صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ جنوری ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
’’برکت حسین اوباما‘‘

باراک حسین اوباما نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے اور امریکہ کی قومی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ وہ سیاہ فام آبادی جسے آج سے پون صدی پہلے تک امریکہ میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا اس کا نمائندہ آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے اور محاورہ کی زبان میں امریکہ کے سیاہ و سفید کا مالک کہلاتا ہے۔ باراک حسین اوباما کا باپ حسین ہے جو مسلمان تھا اور کینیا سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اس کی ماں مسیحی خاتون تھی۔ ماں اور باپ کی علیحدگی کے بعد باراک حسین ماں کے ساتھ رہا اور اسی کے مذہب پر اس کی پرورش ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ باراک حسین اوباما نے انڈونیشیا میں اپنی فیملی کے قیام کے دوران کسی مسجد میں اسلام کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ باراک کی ماں پاکستان میں بھی رہی ہے اور ایک خبر کے مطابق اس نے گوجرانوالہ میں ورلڈ بینک کے کسی پراجیکٹ میں پانچ سال تک کام کیا ہے۔ لیکن اب نئے صدرِ امریکہ کی ماں اور باپ دونوں دنیا میں موجود نہیں ہیں البتہ باراک نے اپنے نام کے ساتھ ’’حسین‘‘ کا نام وابستہ رکھ کر اور انجیل پر عہدہ صدارت کا حلف اٹھا کر ان دونوں نسبتوں کا اظہار کر دیا ہے۔

باراک کا لفظ خود صدر باراک کی وضاحت کے مطابق برکت کے معنٰی میں ہے اور اگر ہم اپنی زبان میں اس کا تلفظ کریں گے تو یہ ’’برکت حسین‘‘ بنے گا۔ اس تلفظ کے حوالے سے مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا ہے کہ چند سال قبل واشنگٹن میں جہاں سابق امریکی صدر جیفرسن کی یادگار ہے اس کے بارے میں ایک دوست نے بتایا کہ ہمارے کچھ پاکستانی دوست واشنگٹن کی سیر کو نکلے اور مختلف تاریخی مقامات کو دیکھا تو ایک صاحب نے پوچھا کہ کیا جعفر حسین کے مزار پر نہیں جانا؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے ہاں بعض دوست چین کے سابق وزیر اعظم چو این لائی کو چودھری نور الٰہی کا مخفف کہا کرتے تھے۔ لیکن یہ جعفر حسین اور اور چودھری نور الٰہی تو تکلف یا تفنن طبع کی بات ہے مگر باراک حسین واقعتاً برکت حسین ہیں اور ’’حسین‘‘ کی نسبت نے نئے امریکی صدر کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکہ کی سیاہ فام آبادی کو جسے اب سے صرف پون صدی قبل نہ صرف یہ کہ ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا بلکہ انہیں سفید فام لوگوں کے ساتھ برابر کا شہری بھی تصور نہیں کیا جاتا تھا، ان کے اسکول الگ تھے، ہسپتال الگ تھے، ہوٹلوں میں ان کے ٹیبل الگ تھے، بسوں اور ٹرینوں میں ان کی سیٹیں الگ تھیں اور بہت سے شہروں میں تو ان کے چرچ آج بھی گوروں سے الگ ہیں۔ کروڑوں افراد پر مشتمل اس آبادی کو برابر کے امریکی شہری کا حق دلانے کی جدوجہد کا سہرا مارٹن لوتھر کنگ کے سر ہے جس نے اب سے پون صدی قبل یہ نعرہ لگایا تھا کہ ہم امریکہ کے برابر کے شہری ہیں اور ہمیں بھی وہی حقوق ملنے چاہئیں جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ نسلی امتیاز کے خاتمے اور کالوں کو برابر کے حقوق دلوانے کی اس جدوجہد کو مارٹن لوتھر کنگ نے ہندوستان کے مہاتما گاندھی کی تحریک کی طرز پر عدم تشدد کے اصول پر آگے بڑھایا اور تشدد اور جذباتیت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے سیاسی، اخلاقی اور قانونی جدوجہد کرتے ہوئے ۱۹۶۴ء میں اپنی منزل حاصل کر لی۔

