حضرت سعد بن عبادہؓ اور بیعتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ ‒ سرسید احمد اور جہادِ آزادی ‒ نشہ اور جنازہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۱۹۹۰ء

سوال: عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا تھا اور پھر آخر دم تک اپنے اس انکار پر قائم رہے تھے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (محمد معاویہ، کراچی)

جواب: جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انصارِ مدینہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے جانشینِ رسولؐ کے طور پر حضرت سعد بن عبادہؓ کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ بیعت کی تیاری ہو رہی تھی کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے صورتحال کو تدبر کے ساتھ سنبھال لیا۔ چنانچہ بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کرنے پر اتفاق رائے ہوئے گیا اور تمام حاضرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔

تاریخ کی بعض روایات میں آتا ہے کہ اس موقع پر حضرت سعد بن عبادہؓ نے بیعت سے انکار کر دیا تھا لیکن یہ روایات درست نہیں ہیں کیونکہ مشہور مؤرخ طبریؒ نے جہاں انکار کی روایات نقل کی ہیں وہاں ایک روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں ’’فتتابع القوم وبایع سعد‘‘ کہ حاضرین نے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر لگاتار بیعت کی اور سعدؓ نے بھی بیعت کی۔ اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ مسند احمد میں سند صحیح کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے اپنے خطاب کے دوران جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا حوالہ دیا کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ حکمران قریش میں سے ہوں گے تو حضرت سعد بن عبادہؓ نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا ’’فانتم الامراء ونحن الوزراء‘‘ پس تم امیر ہو گے اور ہم تمہارے وزیر ہوں گے۔ اس لیے بیعت صدیق اکبرؓ سے حضرت سعد بن عبادہؓ کے انکار کی روایات درست نہیں ہیں اور صحیح بات یہی ہے کہ دوسرے صحابہ کرامؓ کے ساتھ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔

سوال: ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی میں سر سید احمد خان کا کردار کیا تھا؟ (حافظ محمد علی صدیقی، لیہ)

جواب: ۱۸۵۷ء میں سر سید احمد خان ضلع میرٹھ میں سرکاری ملازم تھے اور انہوں نے جہادِ آزادی کے دوران مسلمانوں کے خلاف انگریزی حکومت کا ساتھ دیا۔ سر سید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کے معرکۂ حریت پر ’’اسباب بغاوتِ ہند‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں اپنے بارے میں ایک انگریز افسر مسٹر جان کری کرافٹ کے مندرجہ ذیل ریمارکس نقل کیے ہیں:

’’تم ایسے نمک حلال نوکر ہو کہ تم نے اس نازک وقت میں بھی سرکار کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اور باوجود کہ بجنور کے ضلع میں ہندو اور مسلمانوں میں کمال عداوت تھی اور ہندوؤں نے مسلمانوں کی حکومت کو مقابلہ کر کے اٹھایا تھا، جب ہم نے تم کو اور رحمت خان صاحب بہادر ڈپٹی کلکٹر کو ضلع سپرد کرنا چاہا تو تمہاری نیک خصلت، اچھے چال چلن اور نہایت طرفداری سرکار کے سب ہندوؤں نے جو بڑے رئیس اور ضلع میں نامی چودھری تھے، سب نے کمال خوشی اور نہایت آرزو سے تم مسلمانوں کا اپنے پر حاکم بنانا قبول کیا، بلکہ درخواست کی کہ تم ہی سب ہندوؤں پر ضلع میں حاکم بنائے جاؤ۔ اور سرکار نے بھی ایسے وقت میں تم کو اپنا خیرخواہ اور نمک حلال نوکر جان کر کمال اعتماد سے سارے ضلع کی حکومت تم کو سپرد کی اور تم اسی طرح وفادار اور نمک حلال نوکر سرکار کے رہے۔ اس کے صلے میں اگر تمہاری ایک تصویر بنا کر پشت ہا پشت کی یادگاری اور تمہاری اولاد کی عزت اور فخر کو رکھی جاوے تو بھی کم ہے۔‘‘ (ص ۱۹۲)

یہ تو انگریزی حکام کے تاثرات ہیں۔ اور جہاد ۱۸۵۷ء کے بارے میں جس میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، حافظ ضامن شہید، مولانا سرفراز علی شہید، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا عبد القادر لدھیانوی، جنرل بخت خان اور سردار احمد خان کھرل رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے مجاہدین شریک ہوئے، سر سید احمد خان کے اپنے تاثرات کیا تھے۔

’’غور کرنا چاہیے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے کہ بخدا شراب نوشی، تماش بینی اور ناچ رنگ دیکھنے کے کچھ دریغ ان کا نہ تھا، یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے کہے جا سکتے تھے۔ اس ہنگامہ میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہ ہوئی۔ سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا، ملازمین سے نمک حرامی کرنی مذہب کی رو سے درست نہ تھی۔ صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کا مذہب کے موجب گناہِ عظیم تھا، پھر یہ ہنگامۂ غدر کیونکر جہاد ہو سکتا تھا۔ ہاں البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کو بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔ پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقع میں جہاد۔‘‘ (ص ۹۳)

سوال: جو شخص نشہ کی حالت میں مر جائے اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ (عبد اللطیف، گوجرانوالہ)

جواب: نشہ کرنا خواہ وہ کسی چیز سے ہو حرام ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’کل مسکر حرام‘‘ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نشہ کرنے والا شخص کبیرہ گناہ کا مرتکب اور فاسق ہے لیکن اس سے کافر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اسی حالت میں مر گیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اسی نوعیت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امداد الاحکام جلد اول ص ۲۵ میں لکھتے ہیں کہ:

’’شراب کے نشہ میں مرنے سے ایمان زائل نہیں ہوتا، ایمان کفر سے زائل ہوتا ہے اور یہ فعل کفر نہیں بلکہ معصیت کبیرہ ہے۔ پس یہ شخص مسلمان ہے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، البتہ زجر و توبیخ کے لیے عالم مقتدا اور امام جامع مسجد اس کی نماز نہ پڑھے، عام مسلمان نماز پڑھ کر دفن کر دیں۔ اگر بدون نماز کے دفن کیا گیا تو سب گنہگار ہوں گے۔‘‘