اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ اکتوبر ۲۰۱۷ء

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیے گئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی پر مشتمل اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے انکوائری کے دوران بہت سے دیگر قومی اور دینی مسائل کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کے خدوخال کو بھی موضوع بحث بنایا تھا اور سرکردہ علماء کرام سے اس سلسلہ میں متنوع سوالات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس وقت ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح کی عدلیہ کا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے بارے میں تصور کیا تھا۔ آج کل بعض حلقوں کی طرف سے اسلامی ریاست کے تصور کو جس طرح مبہم اور مخدوش بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کے پیش نظر جسٹس محمد منیر مرحوم اور جسٹس کیانی مرحوم کا یہ تبصرہ خصوصی طور پر توجہ کا طالب ہے۔

’’چونکہ اسلامی شریعت کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ الہام الہیٰ اور رسول پاک کے اقوال و افعال خطا سے پاک ہیں، لہٰذا قرآن اور سنت کے احکام و قوانین انسان کے وضع کردہ قوانین سے بالاتر ہیں۔ اور ان دونوں کے تصادم کی صورت میں آخر الذکر کو (بلا لحاظ اپنی نوعیت کے) اول الذکر کے آگے سرجھکا دینا چاہیے۔ اس طرح اگر کسی مسئلے کے متعلق قرآن یا سنت میں کوئی ایسا حکم موجود ہو جو ہمارے تصور کے مطابق قانون دستوری یا قانون بین الاقوامی کے دائرے میں آتا ہو تو اس صورت میں اس حکم کو نافذ کرنا چاہیے۔ سوائے اس حالت کے کہ خود وہ حکم انحراف کی اجازت دیتا ہو۔ یعنی شریعت اسلامی میں قانون دستوری اور دوسرے قانون کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں بلکہ جتنے قوانین قرآن اور سنت میں پائے جاتے ہیں وہ مملکت کی مسلمان رعایا کے لیے قانون ملکی ہی کا ایک حصہ ہیں۔ اسی طرح اگر قرآن یا سنت میں کوئی ایسا حکم ہو جو دوسری مملکتوں کے ساتھ مملکت کے تعلقات، یا مملکت کی مسلمان رعایا اور دوسری مملکتوں یا ان مملکتوں کی رعایا کے درمیان روابط سے تعلق رکھتا ہو تو اس حکم کا نفاذ بھی اتنا ہی لازمی ہوگا جتنا قرآن یا سنت کے دوسرے احکام کا نفاذ ضروری ہے۔

لہٰذا اگر پاکستان اسلامی مملکت ہے یا اس کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنانے کا ارادہ ہے تو اس کے دستور میں ذیل کی پانچ دفعات ضرور ہونی چاہئیں:

  1. تمام قوانین جو قرآن و سنت میں موجود ہیں، مسلمانوں کے لیے قانون ملکی کا ایک حصہ متصور ہوں گے اور اسی حیثیت سے نافذ کیے جائیں گے۔
  2. دستور کی کوئی دفعہ جو قرآن یا سنت کے منافی ہوگی وہ اپنے منافی ہونے کی حد تک کالعدم سمجھی جائے گی۔ سوائے اس حالت کے کہ دستور خود اجماع امت کے ماتحت وضع کیا گیا ہو، یعنی مسلمہ مرتبے کے علماء اور مجتہدین کے اتفاق رائے سے تیار ہوا ہو۔
  3. سوائے اس حالت کے کہ پاکستان کے موجودہ قوانین کو مذکورہ بالا قسم کے اجماع امت کی منظوری حاصل ہو جائے، موجودہ قانون کی کوئی دفعہ جو قرآن یا سنت کے منافی ہوگی وہ اپنے منافی ہونے کی حد تک کالعدم سمجھی جائے گی۔
  4. کسی آئندہ قانون کی کوئی دفعہ جو قرآن و سنت کے منافی ہوگی کالعدم سمجھی جائے گی۔
  5. بین الاقوامی قانون کا کوئی قاعدہ اور کسی ایسے میثاق یا معاہدے کی کوئی دفعہ (جس کے فریقوں میں پاکستان بھی شامل ہوگا) اگر قرآن یا سنت کے خلاف ہوگی تو پاکستان کے کسی مسلمان پر اس کی پابندی واجب نہ ہوگی۔