مجھے امریکہ کے شہر برمنگھم (الاباما) اور اٹلانٹا (جیارجیا) میں مارٹن لوتھر کنگ کی تحریک اور جدوجہد کے تاریخی مقامات دیکھنے کا موقع ملا ہے اور اس تحریک کی پاداش میں سیاہ فاموں پر روا رکھے جانے والے تشدد اور بربریت کے وہ مظاہر بھی میں نے دیکھے ہیں جنہیں یادگار کے طور پر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اٹلانٹا میں مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں جو میوزیم بنایا گیا ہے وہاں گیا تو اس کے صحن میں مہاتما گاندھی کا ایک بڑا مجسمہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا کہ گاندھی جی کا یہاں کیا کام؟ لیکن جب اس کے نیچے لکھی ہوئی عبارت کا ترجمہ کرایا تو معلوم ہوا کہ مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی اس تحریک میں نہ صرف گاندھی کو آئیڈیل کی حیثیت دے رکھی تھی بلکہ تحریک شروع کرنے سے پہلے اس نے بھارت جا کر گاندھی کی تحریک آزادی کو اسٹڈی بھی کیا تھا اور امریکہ واپس آکر انہیں خطوط پر اپنی تحریک کو منظم کیا تھا۔ مارٹن لوتھر کنگ کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی تحریک میں جلد اور شاندار کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ ہم نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا اور سیاسی، جمہوری، اخلاقی اور قانونی راستوں سے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ چنانچہ ۱۹۶۴ء کے دوران واشنگٹن میں مارٹن لوتھر کنگ کی قیادت میں لاکھوں سیاہ فاموں کی پر امن ریلی کے بعد اسے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے مذاکرات کے لیے وائٹ ہاؤس بلایا اور کینیڈی کے دور میں ہی کانگریس نے وہ تاریخی بل پاس کیا جس میں امریکہ کی سیاہ فام آبادی کو برابر کے شہری تسلیم کرتے ہوئے نسلی امتیاز کے تمام نشانات ختم کرنے اور سیاہ فاموں کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دراصل مارٹن لوتھر کنگ ہی کی کامیابی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اس نے مذاکرات کے ذریعے ووٹ کا جو حق حاصل کیا تھا اس ووٹ نے صرف پینتالیس برس کے بعد باراک حسین اوباما کو امریکی صدر کے طور پر وائٹ ہاؤس میں پہنچا دیا ہے۔

امریکہ میں سیاہ فاموں کو منظم کرنے کی ایک اور تحریک بھی شروع ہوئی جس کے بانی ماسٹر فارد محمد تھے، ان کے بعد اس کی قیادت نبوت کے ایک جھوٹے مدعی ایلیج محمد نے سنبھالی۔ اس تحریک کا مقصد بھی سیاہ فام آبادی کو منظم کرنا بیان کیا جاتا تھا اور اس نے بہت حد تک سیاہ فام آبادی میں بیداری بھی پیدا کی لیکن اس کی بنیاد نفرت کے جذبہ پر تھی جسے ایلیج محمد نے باقاعدہ عقیدہ کی حیثیت دے رکھی تھی کہ سیاہ فام حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں جبکہ گورے شیطان کی نسل سے ہیں، اس نے اس نفرت کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا اور جھوٹی نبوت کا ٹائٹل اختیار کیا اور مسلسل ۱۹۷۵ء تک اپنے اس منفی اور جذباتی موقف کی ترجمانی کرتا رہا۔ اب گوروں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر جھوٹی نبوت کے ٹائٹل کے ساتھ اس تحریک کی قیادت لوئیس فرخان کے ہاتھ میں ہے۔

بہرحال اس پس منظر میں باراک حسین اوباما نے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے تو تاریخ کے اس اہم موڑ پر امریکی معاشرہ کی اس اہم تبدیلی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس تبدیلی کا اس پہلو سے بہرحال خیر مقدم ہی کیا جانا چاہیے۔ لیکن کیا امریکہ کی قومی سیاست میں یہ انقلابی تبدیلی عالمی صورت حال اور خاص طور پر عالم اسلام کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ ہمارے خیال میں اس کا مثبت جواب اتنی آسانی سے نہیں دیا جا سکتا جتنی توقعات ہمارے بعض حلقوں نے باراک حسین اوباما سے وابستہ کرلی ہیں، کیونکہ اس تبدیلی سے یہ ضرور ہوا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر امریکہ بلکہ پوری دنیا پر حکومت کرنے والی شخصیت کا رنگ تبدیل ہو گیا ہے لیکن رنگ کی یہ تبدیلی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کی غماز نہیں ہے۔ اس لیے کہ امریکی صدر کے دنیا کے طاقت ور ترین حکمران ہونے کے باوجود امریکی پالیسیاں اداروں کے ذریعے طے ہوتی ہیں اور ان اداروں کی پشت پر جو اصل ادارے ’’تھنک ٹینکس‘‘ کے طور پر پالیسیاں وضع کرتے ہیں اور وہ لابیاں جو ان تھنک ٹینکس کی طے کردہ پالیسیوں کو مجاز اداروں سے منظور کرانے کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر متحرک رہتی ہیں، وہ وہی ہیں جو گورے صدروں کے دور میں تھیں بلکہ جو صدر بش کے دور میں تھیں۔ ادارے بھی وہی ہیں، لابیاں بھی وہی ہیں، امریکی مفادات بھی وہی ہیں، امریکی قوم کی نفسیات بھی وہی ہے، میڈیا بھی وہی ہے اور اسے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے خفیہ ہاتھ بھی وہی ہیں۔ اس لیے امریکہ کی بین الاقوامی پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع کرنا خود کو فریب میں مبتلا کرنے والی بات ہوگی۔

البتہ عالم اسلام کی دینی تحریکات کو اس انقلابی تبدیلی کے اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ امریکہ کی سیاہ فام آبادی نے برابر کے شہری کا حق حاصل کرنے کے مطالبہ سے لے کر امریکہ کی صدارت تک پہنچنے کے یہ مراحل پون صدی کے دوران جس طرح پرامن، عدم تشدد پر مبنی اور سیاسی و اخلاقی جدوجہد کے ذریعے طے کیے ہیں، کیا ہم اس تجربہ سے فائدہ اٹھانے پر غور کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں؟

درجہ بندی: