دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۸ء

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں، تفصیل کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر سے منسلک ضلع بھر کی ۱۸۶ سماجی تنظیموں میں سے ۸۰ این جی اوز کے سربراہان کی جانب سے ڈیٹا بھجوا دیا گیا جبکہ ۱۰۵ سماجی تنظیموں کے مالکان نے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جس پر محکمہ سوشل ویلفیئر انتظامیہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی ہے، واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی سماجی تنظیموں کے سربراہان کے اکاؤنٹس میں ۱۰ کروڑ کے فنڈز کے بارے میں غیر تسلی بخش جواب دینے کی وجہ سے کاروائی کے لیے ڈی جی سوشل ویلفیئر نے احکامات جاری کیے تھے لیکن کاروائی ابھی تک التوا کا شکار ہے، اسی طرح ۱۸۔۲۰۱۷ء میں بیرونی امداد کے آڈٹ کے لیے اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا لیکن سماجی تنظیموں کے سربراہان کی طرف سے انکار پر کاروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، اس موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر حکام نے ’’دنیا‘‘ کو بتایا کہ فنڈز کی تفصیل نہ بھجوانے پر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘‘

غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے حوالہ سے یہ صرف ایک ضلع کی صورت حال ہے جس سے پورے ملک میں پھیلے ہوئے این جی اوز کے وسیع جال اور سرگرمیوں کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تنظیمیں عوامی تعاون اور غیر ملکی امداد کے ساتھ سے معاشرہ میں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی خدمات کے حوالہ سے کام کرتی ہیں اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے ہاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں جو ان کے حسابات کی نگرانی کرتا ہے اور آمد و خرچ کے معاملات کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہے۔

ملک بھر میں پھیلی ہوئی ایسی ہزاروں این جی اوز غیر ملکی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے جو تعاون حاصل کرتی ہیں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً مختلف سطحوں پر تحفظات کا اظہار ہوتا چلا آرہا ہے جن میں سے ایک بات تو یہی ہے کہ آمد و خرچ میں توازن نہیں ہے اور بہت سی رقم اصل مقصد کی بجائے غیر ضروری مدّات میں خرچ ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری بات ہمیشہ یہ سامنے آتی ہے کہ بہت سی این جی اوز سماجی اور تعلیمی مقاصد سے ہٹ کر پاکستان کی داخلی قومی و دینی پالیسیوں کے بارے میں منفی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں اور خاص طور پر بین الاقوامی سیکولر لابیوں کی سرپرستی میں خاندانی نظام کے اسلامی احکام اور مشرقی تہذیب کی اقدار و روایات کو کمزور کرنے کی کوششوں میں ملوّث دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی تازہ مثال اسی قسم کی ایک این جی او کا اخبارات میں شائع ہونے والا یہ مطالبہ ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ووٹوں کا مسلمانوں کی فہرست میں شمار کیا جائے ورنہ ان کے نزدیک انتخابات منصفانہ شمار نہیں ہوں گے۔ جبکہ قادیانیوں کے ووٹوں کا شمار پاکستان کا خالصتاً داخلی دستوری اور قانونی معاملہ ہے جس کا غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح متعدد این جی اوز دستور پاکستان کی اسلامی دفعات، ملک میں نافذ چند شرعی قوانین، تحفظ ناموسِ رسالتؐ کے قانون اور نکاح و طلاق کے قرآنی احکامات کے خلاف بھی نفرت پھیلانے میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہیں۔

پنجاب کے ایک سابق صوبائی وزیر پیر محمد بنیامین رضوی مرحوم نے اپنی وزارت کے دور میں اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا تھا اور این جی اوز کا اس حوالہ سے باقاعدہ تعاقب شروع کیا تھا، مگر وہ اسے جاری نہ رکھ سکے اور پھر کسی نامعلوم دشمن کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی ایک موقع پر اس کی کوشش کی تھی مگر وہ اس میں پیش رفت نہ کر سکے اور معاملہ جوں کا توں جاری رہا۔

ایک طرف تو یہ صورت حال ہے کہ ہزاروں این جی اوز سماجی خدمات کے نام پر غیر ملکی امداد حاصل کرتی ہیں مگر اس کا حساب نہیں دے پاتی بلکہ ملک کے دستور و نظریہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف سرگرم عمل رہتی ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کے بارے میں ریاستی اداروں کی چابکدستی اور تیز رفتار کاروائیوں پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے جو عام لوگوں کی امداد کے ساتھ معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کرتے، دینی ماحول کو باقی رکھتے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی شاندار روایات کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں ، ہمارے ریاستی اداروں کی مجموعی پالیسی اب تک مسلسل یہ چلی آرہی ہے کہ:

