعیت کی کوئی خبر اخبارات میں نہیں آئی کہ حکومت نے ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ اسلامی نظریاتی کونسل کو رائے کے لیے بھجوایا ہے یا اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل پر غور کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ اجلاس منعقد کیا ہے۔

ہمارے خیال میں اس سارے خلا کو پر کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس براہ راست صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں منعقد کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ لیکن کیا اس طرح کونسل کسی مسئلہ کے لیے رائے دینے کے حوالے سے ان اخلاقی اور قانونی تقاضوں کو ’’کور‘‘ کر سکے گی جو آئینی اور قانونی طور پر اس عمل کے لیے ضروری ہیں؟ ہمارے خیال میں کونسل نے یہ طرز عمل اختیار کرکے اپنی پوزیشن کو مزید مشکوک بنا لیا ہے کیونکہ کونسل میں جو چند ارکان علمائے دین ہیں وہ پہلے ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں اور جو باقی ہیں انہیں بل پر معمول کے مطابق غور کا موقع دیے بغیر صدر مملکت کے سامنے بٹھا کر ان کی تائید حاصل کر لی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کو یہ وضاحت جاری کرنا پڑی ہے کہ وہ کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن چونکہ ان کا استعفٰی ابھی منظور نہیں ہوا اس لیے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اس اجلاس میں شریک ہوئے ہیں جو صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں منعقد ہوا، البتہ غامدی صاحب نے اجلاس کے دوران تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی، گویا اجلاس میں ان کی شرکت کا تعلق بل سے نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف کی صدارت سے تھا اس لیے وہ اجلاس میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر واپس آگئے ہیں۔

اس پس منظر میں تحفظ حقوق نسواں بل کی حمایت میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو حکمران طبقہ اپنے لیے مفید سمجھ رہا ہے تو اسے اس سمجھنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارے خیال میں اس مشکوک حمایت نے حکومت کے موقف کو پہلے سے بھی زیادہ کمزور کر دیا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی نظریاتی کونسل کی اس رائے اور سفارشات کو ایک نظر دیکھ لیا جائے جو ’’حدود آرڈیننس‘‘ کا مسودہ طے کرنے کے لیے کونسل نے ۱۹۷۹ء میں پیش کی تھیں تو دونوں مواقع کا فرق واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے طویل اجلاسوں میں مسودہ قانون کی ایک ایک شق پر تفصیلی غور کیا تھا، ملک کے سرکردہ علماء کرام اور ماہرین قانون سے مشاورت کا اہتمام کیا تھا اور دیگر مسلم ممالک کے علمائے کرام بالخصوص شام کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر محمد معروف الدوالیبی کو بھی پاکستان تشریف آوری کی زحمت دی گئی تھی اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد ان سفارشات کی منظوری دی گئی تھی جن پر حدود آرڈیننس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مگر موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ان سارے مراحل سے گزرنے کی زحمت سے بچا لیا گیا ہے اور ’’سلوک‘‘ کے سارے منازل ’’قرب‘‘ کی ایک ہی جست میں طے کر کے تحفظ حقوق نسواں بل کو سند جواز فراہم کر دی گئی ہے۔ ہم ارباب فکر و دانش کو دعوت دیتے ہیں کہ ان دونوں مواقع یعنی ۱۹۷۹ء میں حدود آرڈیننس کے مسودہ کی ترتیب کے لیے اس وقت کی اسلامی نظریاتی کونسل کی علمی و فقہی تگ و دو، اور تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سنجیدگی اور محنت کا موازنہ کر لیں۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ حدود آرڈیننس کی بنیاد کس قدر سنجیدہ علمی محنت پر تھی اور تحفظ حقوق نسواں بل کے لیے بحث و مباحثہ اور تحقیق و تجزیہ کی کیا صورت اختیار کی گئی ہے۔

بہرحال اسلامی نظریاتی کونسل نے تحفظ حقوق نسواں بل کو عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی طرف اہم قدم قرار دے کر اپنی رائے دے دی ہے جبکہ دوسری طرف ملک کے تمام دینی حلقے اور علمی مراکز دوسری طرف کھڑے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دینی اور علمی طور پر چار مکاتب فکر تسلیم کیے جاتے ہیں: (۱) دیوبندی (۲) بریلوی (۳) اہل حدیث (۴) اور اہل تشیع۔ حکومت بھی جب کسی مسئلہ پر اہل دین کی رائے چاہتی ہے تو ان مکاتب فکر کو مسلمہ قرار دے کر ان کی نمائندگی کا اہتمام کرتی ہے اور پرائیویٹ طور پر جب کسی مسئلہ پر اجتماعی دینی رائے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ان مکاتب فکر کی نمائندگی کو ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ان مکاتب فکر کی مسلمہ اور معروف علمی و دینی قیادتیں موجود ہیں جن پر امت دینی معاملات میں اعتماد کرتی ہے اور جب کسی مسئلہ پر ان مکاتب فکر کے ذمہ دار رہنما مل بیٹھ کر کوئی رائے دیتے ہیں تو اسے دینی حلقوں کی اجتماعی رائے سمجھا جاتا ہے۔ اور جب ان مکاتب فکر کے رہنما کسی مسئلہ پر متحد ہو جاتے ہیں تو قوم یہ تصور کر لیتی ہے کہ دینی حلقے متحد ہوگئے ہیں۔

