دینی مدارس ۔ کردار اور توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ نومبر ۲۰۰۸ء

۲۳ نومبر کو ادارہ علوم اسلامی بارہ کہو اسلام آباد کے سالانہ اجتماع میں حاضری کا موقع ملا، اس موقع پر دورۂ حدیث سے فارغ ہونے والے طلبہ اور حفاظ کی دستار بندی کے علاوہ مختلف امتحانات میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ ادارہ مولانا فیض الرحمان عثمانی کی سربراہی میں کئی برسوں سے مصروف عمل ہے اور اس کا امتیاز یہ ہے کہ درس نظامی کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول و کالج کی بھی معیاری تعلیم دی جاتی ہے اور اس ادارے کے طلبہ سالہا سال سے اسلام آباد کے وفاقی تعلیمی بورڈ کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ سالانہ جلسہ تقسیم انعامات میں مولانا قاری سعید الرحمان، مولانا پیر عزیز الرحمان ہزاروی، مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور، مولانا ظہور احمد علوی اور ادارہ کے سربراہ مولانا فیض الرحمان عثمانی کے خطابات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی معروضات پیش کیں، ان معروضات کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم ایک دینی درسگاہ کے سالانہ اجتماع میں جمع ہیں اور میں اس صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دینی مدارس کے نظام کے حوالہ سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ میری گفتگو دو نکات کے بارے میں ہوگی۔ ایک یہ کہ ان مدارس نے مسلم معاشرہ میں اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ آج کے ماحول اور تناظر میں ان مدارس سے امت کے اہل خیر مزید کیا توقع کر رہے ہیں؟

ان مدارس کے موجودہ نظام کی عمر کم و بیش ڈیڑھ سو برس پر محیط ہے۔ دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مراد آباد اور مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری آف بنگلہ دیش اس سسٹم کے ابتدائی مدارس ہیں۔ انہیں مدارس کے موجودہ نظام میں ’’السابقون الاولون‘‘ کی حیثیت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان مدارس کا آغاز کرنے والوں کے خلوص اور محنت میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ ابھی ڈیڑھ سو برس مکمل نہیں ہوئے مگر آج جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما کا کوئی علاقہ اس قسم کے مدارس کے وجود سے خالی نہیں ہے اور مجموعی طور پر ان کی تعداد کو صحیح طور پر شمار کرنا بھی اب بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان مدارس نے اپنی ایک سو چالیس سالہ یا کم و بیش ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں مسلم معاشرہ کی کیا خدمات سرانجام دی ہیں ان کو میں ایک ترتیب کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا۔

جس دور میں ان مدارس نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا میں پوری قوت کے ساتھ یہ آواز لگ رہی تھی کہ اب انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات کی ضرورت نہیں رہی، وحی الٰہی اور پیغمبروں کی تعلیمات کا دور گزر چکا ہے، اس کی ضرورت اس وقت تھی جب انسانی سوسائٹی ابھی بالغ نہیں ہوئی تھی بلکہ ارتقا کے مراحل طے کر رہی تھی اس لیے اسے ہدایات اور ڈکٹیشن کی ضرورت تھی، اب سوسائٹی بالغ ہوگئی ہے اور ارتقا کے آخری مراحل میں ہے اس لیے وہ خود اپنے فیصلے کر سکتی ہے اور اپنا نفع نقصان خود اچھی طرح سمجھتی ہے۔ اس بنیاد پر وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے بے دخل کر دیا گیا اور پوری دنیا کے سامنے یہ دعوت رکھی گئی کہ اب انسانی معاشرہ کو خود اپنی اجتماعی سوچ کے مطابق فیصلے کر نے چاہئیں اور وحی الٰہی سے بے نیاز ہو جانا چاہیے۔