علماء نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اگر پاکستان میں اصولِ اسلامی کے مطابق حکومت قائم کی گئی تو اس کی شکل جمہوری نہیں ہوگی۔ ہم ابھی قرآن و سنت کی حاکمیت کے عقیدے کی وضاحت کر چکے ہیں۔ قراردادِ مقاصد میں جب یہ اظہار کر دیا گیا کہ تمام حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے تو گویا اس موقف کو صحیح طور سے تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن جب اس قرارداد کے واضعین نے یہ بیان کیا کہ ایک آزاد و خودمختار مملکت کے لیے دستور تیار کیا جائے گا جس میں اسلام کے سکھائے ہوئے اصول جمہوریت پوری طرح مدنظر رکھے جائیں گے، تو انہوں نے خودمختار اور جمہوریت دونوں لفظوں کا غلط استعمال کیا۔ ہو سکتا ہے کہ جس سیاق و سباق میں انہوں نے یہ لفظ استعمال کیے اس میں ان لوگوں نے اس کا مطلب غلط نہ سمجھا ہو جو اسلامی اصولوں کے ماہر ہیں۔ لیکن یہ دونوں لفظ مغربی فلسفۂ سیاست سے مستعار لیے گئے تھے اور ان معنوں میں دونوں کا استعمال اس قرارداد میں غلط طور سے کیا گیا تھا۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں ملک آزاد و خودمختار ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے باشندے یا اس کا کوئی دوسرا گروہِ افراد حق رکھتا ہے کہ اپنے ملک کے نظم امور کو جس طریقے سے چاہے چلائے، اور اس میں ضرورت اور پالیسی کے سوا دوسرے مصالح بالکل حائل نہ ہوں۔ لیکن ایک اسلامی مملکت اس مفہوم میں آزاد و خودمختار نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کو قرآن و سنت کے کسی قانون کو منسوخ یا ترمیم یا ترک کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ کسی مملکت کے اختیارِ قانون سازی کو قطعاً محدود کر دینا اس مملکت کے لوگوں کی آزادی و خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔ اور اگر اس تحدید کا ماخذ ارادۂ عوام کے سوا کوئی اور ہو تو جس حد تک یہ تحدید عائد کی جائے گی اسی حد تک اس مملکت اور اس کے باشندوں کی حاکمیت لازماً کم ہو جائے گی۔

اسلامی مملکت میں حاکمیت اپنے قانونی مفہوم کے اعتبار سے صرف اللہ ہی کی ذات کو حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جمہوریت کا مطلب ’’جمہور کی حکومت‘‘ ہے خواہ یہ حکومت براہ راست ان کے ہاتھ میں ہو جیسے یونان و روما میں تھی، یا وہ اپنے منتخب نمائندوں کی وساطت سے حکومت کریں جیسے زمانۂ حاضر کی جمہوریتوں میں رواج ہے۔ اگر دستور کے وضع کرنے، قوانین کے بنانے اور انتظامی کاروائی کے دائرے میں جمہور کا اختیار بعض ناقابل تبدیل احکام و قواعد کے ماتحت ہو تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جو قانون چاہیں منظور کر سکتے ہیں، یا انتظامی وظائف کی بجا آوری میں اپنے منشا کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی اسلامی مملکت میں مقننہ ایک قسم کا اجماع بھی ہو تو عوام اس میں حصہ لینے سے قطعی طور پر محروم ہوں گے کیونکہ فقہ اسلامی میں اجماع امت صرف مسلمہ حیثیت کے علماء و مجتہدین تک محدود ہے اور جمہوریت کی طرح یہ حق عوام تک ہرگز نہیں پہنچتا۔ ‘‘

یہ 1953ء کے دور کی بات ہے، اس کے بعد پاکستان کی اسلامی ریاست کے دستور و قانون کی تشکیل کا عمل کئی مراحل سے گزر کر 1973ء کے دستور کی شکل میں اس کا اب تک کا آخری ڈھانچہ اس وقت ملک میں نافذ ہے جس کے بہت سے پہلوؤں پر لبرل اور سیکولر حلقوں کے علاوہ متعدد بین الاقوامی اداروں اور لابیوں میں بھی بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا مقصد اس تناظر میں ملک کی عدالت عظمیٰ کے دو نامور ججوں جسٹس محمد منیر مرحوم اور جسٹس کیانی مرحوم کے نقطۂ نظر کو سامنے لانا ہے جس سے اس مباحثہ میں بہت حد تک راہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