مجوزہ نجی شرعی عدالتیں ۔ اہمیت اور امکانات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء

پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کی ضرورت اور اس کے لیے اس سے قبل کی جانے والی مساعی کے بارے میں چند معروضات گزشتہ کالموں میں پیش کر چکا ہوں۔ اور آج اس حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے عالمی اور قومی تناظر میں اس کی اہمیت و ضرورت اور امکانات کی کیا صورتحال ہے اور اگر ہم آج کے ماحول میں اس کارِ خیر کی شروعات کرنا چاہیں تو وہ کس طرح کی جا سکتی ہے؟ پہلے ان مساعی پر ایک سرسری نظر پھر سے ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس سے قبل اس سلسلہ میں سامنے آچکی ہیں۔

  • ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نتیجے میں پورے برصغیر میں فرنگی استعمار کے تسلط اور مسلمانوں کے شرعی عدالتی نظام کے خاتمے کے بعد جب نئے دور کے آغاز کے طور پر دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں لایا گیا تو دارالعلوم کے احاطہ میں ہی شرعی عدالت قائم کر کے مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کو قاضی مقرر کیا گیا جو اس وقت کے حالات اور امکانات کے دائرے میں مسلمانوں کے مقدمات و تنازعات کا شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرتے رہے۔
  • بھارت کے صوبہ بہار میں جمعیۃ علماء ہند کی تحریک پر حضرت مولانا ابوالمحاسن سجادؒ کی امارت میں ’’امارت شرعیہ‘‘ کے عنوان سے پرائیویٹ شرعی عدالت قائم کی گئی، ان کے بعد مولانا منت اللہ رحمانیؒ اور مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ بطور ’’امیر شریعت‘‘ اس کام کو چلاتے رہے اور اب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اس منصب پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ صوبہ بہار کی یہ امارت شرعیہ اپنے قیام سے لے کر اب تک نہ صرف قائم و موجود ہے بلکہ بہار کے مسلمانوں کو تمام ممکنہ دائروں میں شرعی فیصلوں کی سہولت مسلسل فراہم کر رہی ہے۔
  • بھارت کے دیگر صوبوں اور علاقوں میں بھی یہ نظام کام کر رہا ہے جبکہ ۱۹۸۰ء میں مختلف مقامات پر کام کرنے والی ان پرائیویٹ شرعی عدالتوں کو کل ہند سطح پر منظم کرنے کے لیے دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر مولانا اسعد مدنیؒ کی قیام گاہ پر علماء کے ایک بھرپور اجلاس میں محدث جلیل مولانا حبیب الرحمان اعظمیؒ کو کل ہند سطح پر امیر شریعت اور مولانا سید اسعد مدنیؒ کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا تھا اور بھارت کے مختلف علاقوں میں متفرق طور پر ہونے والے اس کار خیر کو ملکی سطح پر منظم کرنے کی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا۔
  • پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام نے مولانا مفتی محمودؒ کی تحریک پر انہی کی سربراہی میں ۱۹۷۵ء میں پورے ملک میں پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے قواعد و ضوابط اور طریق کار طے کر کے قومی، صوبائی اور اضلاع کی سطح پر قاضیوں کا تقرر بھی کر لیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بنا پر، جن کا ذکر ایک سابقہ کالم میں کر چکا ہوں، یہ کام عملاً آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔
  • امریکہ اور جنوبی افریقہ میں خاندانی نظام اور مالیاتی معاملات کے حوالے سے مسلمانوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں ان کے تنازعات و مقدمات کے تصفیے کی سہولت فراہم کرنے کا نظام موجود ہے جبکہ امریکہ میں ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے نام سے اور جنوبی افریقہ میں ’’مسلم جوڈیشیل کونسل‘‘ کے نام سے کام کرنے والے اس نظام کو وہاں کے ملکی قانون میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔
  • برطانیہ میں مسلمانوں کو ان کے خاندانی اور مالیاتی معاملات میں شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلوں کا حق دلانے کی جدوجہد جاری ہے۔ حتٰی کہ مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے بھی اس بات کی حمایت کی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے خاندانی اور مالیاتی معاملات میں ان کی شریعت کے مطابق فیصلوں کا حق فراہم کرنے کے لیے امریکہ کی طرح برطانیہ کے عدالتی نظام میں بھی گنجائش پیدا کی جائے اور تازہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے چیف جسٹس نے بھی آرچ بشپ آف کنٹربری کے اس موقف کی تائید کر دی ہے۔