  1. ان مدارس نے پہلا کام یہ کیا کہ اس دعوت کو مسترد کر دیا اور انسانی سوسائٹی کے اجتماعی اور معاشرتی معاملات میں آسمانی تعلیمات کی عملداری اور وحی الٰہی کے ساتھ انسانی سوسائٹی کی کمٹمنٹ کو باقی رکھنے کا اعلان کیا جو ان مدارس کا سب سے اہم اور بنیادی کام ہے۔ ان مدارس نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ پورے دنیائے اسلام میں عام مسلمان کا وحی الٰہی کے ساتھ تعلق اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ اس کی کمٹمنٹ قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
  2. دوسرے نمبر پر ان مدارس نے یہ کیا کہ آسمانی تعلیمات یعنی قرآن و سنت کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی اور تعلق باقی رکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تعبیر نو اور تشکیل نو کے اس تصور کو بھی مسترد کر دیا کہ جس طرح یورپ میں مسیحیت کی روایتی تعبیرات اور بائبل کی تشریح میں چرچ کی اتھارٹی کو مسترد کر کے بائبل کی تعبیر و تشریح کو عقل عام (کامن سینس) کے حوالے کر دیا گیا تھا، اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں علماء کرام کی اتھارٹی اور اسلامی تعلیمات کے روایتی ڈھانچے کو مسترد کر کے اسلامی تعلیمات کی تشکیل نو کا راستہ اختیار کریں اور قرآن کریم کو عقل عام یعنی کامن سینس کے ذریعے سمجھتے ہوئے اسلامی احکام و قوانین کا نیا ڈھانچہ تشکیل دیں۔ ان مدارس نے اس سوچ کو قطعی طور پر رد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی اس تعبیر و تشریح کو، جس کی بنیاد سنت رسولؐ اور تعامل صحابہ کرامؓ پر ہے اور جو امت میں توارث و تواتر کے ساتھ چلی آرہی ہے، باقی رکھا اور تمام مسلمانوں کے اس توارث و تواتر کے ساتھ تعلق کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل محنت کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متعدد حلقوں کی مسلسل کاوشوں کے باوجود آج بھی امت مسلمہ کی غالب اکثریت قرآن و سنت اور تعامل صحابہ کرامؓ کے ساتھ ساتھ امت کے ماضی کے متوارث علمی ورثہ کے ساتھ بے لچک وابستگی رکھتی ہے اور مسلمانوں میں مارٹن لوتھر کی طرز پر اسلامی احکام و قوانین کی تشکیل نو کی آواز اٹھانے والوں کو ابھی تک کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ چنانچہ مدارس کے کردار کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی احکامات و تعلیمات کے حوالہ سے امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق اور وابستگی قائم رکھی ہوئی ہے۔
  3. دینی مدارس کے موجودہ نظام کی کارکردگی کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کو صرف نظری طور پر باقی نہیں رکھا بلکہ ان علوم اور فنون کو بھی پوری طرح موجود و قائم رکھا ہوا ہے جن کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، بلکہ وہ علوم و فنون بھی جو وحی الٰہی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں ان مدارس نے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ ہزاروں مدارس و مکاتب میں ان علوم کی تعلیم ہوتی ہے، تدریس ہوتی ہے، ان علوم پر کتابیں تحریر کی جاتی ہیں، ان کی تشریحات ہوتی ہیں اور مختلف ذریعوں سے امت تک انہیں پہنچایا جاتا ہے۔
  4. مدارس کی کارکردگی کا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ان علوم و فنون کو نسل در نسل منتقل کر رہے ہیں۔ ان مدارس کا آغاز ہوا تو پہلی پشت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور ان کے معاصرین کی تھی، دوسری پشت میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے معاصرین تھے، تیسری پشت میں حکیم الامت تھانویؒ، علامہ سید انور شاہ کشمیری، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے معاصرین تھے، چوتھی پشت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ اور ان کے معاصرین پر مشتمل تھی، جبکہ پانچویں پشت میں ہم جیسے گناہ گار شمار ہوتے ہیں۔ میں معیار کی بات نہیں کرتا کہ ہم لوگ اپنے ان بزرگوں کی خاک پا بھی نہیں ہیں لیکن تسلسل کی بات ضرور کروں گا کہ کام جاری ہے، علوم و فنون نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں اور بحمد اللہ تعالیٰ ہر قدم پر دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