ان زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو صورتحال یہ ہے کہ ان مکاتب فکر کی علمی و دینی قیادتیں الگ الگ طور پر بھی اور مجتمع ہو کر بھی واضح رائے دے چکی ہیں کہ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ اپنے مقاصد اور بعض مشتملات دونوں حوالوں سے قرآن و سنت سے متصادم ہے اور اس پر ہر مکتب فکر کے ممتاز اہل علم کی تفصیلی نگارشات اخبارات میں قوم کے سامنے آچکی ہیں۔ ۲۷ نومبر کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں سب مکاتب فکر کے قائدین نے جمع ہو کر اجتماعی طور پر یہ رائے دی ہے جبکہ جامعہ نعیمیہ لاہور کے اجتماع میں بریلوی مکاتب فکر کے زعماء نے اس رائے کی تائید کی ہے اور اہل حدیث مکتبہ فکر کی ممتاز علمی شخصیات نے تحفظ حقوق نسواں بل کا بالتفصیل تنقیدی جائزہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اہل تشیع کے علمی رہنماؤں نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے کنونشن میں بھرپور وفد کی صورت میں شریک ہو کر اس اجتماعیت کی حمایت کی ہے اور الگ طور پر بھی وہ اس موقف کی مسلسل تائید کر رہے ہیں۔ اس کے بعد موجودہ صورتحال کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ پورے ملک کے اہل دین ایک طرف ہیں جبکہ حکومت اپنے بل اور موقف کی حمایت میں کسی معروف اور مسلمہ مذہبی مکتب فکر کی کسی ممتاز شخصیت کو سامنے نہیں لا سکی اور ایسے دانشوروں کا سہارا تلاش کر رہی ہے جو قرآن و سنت کو من مانی تشریحات کے ذریعے حکمرانوں کے مطلوبہ معانی پہنا کر انہیں یہ تسلی دے سکیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ قرآن و سنت کی منشا کے مطابق ہے اور ملک بھر کے علمائے کرام بلاوجہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں اس صورتحال کا اکبر بادشاہ کے دور سے موازنہ کر لیا جائے تو اسے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کو بھی یہ خیال سوجھا تھا کہ دین و شریعت کی پرانی تعبیر و تشریح کو ختم کر کے ایسی نئی تعبیر و تشریح اختیار کی جائے جو مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی قابل قبول ہو اور دین کے تصور کو محدود رکھنے کی بجائے وسیع تر مفہوم میں پیش کیا جائے۔ مغل اعظم نے اپنے اس خیال کو عملی اور قانونی شکل دے دی تھی اور اسی نوعیت کی بہت سی اصلاحات حکومتی طاقت کے زور سے نافذ کر دی تھیں جس طرح کی اصلاحات اب ’’روشن خیالی‘‘ کے عنوان سے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ارباب علم و دانش اگر آج کی روشن خیالی کے عملی ایجنڈے اور جلال الدین اکبر کی اصلاحات کا موازنہ کریں تو انہیں کچھ زیادہ فرق دکھائی نہیں دے گا۔ ان اصلاحات کو حکومتی طاقت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور طاقت کے بل پر انہیں نافذ کیا گیا تھا لیکن چونکہ عام مسلمانوں کے معتقدات اور دینی رجحانات سے ان اصلاحات کی مطابقت نہیں تھی اس لیے جلال الدین اکبر کے تمام تر جاہ و جلال اور حکومت و قانون کی تمام تر قوت کے باوجود اکبر بادشاہ کی یہ اصلاحات ایک نسل سے آگے نہ بڑھ سکیں اور ایک مرد درویش حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں علمائے حق کی جدوجہد کے سامنے اکبر کے دین الٰہی کو سپرانداز ہونا پڑا تھا۔ دینی علم رکھنے والے بہت سے دانشور اکبر بادشاہ کے ساتھ بھی تھے جنہیں اس کے درباری ہونے کا شرف حاصل تھا اور وہ اکبر بادشاہ کی اصلاحات کو درست ثابت کرنے کے لیے اسی طرح کے دلائل اور تاویلات پیش کرتے تھے لیکن ایسی باتوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ پانی میں زور سے پتھر پھینکیں تو وقتی طور پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور پانی کی سطح پر لہریں کچھ دیر تک حرکت بھی کرتی رہتی ہیں لیکن جلد ہی نارمل پوزیشن پر واپس آجاتی ہیں۔ دین کے حوالے سے اس امت کی نارمل پوزیشن وہی ہے جس پر یہ امت چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے، اس میں روشن خیالی کا کوئی پتھر پھینک کر وقتی ارتعاش تو پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن کیا اس طرح کی حرکتوں سے امت کو اس کی نارمل دینی پوزیشن سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ اب تک کی تاریخ کا جواب اس کی نفی میں ہے۔