  • دینی مدارس اپنے آزادانہ تعلیمی کردار سے دست بردار ہو کر خود کو ریاستی اداروں کے حوالہ کر دیں اور اپنے معاشرتی تعلیمی و دینی ایجنڈے سے دستبردار ہوجائیں۔
  • ان مدارس کو مبینہ طور پر غیر ملکی ذرائع سے ملنے والی رقوم سے محروم رکھا جائے جو بہت زیادہ نہیں ہوتیں اور جو تھوڑی بہت ہوتی ہیں وہ غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کی بجائے بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔
  • ملک کے اندر اپنے عوام کی طرف سے دینی مدارس کو مہیا کی جانے والی امداد کے راستے بھی بند کیے جائیں اور انہیں ان ذرائع آمدنی سے محروم کر دیا جائے جس کی ایک مثال چند سالوں سے عید الاضحیٰ کے موقع پر چرم ہائے قربانی کی مدارس کو فراہمی کے سلسلہ میں اختیار کی جانے والی حکومتی پالیسی ہے کہ:
    • مدارس کے منتظمین کو جو اکثر علاقہ کے سرکردہ علماء کرام ہوتے ہیں اجازت نامہ کے نام پر دفتروں کے بار بار چکر لگوا کر ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔
    • چرم قربانی بھی قربانی کے گوشت کی طرح قربانی کرنے والے کا حق ہے کہ وہ جس شخص یا ادارے کو چاہے دے مگر اسے اس حوالہ سے پابند کر کے ایک شرعی اور جائز حق سے محروم کر دیا جاتا ہے جس کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسے سرکاری طور پر یہ پابندی لگا دی جائے کہ قربانی کا گوشت ڈی سی کی اجازت کے بغیر کسی کو نہ دیا جائے یا کوئی شخص سرکاری اجازت کے بغیر کسی سے قربانی کا گوشت وصول نہ کرے۔
    • اس مقصد کے لیے متعلقہ سرکاری محکمے عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران بھی اس قدر چوکنا ہوتے ہیں کہ فوری کاروائی، چھاپے اور گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
    • اس کے علاوہ بھی دینی مدارس کے خلاف مختلف النوع کاروائیاں سال بھر جاری رہتی ہیں اور ایک طرح سے ان پر خوف و ہراس کی فضا ہر وقت مسلّط رکھنے کو مستقل حکومتی پالیسی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

ہماری اس گزارش کو عملی طور پر دیکھنا ہو تو قارئین ابھی اگلے ماہ عید الاضحی کے موقع پر کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ کروڑوں روپے کی غیر ملکی امداد کوئی حساب دیے بغیر ہضم کرنے والی این جی اوز کے خلاف کاروائی کے احکامات تو ایک سال سے معرض التوا میں پڑے ہوئے ہیں مگر اپنے ہی محلہ میں اپنے ہی شاگردوں اور نمازیوں سے قربانی کی کھال وصول کرنے والے مدارس کے خلاف کاروائی اس تیز رفتاری اور بے رحمی سے ہو گی کہ یوں لگے گا جیسے ملک کی مقدس سرحد پر کسی دشمن نے حملہ کر دیا ہے اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس قدر فوری ایکشن ناگزیر ہو گیا ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دورِ اقتدار میں ایک بین الاقوامی فورم پر کہا تھا کہ دینی مدارس ملک کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں جو لاکھوں شہریوں کو مفت تعلیم، رہائش ، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہیں ، مگر معاشرہ میں دینی تعلیم اور اسلامی ماحول قائم رکھنے کے لیے محنت کرنے والے دینی مدارس اور غیر ملکی امداد کے ساتھ اسی معاشرہ میں دینی تعلیم، تہذیب اور اسلامی معاشرتی اقدار کے خلاف کام کرنے والی ہزاروں این جی اوز کے بارے میں حکومتی اداروں کا یہ متضاد طرز عمل اور دوہرا معیار بھی سامنے رکھیں، کیا ہمارے قومی سطح کے پالیسی ساز ادارے ملک کے دستور و قانون اور اپنے ہی دین و ثقافت کے ناگزیر تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرز عمل پر نظر ثانی کی کوئی صورت نکال سکیں گے؟