  5. پانچویں نمبر پر میں ان مدارس کی کارکردگی کے حوالے سے اس بات کا ذکر کروں گا کہ انہوں نے صرف علوم و فنون کو باقی نہیں رکھا بلکہ ان پر عملدرآمد کا ماحول بھی قائم رکھا ہوا ہے۔ دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں میں اور تعلیمی اداروں میں بیسیوں ایسے علوم پڑھائے جاتے ہیں جو کتابوں میں تو موجود ہیں اور ان کی تعلیم و تدریس بھی ہوتی ہے لیکن سوسائٹی میں عملی طور پر وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ یہ مدارس جو کچھ پڑھاتے ہیں ان پر سوسائٹی میں عمل بھی ہوتا ہے اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل کا ماحول بھی ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کو اسلامی تعلیمات و احکام پر عملدرآمد کے حوالہ سے مدارس سے متعلقہ ماحول کا مسلم دنیا ہی کے دوسرے ماحول سے جو فرق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے وہ اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔
  6. دینی مدارس کی کارکردگی کے چھٹے نکتہ کے طور پر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ان مدارس نے دینی تعلیمات کے تحفظ، انہیں نسل در نسل منتقل کرنے اور ان پر عملدرآمد کا ماحول قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ’’کوالٹی‘‘ بھی باقی رکھی ہوئی ہے۔ کوالٹی سے میری مراد یہ ہے کہ یہ ڈاڑھی، پگڑی، سادہ لباس، سادہ خوراک، سادہ رہن سہن اور زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا ماحول اور فضا آپ کو جنوبی ایشیا کے ان دینی مدارس کے سوا عالم اسلام میں عام طور پر نہیں ملے گی اور یہ ان مدارس کا امتیازی کردار ہے۔
  7. ان مدارس کی خدمات کا ساتواں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے دینی علوم کے تحفظ و ترویج کے ساتھ ساتھ ان کے دفاع کا مورچہ بھی سنبھالا ہوا ہے۔ ایمان و عقیدہ، احکام و قوانین اور آداب و اخلاق کے جس شعبے میں اسلامی تعلیمات و روایات کو کسی طرف سے بھی چیلنج کیا گیا اس کے مقابلہ میں یہی مدارس سامنے آئے ہیں۔ توحید و سنت کی بات ہو، حدیث و سنت کی حجیت کا معرکہ ہو، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا میدان ہو، صحابہ کرامؓ کے ناموس کے تحفظ کا مسئلہ ہو یا فقہاء و محدثین اور ان کے کارناموں کا دفاع ہو، آپ کو ہر شعبہ میں انہی دینی مدارس کی صف بندی نظر آئے گی اور دین اسلام کے کسی بھی شعبہ پر جس کسی نے کوئی حملہ کیا ہے اسے ان مدارس کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ باتیں تو وہ ہیں جو میں نے ان مدارس کی نمایاں خدمات کے طور پر بیان کی ہیں اور یہ مفروضات نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں جو ہر شخص کو کھلے بندوں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے بعد میں ان توقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ان مدارس کی ڈیڑھ سو سالہ کارکردگی دیکھتے ہوئے اہل خیر نے ان سے وابستہ کر لی ہیں اور ان سے ان کا مسلسل تقاضا کیا جا رہا ہے۔میں نے اہل خیر کی توقعات کا ذکر کیا ہے، ان مدارس سے کچھ تقاضے اور توقعات اہل شر کے بھی ہیں، میں ان کی بات نہیں کر رہا اس لیے کہ وہ تو سرے سے ان مدارس کو ختم کر دینے یا ان کے دینی اور معاشرتی کردار و تشخص کو تحلیل کرنے کے درپے ہیں۔ ان کے جواب میں تو ہم ایک ہی بات کیا کرتے ہیں کہ یہ مدارس قائم رہیں گے اور وہی کردار بدستور ادا کرتے رہیں گے جس کے لیے ان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ دنیا کی کوئی طاقت ان مدارس کو ان کے وجود، کردار، امتیاز اور تشخص سے محروم نہیں کر سکتی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ البتہ اہل خیر کے تقاضوں اور توقعات کا تذکرہ ضرور کروں گا اور انہیں تین حصوں میں بیان کرنا چاہوں گا۔