اس کے ساتھ آج کی معروضی صورتحال میں پاکستان کے اندر یہ کام متفرق طور پر جس انداز میں ہو رہا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

ملک بھر میں دیہات میں قبائل اور برادریوں کے دائروں میں پنچایت اور جرگہ کے ذریعے لوگوں کے مقدمات و تنازعات کے فیصلے کیے جا رہے ہیں، اگرچہ ان فیصلوں کی بنیاد شریعت نہیں بلکہ علاقائی اور قبائلی روایات اور رواجات ہوتے ہیں لیکن ملکی قانونی نظام سے ہٹ کر پرائیویٹ طور پر تنازعات کے فیصلوں کا یہ نظام ملک بھر میں جاری و ساری ہے۔ پیشہ وارانہ تنظیموں بالخصوص تاجر تنظیموں اور صنعتی گروپوں میں شہری سطح پر بھی یہ سسٹم موجود ہے اور اس سے ملک بھر میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی مدارس کے دارالافتاء بھی محدود سطح پر یہ کام کر رہے ہیں اور جس تنازع میں دونوں فریق کسی دارالافتاء سے رجوع کرتے ہیں اس میں دارالافتاء صرف فتوٰی دینے کی بجائے ثالث کے طور پر تصفیہ کرانے کی خدمت بھی انجام دیتے ہیں۔

ان دائروں سے ہٹ کر بھی ملک کے مختلف حصوں میں بہت سے لوگ اپنے تنازعات باقاعدہ عدالتوں میں لے جانے کی بجائے ثالثوں کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں ایسے تنازعات بھی ہوتے ہیں جن کے فیصلے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ بعض تنازعات میں ملکی عدالتیں بھی فریقین کو ثالثی کے ذریعے مسئلہ حل کرانے کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ بعض مقدمات میں تو عدالت کی طرف سے ثالث مقرر بھی کر دیے جاتے ہیں۔ ملکی عدالتوں میں تنازعات و مقدمات کے فیصلوں میں بے حد تاخیر اور مسلسل اخراجات کے باعث َعام لوگوں بالخصوص سرحد و بلوچستان کے علاقوں میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں سستے اور جلد انصاف کی سہولت فراہم کی جائے جو ظاہر ہے کہ شریعت اسلامیہ کے قانون و نظام کے ذریعے ہی مہیا کی جا سکتی ہے۔

ان حالات میں راقم الحروف کا خیال ہے کہ پرائیویٹ شرعی عدالتوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے اور ان کے امکانات کا دائرہ بھی پہلے سے زیادہ وسیع ہے لیکن اس سلسلہ میں کچھ خدشات اور تحفظات بھی موجود ہیں جن کی طرف بعض دوستوں نے میرے گزشتہ کالم پڑھ کر توجہ دلائی ہے اور خود میرے ذہن میں بھی وہ موجود ہیں، مثلاً:

  • موجودہ حالات میں ایسی کوئی تحریک شروع کرنے سے اسے ملکی عدالتی نظام کے مقابلہ میں کوئی متوازی نظام قائم کرنے کی تحریک سمجھا جائے گا اور اسٹیبلشمنٹ اسے آگے نہیں بڑھنے دے گی۔
  • کسی ایک مسلک یا جماعت کی طرف سے یہ کام شروع کرنے پر جماعتی معاصرت اور مسلکی عصبیت یقیناً سامنے آئے گی جس سے یہ کار خیر مثبت اور مؤثر طور پر آگے بڑھنے کی بجائے مقابلہ بازی اور خلفشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور اگر مقابلہ بازی میں مختلف جماعتوں اور مسالک کی طرف سے اس قسم کے اعلانات شروع ہوگئے تو اچھی خاصی دھماچوکڑی کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
  • پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے پاس قوتِ تنفیذ نہ ہونے کے باعث کوئی بھی فریق ان کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے اور مفاد پرستی کے اس دور میں اس کا امکان بہت زیادہ ہے جس سے بعض صورتوں میں ضیاعِ ایمان کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے لوگوں کو اس خطرے اور امتحان میں ڈالنا شاید مناسب نہ ہو۔

یہ اور اس قسم کے دیگر خدشات ایسے نہیں ہیں جنہیں نظر انداز کر دیا جائے۔ لیکن خدشات اور تحفظات کو کسی کار خیر کے آغاز میں رکاوٹ قرار دے دینا بھی درست نہیں ہوگا بلکہ ان کا کوئی ایسا مناسب حل تلاش کرنا ہوگا کہ ان خطرات کی شدت کو کم سے کم کرتے ہوئے ہم سوسائٹی کی اس ضرورت کو پورا کرنے اور ایک دینی ذمہ داری کی تکمیل کا کوئی عملی راستہ نکال سکیں۔ اس لیے موجودہ حالات میں میری رائے یہ ہے کہ:

  • کسی دینی یا سیاسی جماعت کی طرف سے اس کام کا اعلان نہ کیا جائے اور صرف ان تنازعات و مقدمات کو بنیاد بنایا جائے جن میں سرکار فریق نہیں ہوتی۔
  • نہ صرف اعلانات سے بلکہ عملی طور پر بھی یہ بتایا جائے کہ یہ نظام موجودہ عدالتی نظام کے حریف کے طور پر نہیں بلکہ اس کے معاون کے طور پر کام کرے گا، اس سے عدالتی سسٹم پر کام کا بوجھ کم ہوگا اور عام لوگوں کو سستا اور جلد انصاف مہیا ہوگا۔
  • صرف وہ مقدمات لیے جائیں جن میں فریقین درخواست کریں اور ان سے باقاعدہ قانونی طور پر ثالثی نامہ لکھوایا جائے تاکہ کسی فریق کے فیصلہ کے بعد منحرف ہونے کا امکان باقی نہ رہے۔
  • دینی مدارس کے دارالافتاء غیر رسمی طور پر ثالثی کے فرائض سرانجام دینے کی بجائے اسے اپنے باقاعدہ پروگرام کا حصہ بنائیں اور دارالافتاء کے ساتھ ساتھ اسے ’’شرعی ثالثی بورڈ‘‘ کا درجہ دے کر اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ ہر دارالافتاء کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ فتوٰی کی طرح ثالثی فیصلہ بھی اپنے فقہی مذہب کے مطابق کرے گا۔
  • جبکہ دینی مدارس کے وفاق اپنے مشترکہ فورم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کے ذریعے ایک مشترکہ ضابطۂ اخلاق طے کر کے اس کی پابندی کی خود نگرانی کریں۔ اس طرح مسلکی مقابلہ بازی کے خطرہ کو کم کیا جا سکتا ہے اور کام کو مؤثر طریقہ سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
  • مساجد کو بھی اس کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ جس طرح ہمارے تبلیغی دوست مسجد کے اعمال کا ذکر کرتے ہیں اور انہیں زندہ کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں، مسجد کے ان اعمال میں لوگوں کے تنازعات کو نمٹانا بھی سنت نبویؐ ہے۔ اگر مسجد کے روز مرہ کے معمولات میں یہ بھی شامل کر لیا جائے کہ مسجد کی سطح پر اسی کے مسلک کے مطابق ایک شرعی مصالحتی کمیٹی قائم کی جائے جو اپنی مسجد کے نمازیوں کے حالات پر نظر رکھے اور کوئی تنازعہ یا جھگڑا ہو تو اسے اسی سطح پر نمٹانے کے لیے کردار ادا کرے۔ البتہ اس صورت میں باہمی رابطہ اور نگرانی کے لیے یا تو دینی مدارس کے وفاقوں کے نظام سے وابستگی اختیار کی جائے اور یا شہری سطح پر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ نگران بورڈ قائم کیا جائے جو ان ’شرعی مصالحتی عدالتوں کی نگرانی کا طریق کار طے کرے۔

میرا خیال ہے کہ اگر بالکل نچلی اور عام سطح پر مقابلہ بازی اور چیلنج کا ماحول پیدا کیے بغیر ابتدا میں چند مقامات میں ہی سہی، اس کام کو شروع کر کے صبر و تحمل کے ساتھ کچھ عرصہ تک اسے چلایا جا سکے تو نہ صرف ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنے تنازعات شریعت اسلامیہ کے مطابق حل کرانے کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے بلکہ حکومت کو بھی مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے عمومی عدالتی نظام کو شریعت اسلامیہ کے فطری اور سادہ اصولوں پر ازسرنو استوار کرے۔