  1. قیام پاکستان کے بعد جب اسلامی نظام کے نفاذ کو اس نئی ریاست کا ہدف قرار دیا گیا تو ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے رجال کار کی فراہمی اور موجودہ بیوروکریسی اور عدلیہ کو نفاذ اسلام کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری اصلاً ریاستی تعلیمی اداروں کی تھی اور یہ کام انہی کو کرنا چاہیے تھا۔ لیکن چونکہ ریاستی تعلیمی ادارے یہ کام نہیں کر رہے اور موجودہ حالات میں ان سے اس کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی اس لیے نفاذ شریعت اور شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے خواہشمند حلقوں نے یہ توقع دینی مدارس سے وابستہ کر رکھی ہے کہ وہ دین کی تعلیم اور دفاع کے ساتھ ساتھ ان کی تنفیذ و ترویج کے تقاضے بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کریں اور مختلف شعبوں کے لیے رجال کار کی تیاری کو اپنے پروگرام کا حصہ بنائیں۔
  2. دینی مدارس سے ان کے بہی خواہ حلقوں کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے اسلامی عقائد، احکام اور روایات کے تحفظ و دفاع کا فریضہ سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں اور جنوبی ایشیا میں جو فتنہ بھی دین کے حوالے سے اٹھا ہے انہوں نے اس کا مقابلہ کیا ہے، لیکن اب اس تناظر میں وسعت پیدا ہوگئی ہے اس لیے علاقائی منظر سے اوپر اٹھ کر انہیں آج کے عالمی تناظر میں اس مقصد کے لیے نئی صف بندی کرنی چاہیے۔ اسلام کے عقائد اور اس کے احکام و قوانین کے بارے میں عالمی سطح پر جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں اور اسلام کی منفی تصویر کشی کی جا رہی ہے، اس کا جواب دینا اور اسلامی تعلیمات کو صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ایک اہم دینی ضرورت ہے جس کے لیے ظاہر ہے کہ لوگوں کی نظریں دینی مدارس ہی کی طرف اٹھتی ہیں اور لوگ بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ دینی مدارس اس ضرورت کو اپنے پروگرام اور اہداف میں شامل کریں گے۔
  3. دینی مدارس سے اہل خیر کی تیسری توقع یہ ہے کہ دین کی دعوت، دفاع، تبلیغ اور تعلیم میں آج کے عالمی تناظر، جدید اسلوب، نفسیات اور ہر طبقہ کے لوگوں کی ذہنی سطح کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس میں آج کی مروجہ زبانوں کی مہارت بھی شامل ہے، آج کے اسلوب کو سمجھنا بھی اس کا حصہ ہے اور عام لوگوں کی نفسیات اور ذہنی سطح سے واقف ہو کر اس کے مطابق ہر سطح پر گفتگو کی صلاحیت پیدا کرنا بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ہر زمانے کا اپنا اسلوب ہوتا ہے اور ماحول کے بدلنے سے نفسیات بھی بدلتی رہتی ہیں، اس کو آج کی زبان میں فریکونسی سیٹ کرنا کہتے ہیں، اگر فریکونسی سیٹ نہ ہو یعنی لوگوں سے ان کی زبان میں، ان کی ذہنی سطح کے مطابق اور زمانے کے مروجہ اسلوب میں بات نہ کی جائے تو پیغام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

حضرات محترم! میں نے آج کے عالمی تناظر اور علاقائی ماحول میں دینی مدارس کی خدمات پر بات کی ہے اور ان سے ان کے بہی خواہ حلقوں کی توقعات کا ذکر کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد ان ضروریات اور تقاضوں سے بے خبر نہیں ہیں لیکن زمانہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہم اس کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے، اس بات کا لحاظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ان گزارشات کے ساتھ میں ادارہ علوم اسلامی کی مسلسل پیشرفت اور حوصلہ افزا نتائج پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فیض الرحمان عثمانی اور ان کے رفقاء کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں اپنے نیک مقاصد میں مزید کامیابیوں، ثمرات و نتائج اور قبولیت و رضا سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